اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریں30دسمبرتک کرپٹ قانون کےشکنجےمیں ہوںگے،شیخ رشید سیاستدان پیچھے نہیں ..

30دسمبرتک کرپٹ قانون کےشکنجےمیں ہوںگے،شیخ رشید

سیاستدان پیچھے نہیں آگے کی طرف دیکھتا ہے، اب ہمیں صدرمملکت کے انتخاب کی تیاری کرنی چاہیے۔ میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔17 اگست 2018ء): عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ 30دسمبر تک شریف خاندان کے حواری قانون کے شکنجے میں ہوں گے،سیاستدان پیچھے نہیں آگے کی طرف دیکھتا ہے،اب ہمیں صدرمملکت کے انتخاب کی تیاری کرنی چاہیے۔انہوں نے وزیراعظم کے انتخاب کیلئے قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج عمران خان ملک کے نئے وزیراعظم بننے جارہے ہیں۔

سیاستدان پیچھے کی طرف نہیں بلکہ آگے کی طرف دیکھتا ہے۔تاہم اب ہمیں ملک کے نئے صدر کے بارے بھی سوچنا ہے۔انہوں نے کہا کہ 120دنوں میں 30دسمبر تک بہت سارے کرپٹ افراد قانون کے شکنجے میں ہوں گے۔ ان کرپٹ افراد میں نوازشریف کے حواری اور بہت سے نئے چہرے جوسیاست میں ہیں یہ سب قانون کے شکنجے میں ہوں گے۔

(خبر جاری ہے)

انہوں نے ایک سوال ”کہ آپ اپنے آپ کوکس پوزیشن پردیکھ رہے ہیں؟“ کے جواب میں کہا کہ اللہ کوپتا ہے میں بہت اچھی پوزیشن میں ہوں۔

دوسری جانب الیکشن 2018ء کے بعد آج ملک کے 22ویں وزیراعظم کا انتخاب کیا جائے گا۔جس کیلئے پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہوگیا ہے۔ پارلیمنٹ میں تحریک انصاف عددی لحاظ سے بڑی جماعت ہے، پی ٹی آئی نے عمران خان کووزارت عظمیٰ کا امیدوار نامزد کررکھا ہے۔ اسی طرح دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ ن ہے ، ن لیگ نے وزارت عظمیٰ کیلئے شہبازشریف کو نامزد کررکھا ہے۔

خفیہ رائے شماری کے ذریعے تحریک انصاف نے اپنا اسپیکر قومی اسمبلی اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی منتخب کروا لیا ہے۔آج قومی اسمبلی میں پاکستان کے 22ویں وزیراعظم کیلئے انتخاب ہوگا۔تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی میں ان کے پاس 180سے زائد نمبرز موجود ہیں۔جبکہ اپوزیشن اتحاد میں وزیراعظم کے امیدوار کی نامزدگی کے معاملے پر دراڑ پڑ گئی ہے۔

پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے شہبازشریف کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔جس پر مسلم لیگ ن کواب پیپلزپارٹی کے ووٹ نہیں ملیں گے۔تاہم قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تواوپوزیشن کے نامزد وزیراعظم شہبازشریف جب ایوان میں آئے اور اپنی نشست پر بیٹھنے کیلئے قائد ایوان کی نشست کے پاس پہنچے تونامزد وزیراعظم عمران خان نے ان سے اپنی نشست سے اٹھ آگے بڑھ کرمصافحہ کیا۔اس موقع پرعمران خان اور شہبازشریف کے درمیان چند جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں