اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںبلاول بھٹو کے خطاب نے ذولفقار بھٹو اور بینظیر بھٹو کی یاد دلا دی قومی ..

بلاول بھٹو کے خطاب نے ذولفقار بھٹو اور بینظیر بھٹو کی یاد دلا دی

قومی اسمبلی کے ہنگامہ خیز سیشن میں بلاول کا خطاب شروع ہوتے ہی خاموشی چھا گئی

اسلام آباد (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-17 اگست 2018ء):بلاول بھٹو کے خطاب نے ذولفقار بھٹو اور بینظیر بھٹو کی یاد دلا دی۔
قومی اسمبلی کے ہنگامہ خیز سیشن میں بلاول کا خطاب شروع ہوتے ہی خاموشی چھا گئی۔ تفصیلات کے مطابق آج پاکستان کے 22ویں وزیر اعظم کا انتخاب ہو چکا ہے۔عمران خان ملک کے 22 ویں وزیراعظم بن چکے ہیں۔ابھی تک اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس جاری ہے۔

وزیر اعظم بننے کے بعد عمران خان نے بطور وزیر اعظم قومی اسمبلی سے اپنا پہلا خطاب کیا۔اس موقع پر عمران خان نے کرپشن کے خلاف اپنے عزم کو دہرایا اور کہا کہ مخالفین جو مرضی کرلیں انکو این آر او نہیں ملے گا۔اس موقع پر انہوں نے ایک بار پھر ملک کی تقدیر بدلنے کا اعلان کیا۔عمران خان کی تقریر کے بعد وزارت اعظمیٰ کے ہارنے والے امیدوار اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو دعوت خطاب کی دعوت دی۔

(خبر جاری ہے)

اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے سوال کیا کہ یہ کیسا الیکشن تھا جس میں آر ٹی ایس سسٹم جان بوجھ کر بند کر دیا گیا۔ شہباز شریف نے انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کیلے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ شہباز شریف نے مطالبہ کیا کہ جوڈیشل کمیشن بنا کر دھاندلی کے ذمہ داران کی نشاندہی کی جائے اور پھر انہیں کیفر کردار تک بھی پہنچایا جائے۔

شہباز شریف نے فی الفور جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے الیکشن ایکٹ میں بھی ترمیم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو پھر وہ احتجاج کیلئے سڑکوں کا رخ کریں گے۔ شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان کو چیلنج بھی کیا کہ اگر دھاندلی ثابت ہوگئی تو وہ وعدہ کریں کہ وزارت عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دیں گے۔

شہباز شریف نے کہا کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، اپنے مطالبات ہر صورت منوا کر رہیں گے۔اس موقع پر شہباز شریف کا خطاب طویل ہوا تو اسپیکر نے انکو خطاب سمیٹنے کا کہا اور بلاول بھٹو کو تقریر کی دعوت دی۔تاہم شہباز شریف نے اسپیکر کی رولنگ کو نظر انداز کرتے ہوئے تقریر جاری رکھی جس پر بلاول بھٹو اپنی نشست سے کھڑے ہو گئے اور مسکرا کر طنزیہ انداز میں شہباز شریف کو مخاطب کر کے کہا کہ شہباز شریف صاحب آپکا وقت ختم ہو چکا ہے۔

جس پر شہباز شریف بیٹھ گئے اور کچھ دیر بعد اپنی نشست پر کھڑے ہوئے اور کہا کہ جناب اسپیکر میں اب تقریر کروں گا۔اس کے بعد بلاول بھٹو نے اپنا خطاب شروع کیا تو اسمبلی کا ہنگامہ جیسے خاموش ہوگیا۔وہی اسمبلی جہاں عمران خان کو خطاب کرنے نا دیا گیا۔جہاں شہباز شریف کے خطاب کے دوران مسلسل نعرے بازی ہوتی رہی اسی اسمبلی میں جیسے ہی بلاول بھٹو کا خطاب شروع ہوا ویسے ہی ایوان میں مکمل خاموشی طاری ہو گئی ۔اپنے پرائے سب ہمہ تن گوش ہوکربلاول بھٹو کو سننے لگے۔اس موقع پر بلاول بھٹو نے اپنے پہلے ہی خطاب میں قوم کے دل جیت لئیے اور تاریخی خطاب کرڈالا۔انہوں نے شہدائے پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا۔الیکشن دھاندلی پر بات کی۔عمران خان کو وزیر اعظم بننے پر انہیں بھی مبارکباد دی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں