اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںبلاول بھٹو کا انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ ہم نے ماضی ..

بلاول بھٹو کا انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ

, ہم نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا نہ ہی 2018ء کے انتخابات سے سبق سیکھا ہے , ملک کی 2بڑی جماعتوں نے اسمبلی میں جو کیا قوم اسے پسند نہیں کرتی، تمام اداروں کی ماں پارلیمنٹ ہے اس کی عزت بڑھائیں گے , عمران خان کسی جماعت کے نہیں پورے ملک اور ان لوگوں کے بھی وزیراعظم ہیں جنہیں انہوں نے زندہ لاشیں اور گدھے کہا تھا، امید ہے وہ ایک کروڑ نوکریاں اور50لاکھ گھر دینے کا وعدہ پورا کریں گے، چیئرمین پیپلز پارٹی کا پارلیمنٹ میں اپنے پہلے خطاب کے دوران اظہار خیال

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اگست2018ء) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا نہ ہی 2018ء کے انتخابات سے سبق سیکھا ہے، ملک کی 2بڑی جماعتوں نے اسمبلی میں جو کیا قوم اسے پسند نہیں کرتی، تمام اداروں کی ماں پارلیمنٹ ہے اس کی عزت بڑھائیں گے، عمران خان کسی جماعت کے نہیں پورے ملک اور ان لوگوں کے بھی وزیراعظم ہیں جنہیں انہوں نے زندہ لاشیں اور گدھے کہا تھا، امید ہے وہ ایک کروڑ نوکریاں اور50لاکھ گھر دینے کا وعدہ پورا کریں گے، پارلیمنٹ کے اجلاس سے اپنے پہلے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج ملک کی2بڑی جماعتوں نے جو حرکت کی ہے عوام اس تماشے کو پسند نہیں کرتی،بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ نو منتخب وزیراعظم اپنے 100دن کے پروگرا م پر کیسے عمل کریں گے۔

(خبر جاری ہے)

ہم قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں، ہماری معیشت صرف چند کے لیے بہتر اور باقیوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی۔چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ وہ اّئی ایم ایف نہیں جائین گے لیکن ہم یہ دیکھنا چاہیں گے کہ وہ اس کا کیا متبادل فراہم کرتے ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم یقین رکھتے ہیں کہ حکومت نیشنل ایکشن بلان پر عمل دراّمد کروائے گی۔

انہوں نے کہا کہ میں نو منتخب وزیراعظم کو یاد دلانا چاہوں گا کہ وہ کسی مخصوص جماعت کے نہیں بلکہ پورے پاکستان کے وزیراعظم ہیں، وہ ان کے بھی وزیراعظم ہیں جن کو وہ زندہ لاشیں اور گدھے کہتے تھے۔انہوں نے کہا کہ اگر نو منتخب وزیراعظم نے عدم برداشت کو فروغ دیا تو ہم انہیں ایسا نہیں کرنے دیں گے اور اس کی مخالفت کریں گے لیکن اگر نو منتخب وزیراعظم نے عوامی مفادات کو اپنا مقصد بنایا تو ہم ان کا ساتھ دیں گے۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ الیکشن میں دھاندلی کے باوجود ہم نے دوسرے سیاسی جماعتوں سے رابطے کا فیصلہ کیا اور جمہوریت کا سلسلہ جاری رہا، سب اپوزیشن جماعتوں کا شکر ادا کرتا ہوں کہ وہ جمہوری نظام کا حصہ بنیں، وزیراعظم سے بھی شکریہ ادا کی درخواست کرتا ہوں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ الیکشن سے قبل اور الیکشن کے بعد بھی دھاندلی ہوئی، ا?ئی ٹی ایس سسٹم ناکام ہوا، یہ فرست طویل اور شرمناک ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعظم نے وعدہ کیا ہے وہ لوگوں کو ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھردیں گے، انہوں نے کرپشن کا خاتمہ، پانی کے مسائل حل کرنے کا وعدہ کیا ہے، قوم عمران خان کی طرف دیکھ رہی ہیکہ وہ عوام کیمسائل حل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے،اس کارکن بننے پرخوشی ہے، جوتماشا دو بڑی جماعتوں نے کیا اس نے قوم کومایوس کیا، امید ہے اسپیکر تمام جماعتوں کے ساتھ مل کر ہاؤس کو چلائیں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ ایوان سپریم ہے اور تمام اداروں کی ماں ہے، ہم نے ماضی سے سبق نہیں سیکھا۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں پولنگ اسٹیشنز سے پولنگ ایجنٹس کو باہر نکالا گیا، تحفظات کے باوجود پیپلزپارٹی نے جمہوری عمل کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔پی پی پی چیئرمین نے امید کا اظہار کیا کہ خان صاحب ماضی کی نفرت انگیز اور انتہاپسند سیاست سے گریز کریں گے، اور اس نفرت انگیز سیاست کو دفن کرکے آگے چلیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں