اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںوزیراعظم کا اقتدارمیں رہ کرکوئی کاروبارنہ کرنےکا اعلان سادہ زندگی ..

وزیراعظم کا اقتدارمیں رہ کرکوئی کاروبارنہ کرنےکا اعلان

سادہ زندگی گزارکردکھاؤں گا، پاکستان کوفلاحی ریاست بنائیں گے، پتا نہیں زندہ رہوں گا یا نہیں،ایک دن آئے گا جب پاکستان میں زکوٰة لینے والا کوئی غریب نہیں ہوگا،یہی پاکستان کیلئے میرا آئیڈیا ہے۔وزیراعظم عمران خان کا قوم سے خطاب

اسلام آباد(اُردوپوائنٹ
اخبارتازہ ترین۔20 اگست 2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اقتدار میں رہ کرکوئی کاروبارنہیں کروں
گا، سادہ زندگی گزار کردکھاؤں گا،ریاست مدینہ کے نقش قدم پرچل کرپاکستان
کوفلاحی ریاست بنائیں گے،پتا نہیں زندہ رہوں گا یا نہیں،ایک دن آئےگاجب
پاکستان میں زکوٰة لینے والا کوئی نہیں ہوگا،یہی پاکستان کیلئے میرا آئیڈیا
ہے۔

انہوں نے وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالنے کے بعد قوم سے اپنے پہلے
خطاب میں کہا کہ سب سے کارکنان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ جو 22 سال قبل میرے
ساتھ اس تحریک میں شامل ہوئے تھے۔آج احسن رشید اورسلونی بخاری ہمارے ساتھ
چلی تھیں وہ آج نہیں ہیں۔میں تمام کارکنان کاشکریہ ادا کرتا ہوں۔

(خبر جاری ہے)

لوگ ان کا
مذاق اڑاتے تھے کہ کس تانگہ پارٹی کے ساتھ آپ ہیں۔

دوسرے میرے رول ماڈل
قائداعظم نے ایک مشن کیلئے سیاست کی۔ جیسے ہمارے پیارے نبی پاک ﷺ نے ریاست
مدینہ کے مشن کیلئے کام کیا۔ دنیا میں وہ کیا تھا کہ تھوڑے سے قبیلے تھے
اور آپ ﷺ نے دنیا کے ان تمام قبیلوں کی امامت کی، اور نچلے طبقے کے لوگوں
کواوپر اٹھا دیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ آج ہم
کدھر ہیں ؟آج پاکستان کا قرض 28ارب اور 10سال قبل 6ہزار ارب تھا۔

2013ء سے
قرض 15ہزار ارب سے 28ارب تک پہنچ گیا ہے۔ہم حقائق قوم کے سامنے لائیں گے یہ
پیسا کہاں گیا؟عمران خان نے کہا کہ ہم قرضوں کے اوپر جوہم سود دے رہے ہیں
وہ سود اتارنے کیلئے قرض لے رہے ہیں۔پیپلزپارٹی حکومت کا سالانہ دوارب قرض
تھا۔جب پیپلزپارٹی گئی تو60ارب آج 95ارب ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے روپے
پرپریشر اسی صورتحال کا ہے۔

قوم کوگھبرانے کی ضرورت نہیں ،ہم حل کریں گے۔ایک
طرف قرض ہیں دوسری طرف ہیومن ڈویلپمنٹ ہے۔یواین ڈی پی کی رپورٹ ہے ہم دنیا
میں پانچ ممالک میں ہیں جہاں سب سے زیادہ بچے گندا پانی پینے ، سب سے
زایدہ عورتیں ڈلیوری کے باعث مرجاتی ہیں ۔اسی طرح ہم ان پانچ ممالک میں ہیں
جہاں غذا نہ ملنے سے بچے مر جاتے ہیں۔اور نشرونما ہی نہیں کرسکتے۔

ان بچوں
میں 45فیصد بچے شامل ہیں۔ایسے بچے زندگی کی دوڑ میں شروع سے ہی پیچھے رہ
گئے، وہ 21ویں صدی میں چل ہی نہیں سکتے۔عمران خان نے کہاکہ ہمارے پاس دو
راستے ہیں ایک راستہ جہاں ہم آج کھڑے ہیں ہمارے پاس پیسا نہیں ہے، روزگار،
کسانوں کودینے کیلئے پیسا نہیں قرض چڑھ رہے ہیں۔دوسرا راستہ یہ ہے۔پاکستان
میں اشرافیہ ،حکمرانوں کا رہن سہن ،جیسے وزیراعظم کے 524 ملازم ہیں، 80
گاڑیاں ، جن میں 33 بلٹ پروف ،ایک ایک کی قیمت 5 کروڑ سے زائد ، ہیلی
کاپٹر، گھر ، ریسٹ ہاؤسز، وزراعلیٰ ہاؤسز، گورنرہاؤسز، ڈی سی بڑے بڑے گھروں
میں رہتے ہیں۔

ایک طرف قوم غریب اور دوسری طرف صاحب اقتدار محلات میں رہتے
ہیں ویسے ہی رہتے جیسے انگریزوں نے حکومت بنائی تھی۔65 کروڑ روپے وزیراعظم
بیرونی دورے پرکرتا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی کا بجٹ کروڑ ں میں ہے انہوں نے
8کروڑ روپے بجٹ خرچ کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر ہم نے اپنا رخ نہ بدلا
توہم تباہ ہوجائیں گے۔اللہ قرآن میں کہتا ہے جواللہ اس قوم کی کبھی حالت
نہیں بدلتا جواپنی حالت خود نہیں بدلتی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سوا
دو کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ہم ان کوتعلیم نہیں دیں گے توروزگار کیسے
ملے گا؟ پانی کا مسئلہ حل نہیں کریں گے، ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہورہے
ہیں۔آج وقت ہے کہ ہم اپنی حالت بدلیں۔قانون کی بالادستی کے بغیرقوم نہیں
اٹھ سکتی، نبی پاک ﷺ نے سب سے پہلے قانون کی بالادستی قائم کی اگر میری
بیٹی بھی ہوگی تووہ بھی قانون کے کٹہرے میں ہوگی۔

خلیفہ بھی قانون کے نیچے
تھے۔اقلیتیں کے حقوق بھی برابر تھے۔نبی پاک ﷺ نے زکوٰة کا نظام بنایا۔جس سے
نچلے طبقے کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مغرب میں جمہوری
حکومتیں اقتدار میں فائد ہ نہیں اٹھا سکتا۔آج پیسا بنانے کیلئے لوگ اقتدار
میں آتے ہیں۔دنیا کے عظیم لیڈر اور عظیم انسان نبی پاک ﷺ نے دنیا کوتعلیم
کے بارے بتایا ۔

قیدیوں کوکہا گیا کہ جودس لوگوں کوپڑھائے گا ان کورہا کردیا
جائے گا۔عمران خان نے کہا کہ ملک اس لیے بنا تھا کہ ہندوپیسے والے تھے
تواب مسلمان پیسے والے آگئے۔قائداعظم اور علامہ اقبال کا خواب تھا کہ
پاکستا ن کوان اصولوں پرکھڑا کریں گے جس پرنبی پاک ﷺ نے ریاست مدینہ کھڑی
کی تھی۔ تیز فاسٹ باؤلر، دوپارٹی سسٹم میں تیسری پارٹی نہیں آسکتی،یہ کرکٹر
نہیں بن سکتا،میں یہ سب سنتا آرہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ میں وزیراعظم ہاؤس
میں نہیں رہوں گا۔میں تین بیڈروم کے گھر میں رہوں گا،دو گاڑیاں رکھوں
گا،دوملازم رکھوں گا۔میں اس لیے یہاں رہ رہاہوں کہ سکیورٹی ایجنسیز نے
بتایا کہ جان کوخطرہ ہے ۔سب مہنگی گاڑیاں فروخت کریں گے۔ پیسا قومی خزانے
میں،․وزراء اعلیٰ ہاؤس ، گورنرہاؤسز میں خرچے کم کریں گے۔ گورنر ہاؤسز میں
کوئی ہمارا گورنر نہیں رہے گا۔

اس لیے ہم نے کمیٹی بنائی ہے۔ وزیراعظم ہاؤس
میں اعلیٰ قسم کی یونیورسٹی بنائیں گے۔ جہاں لیبارٹریاں ہوں گی۔ایک ہم ٹاسک
فورس بنائیں گے۔ جس کا کام خرچے کم کرنا ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میرا
وعدہ ہے کہ ہم نے قوم کوپیروں پرکھڑا کرنا ہے۔ بھکاری قوم کبھی عظیم نہیں
بنتی۔ قرضہ کچھ عرصے کیلئے لیا جاتا ہے۔جب کوئی مشکل وقت آتا ہے۔

جو قرضہ
دیتا ہے وہ آزادی بھی چھین لیتا ہے۔سب سے پہلے ایف بی آر کو ٹھیک کروں
گا۔جس سے ٹیکس کانظام بنائیں گے۔جوامیر ہیں اور بڑی بڑی گاڑیاں گاڑیاں ٹیکس
اکٹھا کریں گے۔زکوٰة کی طرح نچلے طبقے کواوپر اٹھانے کیلئے ٹیکس دینا
ہوگا۔عوام کواعتماد دیں گے کہ آپ کا پیسا آپ پرخرچ ہوگا۔وزیراعظم عمران خان
نے کہا کہ ایک ٹاسک فورس بنا رہا ہوں جوبیرون ملک سے پیسا واپس لائے گی۔

جو
چوری کا پیسا واپس لائے گی۔امریکا کی رپورٹ ہے کہ ملک میں ہرسال 10ارب کی
منی لانڈرنگ ہوتی ہے۔جس نے بھی منی لانڈرنگ کی اس کا پیسا واپس لائیں
گے۔عوام ایسے کسی لیڈر کوووٹ نہ دیں جس کاسارا پیسا اربوں روپیہ باہر پڑا
ہوا ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں باہر سے سرمایہ کاری لائیں گے۔انہوں نے کہا
کہ جو ہمارے لوگ بیرون ملک کام کررہے ہیں ان کوپیغام پہنچاؤں گا کہ ان
کیلئے آسانیاں پیدا کریں ۔

ہمارے وہ لوگ جوبیرون ملک جیلوں میں ہیں ہم ان کے
ساتھ ہیں وہ لاوارث نہیں ہیں۔ان کی مدد کریں ۔وزیراعظم نے کہا کہ کرپشن
کوختم کرنے کیلئے پورا زور لگائیں گے،صاحب اقتدار جب کرپشن کرتے ہیں ملکی
ادارے تباہ کردیتے ہیں۔ایک تونیب ہے جس کوہم طاقتور بنانے کیلئے مدد کریں
گے۔دوسرا کے پی کی طرح قانون بنائیں گے جوبھی کرپشن کی نشاندہی کرے گااس
کوواپس لے کر 25 فیصد اس کودیں گے۔

ایس ای سی پی کوٹھیک کریں گے۔ایف آئی اے
کے ذریعے جومنی لانڈرنگ ہوتی ہے میں خود اس پرنظر رکھوں گا۔کرپٹ لوگ ہرجگہ
موجود ہیں۔ہرادارے میں بیٹھے ہوئے ہیں۔جب ہم ان پرہاتھ ڈالیں توجمہوریت
خطرے میں آجائے گی۔یہ بہت شور مچائیں گے، لیکن آپ نے میرے ساتھ کھڑے رہنا
ہے یا یہ ملک بچے گا یا پھر یہ کرپٹ لوگ بچیں گے۔ تعلیم کا نظام بہت کرنا
ہے ۔

اس میں مدرسے کے بچوں نہیں بھولنا ان کوآگے لیکر جانا ہے۔ سرکاری سکولو
ں میں ڈبل شفٹ چلائیں گے۔عمران خان نے کہا کہ شوکت خانم میں نظام بنانا
آسان کام ہے لیکن سرکاری اسپتالوں میں نظام بہتر کرنا مشکل کام ہے۔ہم نے
سرکاری اسپتالوں کوٹھیک کرنا ہے۔اس کیلئے بھی ہم نے ٹاسک فورس بنائی
ہے۔پورے پاکستان میں ہیلتھ کارڈ لیکر آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پانی کی قلت
کا سامنا ہے۔کراچی میں پانی کیلئے اقدامات کریں گے۔ ہمیں بھاشا ڈیم بنانا
بہت ضروری ہوگیا ہے۔چیف جسٹس نے ڈیمز بنانے کی ابتدا کی ہے ہم بیرون ملک
پاکستانیوں سے بھی پیسا اکٹھا کریں گے۔کتنے افسوس کی بات ہے ہمارے کسان
ہندوستان سے بیج لیکر پیداوار بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ
ہم اپنی سول سروسز کوبھی اٹھائیں گے ہم اس کیلئے ریفارمز کریں گے۔

انصاف کا
نظام لیکر آئیں گے۔ چیف جسٹس سے ملاقات کروں گا جس میں ان سے مطالبہ کروں
گا کہ بیواؤں کے پرانے کیسز کونمٹایا جائے۔ عمران خان نے کہا کہ سول سرونٹس
کوپیغام ہے کہ ہم مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔ ہم آپ کوپوری عزت دیں گے۔آپ
کی پوری مدد کریں گے۔ٹرانسفرپوسٹنگ میں بھی مدد کریں گے۔ لیکن جب ہمارا
عام آدمی آپ کے دفتر میں آئے تواس کوانسان سمجھنا ہے۔

عام آدمی دھکے کھاتا
پھرتا ہے۔جوشعبے وقت پرکام کریں گے ان کوبونسز دیں گے۔انہوں نے کہا کہ
بلدیاتی نظام کوبہترین بنائیں گے۔ایم پی ایز یا ایم این ایز کوفنڈز نہیں
دیں گے۔ضلع ناظم کا براہ راست انتخاب ہوگا۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں
کونوکریاں دینی ہیں۔50 لاکھ گھر بنائیں گے۔ نوجوانوں کیلئے مہارت سکلز کے
پروگرام لیکر آئیں گے۔

کرکٹ کے گراؤنڈز بنائیں گے۔ ماحولیاتی آلودگی کے
خاتمے کیلئے کام کریں گے۔درخت لگائیں گے۔ہم نے شہروں میں اربوں درخت لگانے
ہیں۔جس سے گرمی کی شدت کم ہوگی۔ گندگی کوختم کرنا ہے۔ دریا، سمندر صاف کرنے
ہیں۔ پانچ سالوں میں پاکستان کوصاف ستھرا بنا دیں گے۔ ٹورارزم کے شعبے
بنائیں گے۔سمند رکے ساتھ اتنے خوبصورت ساحل ہیں۔فاٹا اور بلوچستا ن کے
ایشوز کرحل کریں گے۔

جنوبی پنجاب کوالگ صوبہ بنائیں گے ،لاہور میں بیٹھ
کرپورے پنجاب کوکنٹرول نہیں کیا جاسکتا ۔ہم اس پرکام کریں گے۔ کراچی میں
پولیس کے نظام کوبہتر بنائیں گے کراچی کے لوگوں کوپانی دینے کیلئے کام کریں
گے،نیشنل ایکشن پلان پرکام کریں گے جو کہ 20 پوائنٹ کا نیشنل ایکشن پلان
ہے۔ خارجہ پالیسی کوٹھیک کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جانوروں کے
معاشرے میں رحم نہیں ہوتا۔

انسانوں کے معاشرے میں رحم اور فکرہوتی ہے ۔آج
ہمیں پاکستان کوفلاحی ریاست بنانے کیلئے ریاست مدینہ کے نقش قدم پرچلنا
ہوگا۔نبی پاک ﷺ نے رومن ایمپائر سے قرضے نہیں مانگے تھے، بلکہ سادگی لیکر
آئے۔عمران خان نے کہا کہ میں قوم کوسادہ زندگی گزار کردکھاؤں گا۔ پیسا بچا
کرنچلے طبقے پرخرچ کروں گا،اقتدار میں ہوں کوئی کاروبار نہیں کروں گا۔

جو
لوگ قوم کا پیسا چوری کرتے ہیں وہ عوام کے دشمن ہیں۔ میری ان سے ذاتی لڑائی
نہیں ہے۔عوام کوپیسا واپس لانے کیلئے میری مدد کرنا ہوگی۔ جب کسی کے گھر
چوری ہوتی ہے توپولیس خود نہیں پکڑتی ۔ بلکہ پکڑوانا پڑتا ہے۔عوام اپنے
پیسے کی حفاظت کرنے کیلئے میری مدد کریں اور ہم پرچیک رکھیں۔عمران خان نے
کہا کہ پتا نہیں زندہ ہوں گا یا نہیں لیکن ایک دن آئے گاجب پاکستان میں
زکوٰة لینے والا نہیں ہوگا۔ہم دوسرے ملکوں کی مدد کریں گے۔یہ میرا پاکستان
کیلئے آئیڈیا ہے۔پاکستان زندہ باد۔۔ وزیراعظم عمران خان کا خطاب سرکاری ٹی
وی پربراہ راست دکھایا گیا جبکہ خطاب سے قبل قرآن پاک کی سورة رحمان کی
تلاوت کی گئی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں