اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںوزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کرنے کا نواز شریف کا دعویٰ ..

وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کرنے کا نواز شریف کا دعویٰ

سوشل میڈیا صارفین نے آڑے ہاتھوں لے لیا، اگر نواز شریف وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات خود ادا کرتے تھے تو پھر بجٹ میں وزیراعظم ہاؤس کے لیے مختص کیے جانے والا فنڈ کہاں گیا ؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 20 اگست 2018ء): معروف صحافی سلیم صافی نے گذشتہ روز دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف وزیر اعظم ہاؤس کے تمام اخراجات خود ادا کرتے تھے۔ جس کی آج صبح احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیرا عظم نواز شریف نے بھی تصدیق کی اور کہا کہ میں اپنے اخراجات کی ادائیگی خود کرتا تھا اور ان تمام اخراجات کی ادائیگی کے چیکس بھی بطور ثبوت موجود ہیں۔

جس پر ن لیگی کارکنان نے اپنے قائد کی تعریفوں کے پُل باندھنا شروع کر دئے جس پر سوشل میڈیا صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اگر نواز شریف وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کرتے تھے تو پھر بجٹ میں وزیرا عظم ہاؤس کے لیے ایک خطیر رقم بطور فنڈ کیوں مختص کی جاتی تھی؟ اور اگر نواز شریف حقیقتاً وزیراعظم ہاؤس کا خرچہ خود اُٹھاتے تھے تو پھر فنڈ کی رقم کہاں گئی اور ہر مالی سال میں وزیر اعظم ہاؤس کے فنڈ میں اضافہ کیوں ہوتا تھا ؟ سوشل میڈیا صارفین نے کہا کہ گذشتہ مالی سال 18-2017ء کے بجٹ کے لیے جو پروپوزل پیش کیا گیا تھا اس کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کے سالانہ اخراجات، جو تقریباً 89 کروڑ یعنی سوا 24 لاکھ روپے یومیہ ہوا کرتے تھے، اُسے ساڑھے سات کروڑ روپے کے خطیر اضافے کے بعد 91 کروڑ روپے کر دیا گیا۔

(خبر جاری ہے)

اگر نواز شریف نے بجٹ میں مختص رقم استعمال نہیں کی اور تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کیے تو سابق وزیراعظم نوازشریف کے گوشواروں کی جو تفصیلات انٹرنیٹ پر موجود ہیں کیا ان میں ان اخراجات کا تذکرہ ہے؟ اگر نوازشریف نے یومیہ 25 لاکھ کا خرچ اپنی جیب سے کیا اور اس کی ادائیگیوں کے چیک بھی موجود ہیں تو اس کی تفصیل ان کے گوشواروں میں کیوں نظر نہیں آتی؟ دوسری بات یہ کہ اگر سابق وزیر اعظم نوازشریف نے وزیر اعظم ہاؤس کا خرچ اپنی جیب سے ہی کرنا تھا تو پھر قومی بجٹ میں 91 کروڑ روپیہ کس مقصد کے تحت مختص کیا گیا؟ وزیراعظم ہاؤس میں موجود ساڑھے پانچ سو ملازمین، 80 کے قریب لگژری گاڑیاں اور روزانہ انواع و اقسام کے کھانے تیار کروانے والے سابق وزیر اعظم نوازشریف نے 91 کروڑ روپے کا بجٹ وزیراعظم ہاؤس کے لیے کیا اس لئے منظور کروایا تھا کہ وہ اپنی جیب سے یہ خرچ کریں؟ اگر ایسا واقعی ہوا ہے تو وزیر اعظم ہاؤس کے لیے مختص کیا گیا کروڑوں روپے کا فنڈ کہاں گیا؟اگر نواز شریف نے اپنی جیب سے ہی خرچ کی ادائیگی کرنی تھی تو پھر بجٹ میں وزیر اعظم ہاؤس کے لیے فنڈز مختص کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اور ہر مالی سال میں اس فنڈ میں اضافے کی کیا ضرورت آن پڑی تھی ؟ 18-2017ء کی بجٹ دستاویزات کے مطابق وزیراعظم ہاوس کی تزئین پر اڑھائی کروڑ روپے کی تجویز پیش کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس کے ملازمین کے اخراجات 62 کروڑ روپے سے تجاوز کر سکتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا یہ رقم سابق وزیراعظم نواز شریف نے ادا کی۔

اس طرح تو ہر مالی سال میں وزیراعظم ہاؤس کے لیے مختص کیے جانے والے فنڈز میں اضافہ بھی بلاجواز تھا۔ مالی سال 15-2014ء میں وزیرا عظم ہاؤس پر روزانہ 2 لاکھ 10 ہزار 497 روپے خرچ کئے جا رہے تھے۔ اس طرح اوسط سال کے 365 ایام میں 7 کروڑ 83 لاکھ روپے کے اخراجات کئے گئے۔ مالی سال 16-2015ء میں بھی ان اخراجات میں اضافہ ہوا جس کے بعد فنڈز میں بھی اضافہ کیا گیا۔

انٹرنیٹ صارفین نے مطالبہ کیا کہ نواز شریف نے اگر واقعی تمام اخراجات خود ادا کیے تو ان کو سیلوٹ پیش کرنا چاہئیے لیکن ان کے ٹیکس گوشواروں میں اس بات کا ذکر نہ ہونا ایک سوالیہ نشان ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ اگر نواز شریف ہی وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات اُٹھاتے رہے ہیں تو پھر ہر مالی سال میں وزیراعظم ہاؤس کے لیے مختص کیا جانے والا بجٹ کہاں خرچ کیا گیا اور اس کو کس نے اور کہاں استعمال کیا؟

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں