اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںایون فیلڈ ریفرنس میں سزا معطلی کا فیصلہ محفوظ اسلام آباد ہائیکورٹ ..

ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا معطلی کا فیصلہ محفوظ

اسلام آباد ہائیکورٹ میں دورکنی بنچ کی سماعت، نیب پراسیکیوٹر کے دلائل مکمل، ہم سزا معطلی کی درخواستوں پرمناسب فیصلہ جاری کریں گے۔ جسٹس اطہر من اللہ کے ریمارکس

اسلام
آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔20 اگست 2018ء) اسلام آباد ہائیکورٹ نے
ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا معطلی کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ
نے ریمارکس دیے کہ ہم سزا معطلی کی درخواستوں پرمناسب فیصلہ جاری کریں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ میں جسٹس اطہر من
اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کی سربراہی میں دورکنی بنچ نے کیس کی
سماعت کی۔

عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا معطلی کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ فیصلہ محفوظ کرنے سے پہلے چھ ججز نے مشاورت کی۔ تاہم عدالت نے کیس کی سماعت عید کے بعد تک ملتوی کردی ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے
ریمارکس دیے کہ اس موقعے پرفیصلہ دینے کا مطلب ہوگا کہ بنچ نے درخواست گزار کوفائدہ پہنچایا۔

(خبر جاری ہے)

نہیں چاہتے دوسرے فریق کا کیس متاثر ہو۔ کیس کوباریک بینی سے دیکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آف شور کمپنی کیس میں کوئی آبزرویشن نہیں دینا چاہتے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اپیلیں موسم گرما کی تعطیلات کے بعد سنی جائیں گی۔ تاہم
عدالت نے نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن ر صفدر کی درخواستوں پرفیصلہ
محفوظ کیا ہے۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ ہم مناسب حکم نامہ جاری
کریں گے۔ نہیں چاہتے دوسرے فریق کا کیس متاثر ہو۔

انہوں نے کہا کہ ہم سزا
معطلی کی درخواستوں پرمناسب فیصلہ جاری کریں گے۔ اس سے قبل آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم نوازشریف، مریم نواز، کیپٹن(ر)صفدرکی سزا معطلی کی درخواستوں پر کیس کی سماعت ہوئی۔ نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیے کہ التوفیق کمپنی سے 1999ء میں قرض لیا گیا۔ جس پرجسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ التوفیق کا فیصلہ عدالتی رکارڈ کا حصہ ہے؟ اور کیا التوفیق میں نوازشریف کانام ہے؟ نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ جی یہ مارک ہوا ہے۔

اور یہ ایسے شواہد ہیں جوپراپرٹی سے تعلق جوڑتے ہیں۔ جبکہ التوفیق میں نوازشریف کا نام نہیں ہے۔جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ مان لی آپ کی بات، یہ بتائیں نوازشریف کہاں سے آیا؟ اس موقع پر نیب پراسیکیوٹرکے، ابھی آرہا ہےسر، کے جواب پرعدالت میں قہقہے لگ گئے۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کرپشن کےچارج میں نوازشریف بری ہوچکا ہے۔ ان کی تقاریربھی ثبوت ہیں؟ جس پرنیب کا جواب کہ جی ہاں، تقاریر بھی ثبوت ہیں۔ تاہم نیب پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل مکمل کرلیے ہیں۔ جبکہ عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کرکے سماعت عید کے بعد تک کیلئے ملتوی کردی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں