اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںوزارت عظمیٰ کی حلف برداری تقریب پر خرچ سے متعلق عندلیب عباس کا دعویٰ ..

وزارت عظمیٰ کی حلف برداری تقریب پر خرچ سے متعلق عندلیب عباس کا دعویٰ جھوٹ نکلا

مجھے نہیں پتہ ، ہو سکتا ہے کہ میں غلط ہوں۔ عندلیب عباس کا جواب

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 21 اگست 2018ء):عمران خان کی وزارت عظمیٰ کی حلف برداری کی تقریب کی سادگی کے تو بہت چرچے رہے جس پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عندلیب عباس نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں دعویٰ کیا کہ وزارت عظمیٰ کی حلف برداری کی تقریب پر کُل 50 ہزار روپے خرچ آیا جس کے بعد اس حوالے سے کچھ رپورٹرز نے تفتیش شروع کر دی ۔

تاہم دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق عندلیب عباس سے وزارت عظمیٰ کی تقریب پر ہونے والے اخراجات سے متعلق معلومات کا ذریعہ پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم ، ہو سکتا ہے کہ میں غلط ہوں، میں نے یہ معلومات ملیحہ ہاشمی سے لی تھیں جو پاکستان تحریک انصاف کی کارکن ہے۔ ایوان صدر کے حکام نے عندلیب عباس کے ٹویٹ میں بیان کیے گئے اخراجات کی تردید کی اورکہا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا ، اس بات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

(خبر جاری ہے)

رپورٹ میں میں بتایا گیا کہ ایوان صدر میں وزارت عظمیٰ کی حلف برداری تقریب کے اخراجات سے متعلق بحث کا آغاز عندلیب عباس کے ٹویٹ سے ہوا۔ عندلیب عباس کے ذرائع کےمطابق پیپلزپارٹی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی تقریب حلف برداری پر2008ء میں 76لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ 2013ء میں مسلم لیگ ن کے وزیراعظم نوازشریف کی ایوان صدر میں تقریب حلف برداری پر92لاکھ روپے خرچ ہوئے۔

اور اب 2018ء میں تحریک انصاف کے وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پرتقریب حلف برداری کوانتہائی سادہ رکھا گیا جس کے باعث حلف برداری کی تقریب پر صرف 50ہزار روپے خرچ ہوئے۔ عندلیب عباس کے اس ٹویٹ کے اسکرین شاٹس کافی وائرل ہوئے جس پر ایک شخص نے ایوان صدر سے اس ٹویٹ کی حقیقت سے متعلق دریافت کیا تو انہیں بتایا گیا کہ عندلیب عباس نے ایک جھوٹی خبر پوسٹ کی۔

ایوان صدر میں 'عدنان' نامی کوئی ڈپٹی ڈائریکٹر موجود نہیں ہے۔ تفتیش کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ایوان صدر میں عدنان نامی ایک شخص موجود تو ہے لیکن وہ ڈپٹی ڈائریکٹر نہیں بلکہ صدر کا ڈائریکٹر آف کوآرڈینیشن ہے۔ عدنان مجید سے اس سلسلے میں رابطہ کیا گیا تو انہوں اس بات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرا فنانس سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے تو تقریب حلف برداری کے اخراجات کا مجھے کس طرح علم ہو گا؟ عدنان کے اس بیان کے بعد عندلیب عباس سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ ، میں غلط بھی ہو سکتی ہوں، میں نے یہ معلومات ملیحہ ہاشمی سے لی تھیں جو پاکستان تحریک انصاف کی کارکن ہے۔

اور جب ملیحہ ہاشمی سے اس حوالے سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے بھی اس بات کی تردید کی اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایوان صدر میں عدنان نامی کوئی ڈپٹی ڈائریکٹر موجود نہیں ہے۔ ملیحہ نے کہا کہ میں اس حوالے سے پارٹی ذرائع سے ضرور تصدیق کروں گی کہ کس نے بغیر تحقیق یہ نام دے دیا۔ کابینہ ڈویژن کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ نواز شریف کی تقریب حلف برداری پر 9.2 ملین کی بجائے صرف ساڑھے چار لاکھ ، شاہد خاقان عباسی کی تقریب حلف برداری پر 40 ہزار اور ناصر الملک کی تقریب حلف برداری پر 36 ہزار روپے خرچ کیے گئے۔

ان تمام انکشافات کے بعد عندلیب عباس کا دعویٰ جھوٹا اور بے بنیاد ثابت ہو گیا۔ یاد رہے کہ ٹویٹر پر پی ٹی آئی کی رہنماء عندلیب عباس نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ یہ سادگی ہوتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری کے لیے صرف 50ہزار اخراجات کیے گئے ہیں۔ ان اخراجات میں تقریب حلف برداری میں آنے والے مہمانوں کے لیے دودھ، چائے ، بسکٹ اور پھول سمیت بجلی کا بل بھی شامل ہے۔

تاہم اس سے قبل پیپلزپارٹی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی تقریب حلف برداری پر2008ء میں 76لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ 2013ء میں مسلم لیگ ن کے وزیراعظم نوازشریف کی ایوان صدر میں تقریب حلف برداری پر92لاکھ روپے خرچ ہوئے۔تاہم اب 2018ء میں تحریک انصاف کے وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پرتقریب حلف برداری کوانتہائی سادہ رکھا گیا جس کے باعث حلف برداری کی تقریب پر صرف 50ہزار روپے خرچ ہوئے ہیں۔ اگر ماضی کی نسبت عمران خان کی تقریب کا موازنہ کیا جائے توماضی کے دو ادوار حکومت کے وزراء کی تقریب حلف برداری پر80لاکھ سے زائد پاکستان کی عوام کے پیسے خرچ ہوئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں