اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںسعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دوستانہ اور تاریخی تعلقات قائم ہیں، ..

سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دوستانہ اور تاریخی تعلقات قائم ہیں،

وزیراعظم عمران خان کا دورہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے،سعودی عرب اور پاکستان دنیا میں اسلام کی حقیقی تصویر پیش کرنے پر کام کریں گے،سعودی وزیر اطلاعات کے مشیر فہیم بن حامد الحامد کی پی ٹی وی سے گفتگو

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 ستمبر2018ء) سعودی وزیر اطلاعات کے مشیر فہیم بن حامد الحامد نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دوستانہ اور تاریخی تعلقات قائم ہیں، وزیراعظم عمران خان کا دورہ سعودی عرب انتہائی اہمیت کا حامل ہے، یہ دورہ نتیجہ خیز ثابت ہوگا۔ پی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان تعلقات دو دل اور ایک روح جیسے ہیں، پاکستانی وزیراعظم کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ محبت، امن اور پیار کا پیغام دیگا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر خزانہ اسد عمر اور وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد پر مشتمل قابل ٹیم کے ہمراہ وزیر اعظم عمران خان کا دورہ کامیاب ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان سعودی عرب کے لئے محبت اور حمایت کا پیغام لے کر سعودی عرب جا رہے ہیں جہاں وہ ولی عہد اور خادم الحرمین شریفین سے ملاقات کریں گے۔

(خبر جاری ہے)

فہیم بن حامد نے کہا کہ اس دورہ میں باہمی تعاون اور تعلقات پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور سعودی عرب اور پاکستان دنیا میں اسلام کی حقیقی تصویر پیش کرنے پر کام کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس دورہ سے دوطرفہ دوستانہ، سٹریٹجک اور معاشی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے، دونوں ملک 2030ء وژن کے تحت مل کر کام کرنے پر تیار ہیں، جو سعودی عرب ، مشرق وسطیٰ اور مسلم ممالک کے لئے گیم چینجر ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان معدنی و دیگر ذخائر سے مالا مال ہے تاہم خوشحال پاکستان کے لئے استحکام کی ضرورت ہے جبکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی برادری سعودی عرب کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ کے موقع پر جدہ کی گلیوں میں سعودی عرب اور پاکستان کے قومی پرچم لہرائے جائیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب افغانستان میں امن چاہتے ہیں، پاکستان اور افغانستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بہت زیادہ نقصانات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کو درپیش مسائل کے حل کے لئے او آئی سی کو پاکستان اور سعودی عرب کی مدد کرنی چاہیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں