وزیرِاعظم عمران خان کی زیر صدرات مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس

ملک میں تعلیمی اداروں کے معیار اور اعلیٰ تعلیم میں یکسانیت کے فروغ کیلئے وفاق اور صوبوں کے درمیان کوآرڈینیشن کی بہتری کیلئے ایچ ای سی کو لائحہ عمل وضع کرنے اور آئندہ ایک ماہ میں سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت، خالص ہائیڈل منافع جات کے سلسلہ میں اے جی این قاضی فارمولے پر من و عن عملدرآمد پر اتفاق، ملک میں 7 اکتوبر سے قومی سطح پر صفائی مہم شروع کرنے کا بھی فیصلہ بلوچستان میں تعلیمی معیار کی بہتری پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن صوبائی حکومت سے مل کر اس سلسلہ میں ممکنہ اقدامات کا جائزہ لے، بلوچستان میں صحت کی سہولتوں خصوصاً کینسر کے مرض کی بروقت تشخیص و علاج کے سلسلے میں شوکت خانم ہسپتال کی سروسز بلوچستان تک پھیلائی جائیں گی، وزیرِاعظم عمران خان

پیر ستمبر 23:28

وزیرِاعظم عمران خان کی زیر صدرات مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 24 ستمبر2018ء) مشترکہ مفادات کونسل نے ملک میں تعلیمی اداروں کے معیار اور اعلیٰ تعلیم میں یکسانیت کے فروغ کیلئے وفاق اور صوبوں کے درمیان کوآرڈینیشن کی بہتری کیلئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو صوبوں سے مل کر لائحہ عمل وضع کرنے اور آئندہ ایک ماہ میں سفارشات مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ صوبوں اور وفاق نے خالص ہائیڈل منافع جات کے سلسلہ میں اے جی این قاضی فارمولے پر من و عن عملدرآمد پر اتفاق کیا ہے، ملک میں 7 اکتوبر سے قومی سطح پر صفائی مہم شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

وزیرِاعظم عمران خان کی زیر صدرات مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس پیر کو وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا جس میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی۔ ملک میں تعلیمی اداروں کے معیار اور اعلیٰ تعلیم میں یکسانیت کے فروغ کے سلسلہ میں وفاق اور صوبوں کے درمیان کوآرڈینیشن کی بہتری کیلئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو صوبوں سے مل کر لائحہ عمل وضع کرنے کی ہدایت کی گئی جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو آئندہ ایک ماہ میں تمام ضروری مشاورت مکمل کرنے اور سفارشات مرتب کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔

(جاری ہے)

اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بلوچستان میں تعلیمی معیار کی بہتری پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، ہائر ایجوکیشن صوبائی حکومت سے مل کر اس سلسلہ میں ممکنہ اقدامات کا جائزہ لے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں صحت کی سہولتوں اور خصوصاً کینسر کے مرض کی بروقت تشخیص و علاج کے سلسلے میں شوکت خانم ہسپتال کی سروسز بلوچستان تک پھیلائی جائیں گی۔

اجلاس نے کراچی کیلئے اضافی پانی کی فراہمی کیلئے صوبہ سندھ کی درخواست نیشنل واٹر کونسل کے سپرد کر دی۔ کونسل ملک میں موجودہ پانی کی فراہمی، صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے فارمولے اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے مشترکہ مفادات کونسل کو اپنی سفارشات پیش کرے گی جبکہ پانی کے ضیاع کو روکنے اور اس کے بہتر استعمال کے سلسلے میں بھی اقدامات تجویز کئے جائیں گے۔

مشترکہ مفادات کونسل نے پلاننگ کمیشن کو بلوچستان میں بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نظام سے متعلق منصوبوں کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔ پلاننگ کمیشن کے جائزہ کی روشنی میں فوری اہمیت کے منصوبوں پر جلد کام شروع کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں پٹ فیڈر اور کیرتھر کینال میں پانی کی کم دستیابی کے معاملہ پر غور کیا گیا اور کہا گیا کہ سندھ اور بلوچستان کے وزراء اعلیٰ باہمی طور پر معاملہ کو حل کریں۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کی مانیٹرنگ کا ایک ایسا جامع اور شفاف نظام مرتب کیا جائے جس سے تمام صوبوں کو بروقت اور صحیح معلومات کی فراہمی میسر آ سکے، صحیح معلومات کی فراہمی کا فقدان غلط فہمیوں کا باعث بنتا ہے لہٰذا اس سلسلہ میں فوری اقدامات کئے جائیں۔ اجلاس میں خالص ہائیڈل منافع جات کے سلسلہ میں اے جی این قاضی فارمولے پر من و عن عملدرآمد پر وفاق اور صوبوں میں اتفاق پایا گیا۔

اجلاس کے دوران ای او بی آئی اور ورکرز ویلفیئر فنڈ کی صوبوں کو منتقلی کے حوالہ سے انتظامی، مالی اور قانونی معاملات کا جائزہ لینے کیلئے وزیرِ بین الصوبائی رابطہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی گئی جو آئندہ ایک ماہ میں اپنی سفارشات مشترکہ مفادات کونسل کو پیش کرے گی۔ مشترکہ مفادات کونسل نے پٹرولیم پالیسی 2012ء میں حکومت سندھ کی تجویز کردہ ترامیم کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کو سپرد کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ ای سی سی اپنے آئندہ اجلاس جس میں صوبوں کے نمائندگان بھی شریک ہوں گے، ان تجاویز و مجوزہ ترامیم کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات مرتب کرے گی۔

اجلاس کے دوران ملک میں یکساں معیار اور سٹینڈرڈز کو یقینی بنانے اور اس ضمن میں متعلقہ کمپنیوں کو ون ونڈو سہولت فراہم کرنے کی ذمہ داری پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کو تفویض کرنے پر وفاق اور صوبوں میں اتفاق کیا گیا، اس سلسلہ میں قانونی اور آئینی معاملات کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی قائم، کمیٹی میں تمام صوبائی حکومتوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی نمائندگی شامل ہو گی۔

ملک میں قائم ریگولیٹری اتھارٹیز کی مؤثر عملداری اور صوبوں میں حکومتی رٹ کو یکساں طور پر لاگو کرنے کے سلسلے میں قابلِ عمل تجاویز مرتب کرنے کیلئے ٹاسک فورس تشکیل دیدی گئی۔ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں ملک میں قومی سطح پرصفائی مہم شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ وزیرِ اعظم عمران خان 7 اکتوبر سے قومی صفائی مہم کا باقاعدہ آغاز کریں گے۔

صوبائی حکومتوں کی جانب سے قومی صفائی مہم میں بھرپور حصہ لینے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اجلاس میں وزیرِاعظم کی جانب سے صوبائی وزراء اعلیٰ کو وفاقی حکومت کی جانب سے تمام معاملات میں ہر ممکنہ تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت مشترکہ مفادات کونسل کو مؤثر پلیٹ فارم بنانے کیلئے پرعزم ہے تاکہ یہ کونسل صوبوں اور وفاق کے درمیان معاملات کے حل میں مؤثر کردار ادا کر تے ہوئے وفاق کی مضبوطی کا باعث بنے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments