نئے پاکستان میں سب کا احتساب ہوگا، احتساب کے ڈر سے سینکڑوں بیوروکریٹس بیرون ملک بھاگنے کی تیاریوں میں مصروف

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین منگل ستمبر 11:50

نئے پاکستان میں سب کا احتساب ہوگا، احتساب کے ڈر سے سینکڑوں بیوروکریٹس ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 25 ستمبر 2018ء) : وزیراعظم عمران خان نے عوام سے اپنے پہلے پالیسی خطاب میں جہاں عوام سے کئی وعدے کیے وہیں انہوں نے ملک بھر میں بلا امتیاز احتساب کا بھی وعدہ کیا اور عوام کو یقین دلایا کہ ''نئے پاکستان'' میں قانون سب کے لیے برابر ہوو گا اور کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہو گا۔ وزیراعظم عمران خان کے اسی وژن کے تحت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو خوب پذیرائی ملی۔

وزیراعظم عمران خان کے اسی وژن سے گھبرا کر سینکڑوں بیوروکریٹس نے بیرون ملک منتقل ہونے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ قومی اخبار میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں 452 بیوروکریٹس، پولیس افسران اور سابق و موجودہ اراکین اسمبلی نے کینیڈا، سوئٹزرلینڈ، برطانیہ، امریکہ اور پرتگال میں امیگریشن حاصل کرنے کے لیے اپنے کیسز فائل کر دئے ہیں۔

(جاری ہے)

مصدقہ ذرائع کے مطابق امیگریشن کے لیے کیس دائر کرنے والے ان افراد میں سے 152 ایسے سرکاری افسران شامل ہیں جن کی ریٹائرمنٹ میں چار سے پانچ سال تک کا عرصہ باقی ہے جب کہ 452 بیوروکریٹس، پولیس افسران اور سیاستدانوں میں سے 382 ایسے سیاستدان ہیں جو متعدد مرتبہ ذاتی حیثیت میں بیرون ملک دورے کر چکے ہیں اور انہوں نے عزیزوں اور دوستوں کے نام پر بھاری رقوم بھی بیرون ملک منتقل کررکھی ہیں جو امیگریشن ہوتے ہی ان کے نام منتقل ہو جائیں گی ۔

مصدقہ ذرائع نے بتایا کہ ان 452 افراد کے علاوہ 45 ایسے بیوروکریٹس کے حوالے سے بھی ایک فہرست سامنے آئی ہے جو اپنی مدت ملازمت ختم ہونے کے فوری بعد کینیڈا، لندن، اور امریکہ منتقل ہو گئے تھے لیکن بیرون ملک موجود ان کی جائیداد ان کی ریٹائرمنٹ کی رقوم سے کئی گُنا زیادہ ہے ۔ ذرائع نے بتاای کہ ان سابق بیوروکریٹس کے حوالے سے یہ رپورٹ تیار کی گئی ہے کہ ان بیوروکریٹس نے دوران تعیناتی کروڑوں روپے کی ناجائز کمائی ہوئی رقوم بیرون ملک منتقل کیں اور پھر ریٹائرمنٹ کے بعد اہل خانہ سمیت بیرون ملک منتقل ہو گئے تھے ۔

452 افراد کے حوالے سےتفتیش کی جا رہی ہے کہ ان میں سے بالخصوص سرکاری ذمہ داران نے امیگریشن کے لیے جو کیسز فائل کر رکھے ہیں یہ پاکستان میں کس کس عہدہ پر فائز ہیں، ان کی مالی پوزیشن کیا ہے اور یہ کیوں دوسرے ملک کی شہریت لینا چاہتے ہیں؟ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے بھی ریکارڈ اکٹھا کیا گیا ہے کہ ایسے کتنے سرکاری افسران ہیں جو متعدد مرتبہ ان ممالک میں چُھٹیاں گزارنےگئے، ان کی وہاں کوئی جائیداد یا کسی کے نام کے بینک اکاؤنٹس تو نہیں جن میں ان کی ناجائز رقوم جمع ہوتی ہوں؟ ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایس ایچ او رینک سے لے کر ایڈیشنل آئی جی رینک تک کے 113 ایسے افسران بھی ہیں جو اہل خانہ سمیت بیس بیس سے زائد مرتبہ ذاتی خرچ پر بیرون ملک دورے کر چکے ہیں اور ان دوروں پر اخراجات ان کی تنخواہوں سے کئی گُنا زیادہ ہیں۔

کئی بیوروکریٹس کے حوالے سے بھی کچھ انکشافات سامنے آئے ہیں ، جن میں معلوم ہوا کہ ان کے ہوٹل کی بُکنگ اور ٹکٹیں مختلف مافیا کی جانب سے بُک کروائی گئیں۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے جلد ہی تحقیقات مکمل کر کے ان افراد کے نام تین کیٹگریز میں لکھے جائیں گے ۔ کیٹگری ون میں کرپٹ افراد کو شامل کیا جائے گا۔ کیٹیگری ٹو میں ان افراد کو رکھا جائے گا جن کے دوران ڈیوٹی بظاہر تو اثاثے نہیں تھے لیکن ان کے بیرون ملک دوروں اور اخراجات ان کی تنخواہ سے کہیں زیادہ ہیں ۔

تیسری کیٹیگری میں ان افراد کو رکھا جا رہا ہے جو خود تو یہاں نوکری یا سیاست کر رہے ہیں ، مگر ان کے بچے بیرون ملک پڑھ رہے ہیں ، اور ان کی کمائی کے ذرائع اس قابل نہیں ہیں کہ وہ ان کے بچوں کی فیس ادا کر سکیں۔ذرائع نے بتایا کہ اس حوالے سے مکمل تحقیقات کے بعد ہی باقاعدہ کارروائی کا عمل شروع کیا جائے گا ۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments