اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںپاکستان میں پیدا ہونے والے مہاجرین کے بچوں کو شہریت دینے کے حوالے سے ..

پاکستان میں پیدا ہونے والے مہاجرین کے بچوں کو شہریت دینے کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ آئین‘ قانون کو مدنظر رکھ کر اور تمام پارلیمانی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر کیا جائے گا، وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 ستمبر2018ء) قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے تاریخ میں پہلی دفعہ قانونی اور غیر قانونی مہاجرین کے اعداد و شمار اکٹھے کرنے شروع کردیئے ہیں‘ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں پیدا ہونے والے مہاجرین کے بچوں کو شہریت دینے کے حوالے سے پالیسی بیان دیا ہے تاہم اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ پاکستان کے آئین‘ قانون کو مدنظر رکھ کر اور تمام پارلیمانی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر کیا جائے گا۔

منگل کو قومی اسمبلی میں حنا ربانی کھر کے پاکستان میں مقیم مہاجرین اور غیر قانونی تارکین وطن کو پاکستان کی شہریت دینے سے متعلق توجہ مبذول نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ وزیراعظم نے کراچی میں ایک پالیسی کا اعلان کیا تھا اس میں قانونی اور انسانی محرکات ہیں۔

(خبر جاری ہے)

اس پر عملدرآمد کا فیصلہ باقاعدہ طریقہ کار کے تحت پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایک شخص جو پاکستان میں پیدا ہوا ہے اور وہ بطور مہاجر رجسٹرڈ نہیں ہے۔ پاکستان کے متعلقہ قانون کو مدنظر رکھ کر اس کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اصولی طور پر افغان مہاجرین کی ماضی میں ہم نے ذمہ داری تو لے لی تھی مگر اس حوالے سے 1951ء کنونشن پر دستخط نہیں کئے۔1984ء کے کنونشن پر ہم نے دستخط کر رکھے ہیں جس کے تحت کسی کو بھی زبردستی واپس نہیں بھیجا جاسکتا۔

او آئی سی کے انسانی حقوق کے کنونشن میں قرآن حکیم کے احکامات کا ذکر ہے اور ریاست مدینہ کی مثال دی گئی ہے۔ اسلامی روایت کے تحت مہاجرین کو ہر طرح کا تحفظ دینا اور خیال رکھنا لازمی ہے۔ تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے کر اس مسئلے کو حل کیا جائے گا تاہم اس مسئلے کو زیادہ التواء میں نہیں ڈالا جاسکتا۔ اس طرح بہاری پاکستانی شہری تھے یہ بنگالی نہیں تھے۔

اس مسئلے کو بھی دیکھنا ہوگا۔ توجہ مبذول نوٹس پر حنا ربانی کھر ‘ ڈاکٹر نفیسہ شاہ‘ اختر مینگل کے سوالات کے جواب میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ وزیراعظم نے اس حوالے سے کوئی غیر ذمہ دارانہ بیان نہیں دیا۔ انہوں نے انسانی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے بات کی ہے کہ جو بچہ یہاں پیدا ہوا ہے اسینیشنیلٹی ملنی چاہیے۔

ہم نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس پر عملدرآمد تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے کر کیا جائے گا۔ ہماری پالیسیاں کسی اخبار کی سٹوری سے متاثر نہیں ہوں گی۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شکر ہے کہ ان کے دل میں کراچی کا درد جاگا ہے۔ اتنے سالوں سے سندھ میں ان کی حکومت ہے۔ کراچی سمیت پورے پاکستان میں افغان مہاجرین اور بہاری آباد ہیں۔

ہم نے اعداد و شمار اکٹھے کرنے شروع کردیئے ہیں۔ انہوں نے یہ کام نہیں کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مہاجرین کے حوالے سے یو این ایچ سی آر کے آٹھ معاہدے ہیں۔ یہ ان معاہدوں سے ماضی میں یوٹرن لیتے رہے۔ سٹیزن شپ ایکٹ سمیت ہر قانون میں ترمیم لائی جاسکتی ہے۔ ہمارے وزیراعظم نے اس مسئلے کو حل کرنے کی بات کی ہے۔ یہ یو ٹرن نہیں مشاورتی عمل ہے۔ اختر مینگل نے کہا کہ اگر یہ قومی مسئلہ ہے تو اس پر قومی اسمبلی میں بحث کیوں نہیں کرائی جاتی۔

تمام جماعتوں کی رائے لینے کے بعد اس مسئلے کو حل کیا جائے۔ سب سے پہلے رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ مہاجرین کی تعداد معلوم ہونی چاہیے۔ کسی ہمسایہ ملک یا انسانی حقوق کے نام پر ہم اپنے قومی تشخص کو قربان نہیں کر سکتے۔ ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ اس معاملے پر ہر جماعت کو اپنی تجاویز دینی چاہئیں۔ ماضی کی کسی صوبائی یا مرکزی حکومت نے اعداد و شمار اکٹھے کرنے کا کوئی کام نہیں کیا، ہم نے کام شروع کردیا ہے۔

اس مسئلے پر بحث کرانے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ سپیکر نے کہا کہ اس مسئلے پر جو جماعت بھی بحث کرانا چاہتی ہے قاعدہ 259 کے تحت تحریک لے کر آئے۔ آغا حسن بلوچ نے کہا کہ اس مسئلے پر بحث ہونی چاہیے۔ ان کے سوال کے جواب میں ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ جب بھی اعداد و شمار اکٹھے ہوئے ایوان کو آگاہ کریں گے۔ اس حوالے سے ہم کوئی بھی پالیسی اتفاق رائے سے بنانا چاہتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں