پاکستان کی اقتصادی مشکلات کے ذمہ دار اسحاق ڈار اینڈ کمپنی ہیں‘

ملک کو قرضوں کے جال میں پھنسایا گیا ہے‘ عمران خان کے وژن کے مطابق تحریک انصاف نے عوام سے جس انقلاب اور تبدیلی کا وعدہ کیا تھا وہ پورا کیا جائے گا‘ اس وقت ہمارے پاس ڈیڑھ ماہ کے زرمبادلہ کے ذخائر ہیں، پاکستان کی معیشت کے ساتھ مجرمانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا گیا اوراداروں کو نقصان پہنچایا گیا، ہمارا وژن یہ ہے کہ امیر لوگ سبسڈی نہ لیں اور غریبوں پر بوجھ نہ ڈالا جائے، وزیراعظم 11 سو کنال کا وزیراعظم ہاؤس چھوڑ کر تین بیڈ روم کی سٹاف کالونی میں قیام پذیر ہیں وفاقی وزیر اطلاعات نشریات و قومی ورثہ چوہدری فواد حسین کا قومی اسمبلی میں ضمنی مالیاتی بل پر بحث کے دوران اظہار خیال

منگل ستمبر 16:30

پاکستان کی اقتصادی مشکلات کے ذمہ دار اسحاق ڈار اینڈ کمپنی ہیں‘
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 ستمبر2018ء) وفاقی وزیر اطلاعات نشریات و قومی ورثہ چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی مشکلات کے ذمہ دار اسحاق ڈار اینڈ کمپنی ہیں‘ مسلم لیگ (ن) کی تجربہ کاروں کی حکومت نے پاکستان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان کے ساتھ کیا تھا‘ ملک کو قرضوں کے جال میں پھنسایا گیا ہے‘ عمران خان کے وژن کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت نے عوام سے جس انقلاب اور تبدیلی کا وعدہ کیا تھا وہ پورا کیا جائے گا‘ ہماری ایک ماہ کی کارکردگی ان کی ایک سال کی کارکردگی سے بہتر ہے‘ ہم نے جس تبدیلی کا وعدہ کیا ہے انشاء اللہ ایک ایک کرکے پورا کریں گے اور پورا کرکے دکھائیں گے۔

منگل کو قومی اسمبلی میں ضمنی مالیاتی بل پر بحث کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے اپنی تقریر کا آغاز جان پرکن کی کتاب کے اقتباس سے کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح ایک امپائر تیسری دنیا کیلئے اقتصادی نظام بناتے ہیں‘ جب ایسٹ انڈیا کمپنی کا سفیر مغل بادشاہ اکبر کے دربار میں آیا تھا تو اس کے پاس ایک پورا اقتصادی منصوبہ موجود تھا کہ کس طرح ہندوستان کے وسائل پر قابض ہونا ہے‘ بالکل اسی طرح جب 2013ء میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئی تھی تو ان کے پاس بھی ملک کو قرضوں کے جال میں پھنسانے کا مکمل ایجنڈا موجود تھا۔

(جاری ہے)

ان تجربہ کاروں کی حکومت نے جب حکومت سنبھالی تو انہوں نے پاکستان کے ساتھ وہی کیا جو ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں کیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ہمارے بچے اور ان کے بچے قرضے ادا کرتے جائیں ۔ انہوں نے جس طرح کی حکومت کی ہے وہ پوری قوم کے سامنے ہے، بجٹ خسارہ 7.2 فیصد تھا‘ ہمارے اخراجات 2780 ارب روپے زائد تھے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں حسابات جاریہ کے خسارے میں پانچ فیصد اضافہ ہوا۔

زرمبادلہ کے ذخائر جو ملکی اقتصادیات کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ان کی حالت سب کے سامنے ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمارے پاس ڈیڑھ ماہ کے زرمبادلہ کے ذخائر ہیں، یہ وہ حالات تھے جس میں تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے۔ 2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے قرضوں کا حجم 6 ٹریلین روپے تھا۔ 2013ء میں یہ 13 ٹریلین تھے، بزرج مہروں اور ارسطو کی حکومت جب ختم ہوگئی تو قرضوں کا حجم 28 ٹریلین تک پہنچ چکا تھا، کیا اس کی ذمہ دار 28 دن کی حکومت یا وہ لوگ ہیں جنہوں نے ملک کو قرضوں کے جال میں پھنسا دیا۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا کہ قرضوں کو اس سطح تک پہنچایا جائے جس سے ملک مشکلات کا شکار ہو، اس پالیسی کے نتیجے میں چند لوگ ارب پتی ہوگئے، ایسے لوگوں نے ایون فیلڈ میں رہائش گاہیں لے لیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اقتصادی مسائل کے ذمہ دار اسحاق ڈار اینڈ کمپنی ہے جن کو سابق وزیراعظم نواز شریف کی مکمل حمایت حاصل تھی۔

اسحاق ڈار عدالتوں کو مطلوب تھے اس کے باوجود ان کو باہر بھجوا دیا گیا اور اب وہ نہیں آرہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے قرضے لے کر کھیل کے لئے کھلونے بنائے، پنجاب میں میٹرو بنائی گئیں، صرف دس برسوں میں شہباز شریف نے 11 ٹریلین روپے خرچ کئے ہیں۔ آج اسلام آباد لاہور اور ملتان میں میٹرو تو بن گئی ہیں ‘ پنجاب حکومت کو ان بسوں کو چلانے کے لئے آٹھ ارب روپے چاہئیں۔

اورنج ٹرین لائن پر 300 ارب روپے خرچ کئے گئے لیکن اس کی ادائیگی ہماری آنے والی نسلیں کریں گی۔ میٹرو ٹرین کو چلانے کے لئے سالانہ 20 ارب روپے درکار ہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کے ساتھ مجرمانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا گیا۔ اداروں کو نقصان پہنچایا گیا۔ ریڈیو پاکستان میں 700 لوگ کنٹریکٹ پر کام کر رہے ہیں‘ ان کی تنخواہوں کے لئے پیسے نہیں ہیں‘ 20 کروڑ روپے پنشن کی مد میں بقایا جات ہیں‘ اس کو سدھارنے کی اجازت نہیں ہے۔

700 لوگوں کو تو نوکریوں سے نہیں نکالا جاسکتا لیکن اگر وسائل پیدا نہ کئے جائیں تو ان کے لئے تنخواہ کہاں سے دی جائے۔ کیا ملک کو اس طرح چلایا جائے جو ماضی کی ’’تجربہ کار ‘‘ حکومتیں چلاتی آرہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق اصلاحات متعارف کرا رہی ہے۔ ہمارا وژن یہ ہے کہ امیر لوگ سبسڈی نہ لیں اور غریبوں پر بوجھ نہ ڈالا جائے، گیس کی قیمتوں میں اضافہ عام آدمی کے لئے نہیں ہے، پچاس ایم ایم ایف تک گیس استعمال کرنے والے گیس صارفین کے لئے 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے اپوزیشن لیڈر کی جانب سے چارٹر آف اکانومی کی تجویز کو سراہا اور کہا کہ یہ اچھی تجویز ہے اور اس پر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ معیشت کی خرابی کے جو ذمہ داران ہیں ان کی حمایت ختم ہونی چاہیے، پاکستان اس وقت جن معاشی مسائل میں گھرا ہوا ہے ہمیں ان کے ذمہ داروں کا پتہ ہے‘ ہماری حکومت کی پالیسی ہے کہ غریب آدمی کو بچایا جائے اور امیروں کو ٹیکس دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سارک کانفرنس کے لئے 98 کروڑ روپے کی مالیت سے 33 قیمتی گاڑیاں خریدی گئیں حالانکہ یہ کانفرنس منعقد بھی نہیں ہوئی۔ ان گاڑیوں پر 33 کروڑ روپے مرمت کی مد میں خرچ ہوئے اس کے باوجود بھی تنقید کی جارہی ہے کہ گاڑیاں نیلام نہ کریں۔ وزیراعظم عمران خان نے اب تک جو اقدامات کئے ہیں ماضی کے کسی وزیراعظم نے اس طرز عمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔

وزیراعظم 11 سو کنال کا وزیراعظم ہاؤس چھوڑ کر تین بیڈ روم کی سٹاف کالونی میں قیام پذیر ہیں، وہ صوابدیدی فنڈز سے دستبردار ہوگئے۔ ماضی میں نواز شریف نے تھر میں بھی ایئرپورٹ کا افتتاح کیا جہاں آبادی ہی نہیں ہے۔ اسی طرح بنوں کے دورے کے موقع پر بھی انہوں نے ایئرپورٹ کا اعلان کیا۔ ایئرپورٹ اور موٹرویز کے اعلانات انہوں نے اس طرح کئے جس طرح سٹیپ سیلز کی گولیاں بانٹی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تنقید کرنے والوں کی حکومت کے پاس کوئی اقتصادی وژن نہیں تھا اور نہ ہی کوئی سوچ تھی جس محکمہ میں بھی آپ جائیں تو آگے سے کہا جاتا ہے کہ یہاں مسلم لیگ (ن) کے ورکر ہیں۔ دفتر آتے نہیں ایک ایک خاندان کے سات سات لوگ بھرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے وژن کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت نے عوام سے جس انقلاب اور تبدیلی کا وعدہ کیا تھا وہ پورا کیا جائے گا۔ ہماری ایک ایک ماہ کی کارکردگی ان کی ایک سال کی کارکردگی سے بہتر ہے۔ ہم نے جس تبدیلی کا وعدہ کیا ہے انشاء اللہ ایک ایک کرکے پورا کریں گے اور پورا کرکے دکھائیں گے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments