اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںضمی انتخاب میں کامیابی نے مسلم لیگ ن میں نئی جان بھر دی ، نئی حکمت عملی ..

ضمی انتخاب میں کامیابی نے مسلم لیگ ن میں نئی جان بھر دی ، نئی حکمت عملی تیار کر لی

دسمبر میں مسلم لیگ ن موجودہ حکومت اور اداروں کے خلاف مہم چلائے گی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 16 اکتوبر 2018ء): ضمنی انتخاب میں کامیابی کے بعد مسلم لیگ ن میں ایک نئی جان پیدا ہو گئی ہے جس کی وجہ سے مسلم لیگ ن نے سیاسی طور پر مزید متحرک ہونے اور حکومت مخالف تحاریک چلانے کی نئی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کی نئی حکمت عملی کے تحت دسمبر کے آغاز میں موجودہ حکومتی جماعت اور اداروں کے خلاف بھرپور احتجاجی مہم چلائی جائے گی، اس مہم میں مسلم لیگ ن کا ہدف پاکستان تحریک انصاف ہو گی جبکہ ریاستی اداروں کو بھی ہدف تنقید بنانے کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز دسمبر میں شروع ہونے والی اس تحریک کی رہنمائی کریں گے اور اس تحریک کوپاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو کمزور کرنے ، بلدیاتی انتخابات کے تیاری اور نیب عدالتوں، اداروں پر سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

(خبر جاری ہے)

ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ ن کی احتجاجی تحریک کے ساتھ ساتھ موجودہ حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اندر توڑ پھوڑ بھی کی جائے گی اور ان کے کئی رہنماؤں کو اپنے ساتھ ملنے کی پیشکش کی جائے گی ۔

اس کے علاوہ عام انتخابات سے قبل پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے والے مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق کے ارکان اسمبلی کا فارورڈ بلاک بنایا جائے گا جن کو یہ آپشن دی جائے گی کہ وہ پاکستان تحریک انصاف کو چھوڑیں اور اسی نشست پر ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر حصہ لین۔اس حوالے سے مسلم لیگ ن کے اندرونی ذرائع نے 40 سے زائد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی سے رابطوں میں ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

تاہم نئی حکمت عملی کو کچھ دنوں کے لیے خفیہ رکھا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کی اس نئی حکمت عملی اور تحریک کا اعلان جلسے کرنے سے شروع ہو گا۔ جبکہ پارٹی کے دیگر معاملات خفیہ طور پر طے ہوں گے ۔ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ ن کی اہم قیادت اس حد تک جانے کے لیے تیار ہو چکی ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت گرانے کے لیے ان کو پیپلز پارٹی کو اقتدار دینا پڑا تو اس کے لیے بھی وہ بارگین کر سکتے ہیں۔

اسی لئے آج شہباز شریف کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر مسلم لیگ ن کی طرف سے بھرپور طاقت کا مظاہرہ کیا جائے گا اور کئی اہم ن لیگی رہنما اس موقع پر میڈیا ٹاک میں مزید احتجاج کا اشارہ بھی دیں گے۔ ذرائع کے مطابق ن لیگ کے اہم رہنماؤں نے یہ بھی کہا کہ جس طرح اس ضمنی الیکشن میں آر او دفاتر کا گھیراؤ کرنے سے رزلٹ ان کی مرضی کا آیا ہے ، اسی طرح اگر عدالتوں اور اداروں پر پریشر ڈالا گیا تو مزید حالات ہمارے حق میں ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن کی غیر متوقع کامیابی ان کی حکمت عملی اور شہباز شریف کی گرفتاری کو کیش کروانے کی وجہ سے ہی ممکن ہوئی۔ ضمنی انتخاب کے دس روز قبل پارٹی صدر شہباز شریف کو نیب نے گرفتار کیا جس کے بعد ہی مسلم لیگ ن نے اس گرفتاری کو کیش کروانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ یہی نہیں پارٹی صدر کی گرفتاری اور پارٹی قائد کی عدالت میں پیشیوں پر عوام کی ہمدردی حاصل کر کے ووٹ بنک بڑھانے کی مسلم لیگ ن کی حکمت عملی نے ضمنی انتخاب میں اپنا کام دکھا دیا۔

ضمنی انتخاب میں پاکستان مسلم لیگ ن کی غیر متوقع کامیابی مسلم لیگ ن کے لیے ''تنکے کا سہارا'' بنا۔ اس کامیابی کے بعد مسلم لیگ ن ، جو گذشتہ کچھ عرصہ سے سیاسی وفات پانے کے قریب تھی، ایک مرتبہ پھر سے اپنا لوہا منوانے کے لیے سرگرم ہو گئی ہے۔ ضمنی انتخاب میں کامیابی نے نہ صرف پارٹی رہنماؤں بلکہ پارٹی کارکنان کی بھی حوصلہ افزائی کی اور ڈھارس بندھائی جس سے ان میں ایک نیا جوش و ولولہ پیدا ہو گیا اور پارٹی کی جان میں جان آگئی اور اسی وجہ سے پارٹی نئی حکمت عملی تشکیل دے رہی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں