اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںن لیگی ایم پی اےضیاء الرحمن جعلی ڈگری کی بنیاد پرنااہل قرار ضیاءالرحمن ..

ن لیگی ایم پی اےضیاء الرحمن جعلی ڈگری کی بنیاد پرنااہل قرار

ضیاءالرحمن عدالت کو 5 احادیث عربی میں نہ سنا سکے، جس پرسپریم کورٹ نے نااہل قرار دے دیا، ضیاء الرحمن پی کے30 سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے

لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔18 اکتوبر 2018ء) مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی ضیا الرحمن کوجعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہل قرار دے دیا گیا، ضیاء الرحمن کو ہائیکورٹ نے بھی جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہل قرار دیا ہے، ن لیگ کے رہنماء ضیاء الرحمن ، پی کے30 سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنماء ضیاء الرحمان کے مدمقابل امیدوار پیپلزپارٹی نے ان کی ڈگری پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کی تھی جس پر عدالت نے ان کی ڈگری کو جعلی قرار دیتے ہوئے ان کو نااہل قرار دے دیا ہے۔

جس پر ضیاءالرحمان نے اپنی نااہلی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ تاہم عدالت میں جعلی ڈگری کیس کی سماعت ہوئی تو عدالت میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کے مؤکل نے کہا کہ دسمبر 1996 میں میٹرک کیا۔

(خبر جاری ہے)

آپ نے 1996ء میں ہی میٹرک کیا اور 1996ء میں ہی احادیث کا کورس بھی کرلیا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ نے دونوں ڈگری ایک ساتھ حاصل کرلی ہوں؟ انہوں نے کہا کہ جب میٹرک کی سندملی،اسی سال شہادۃ العامیہ کی ڈگری کیسے مل گئی۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ مدرسے کے مہتمم نےعدالت میں پیش ہوکرکہا کہ سند جاری نہیں کی گئی۔ پشاورہائی کورٹ نے آپ کو نا اہل کیا۔ عدالت نے ضیاء الرحمان کو روسٹرم پر بلایا اور ان سے ڈگری سے متعلق سوالات کیے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بتائیں آپ نے مدرسے میں کون سا نصاب پڑھا۔ ضیاء الرحمان نے بتایا کہ حدیثیں اور فقہ پڑھی۔ آپ ہمیں کوئی 5 احادیث عربی میں سنا دیں۔ ضیاء الرحمان ایک بھی حدیث نہ سنا سکے۔ چیف جسٹس نے سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ خدا کے لیے اپنی عمر کا لحاظ کریں۔ آپ کو اپنی عزت کا ہی خیال نہیں؟ تاہم عدالت نے ن لیگی رکن صوبائی اسمبلی ضیاء الرحمان کوجعلی ڈگری پرنااہل قراردے دیا ہے۔ ضیاء الرحمان کو ہائی کورٹ نے بھی جعلی ڈگری کی بنیاد پر نا اہل کیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں