اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںسینیٹ کمیٹی،پیمرا کو 3کروڑ میں سے صرف25لاکھ جرمانہ وصول ہونے کا انکشاف ہم ..

سینیٹ کمیٹی،پیمرا کو 3کروڑ میں سے صرف25لاکھ جرمانہ وصول ہونے کا انکشاف

, ہم دس لاکھ سے زائد جرمانہ عائد نہیںکر سکتے، پیمرا کے پاس ریگولیٹری اختیار ہے، عملد رآمد کا نہیں، وزیراعظم کی پیراڈی والی اشتہارکا نوٹس لیا ہے،چیئرمین پیمرا , محرم میں پی ٹی وی پرچلنے والی اشتہار پر دو لوگوں کو معطل کیا گیا ،کنٹنڈ کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے، آئندہ اشتہارات چلنے سے پہلے چیک کیاجائے گا، سیکرٹری وزارت اطلاعات , میڈیا کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے، ایک اشتہار میں وزیراعظم کی نقل اتاری جارہی ہے،،قانون تو موجود ہیں مگر عملد درآمد نہیں ہو رہا،چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی فیصل جاوید , پیمرا کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تو اتنا پیسہ کیوں خرچ کیا جارہا ہے، کسی قوم کی توہین قبول نہیں،کمیٹی ارکان، عثمان کاکڑ اور محمد علی سیف غیر تسلی بخش جوابات پر اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے

اسلام آبا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اکتوبر2018ء) پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے چیئرمین نے سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات ونشریات میں انکشاف کیا ہے کہ پیمراتقریباًًساڑھے تین کروڑ میں سے صرف 25لاکھ جرمانہ وصول کرنے میںکامیاب ہواہے،باقیوں نے عدالت کا رخ کیا، جس وجہ سے جرمانے کی وصول نہیں ہو سکی۔جمعرا ت کوسینٹ قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر فیصل جاوید کی زیر صدارت ہوا۔

اجلاس میں سینیٹر رحمن ملک، انورالحق کاکڑ، عثمان کاکڑ، سجادحسین طوری،پرویز رشید، غوث محمد نیاز، خوش بخت شجاعت اور روبینہ خالد نے شرکت کی۔اجلاس میں سینیٹر عثمان کاکڑ اور محمد علی سیف کی جانب سے پختونوں سے متعلق سرکاری میڈیا پر چلنے والے اشتہار اور نجی ٹی وی پر مہمان کی رائے کے بارے میں تحفظات کا جواب دیتے ہوئے چیئرمین پیمرا نے کہا کہ پیمرا شکایات کی بنیاد پر ایکشن لیتاہے، نجی ٹی وی پر پختونوں سے متعلق ریمارکس کے بعد مانیٹرنگ سیل نے فوری نوٹس لیا، میں نے ذاتی طور پر چینل کے مالک سے بات کی ، جس پر انہوں نے معافی مانگی،مالک کو آئندہ کیلئے ورننگ دی گئیں،ہم نے اس معاملے کو شکایات سیل میں بھیج دیئے ہیں، شکایات سیل کے فیصلے کی روشنی میںہی فیصلہ کیا جائے گا،ہم زیادہ سے زیادہ دس لاکھ کا جرمانہ کر سکتے ہیں، پیمرا کے پاس ریگولیٹری اختیار ہے، عملد رآمد کا نہیں۔

(خبر جاری ہے)

انہوں نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ وزیراعظم کی نقل اتارتے ہوئے چلنے والی اشتہار پر پیمرا نے نوٹس لیا ہے اور تمام چینلز کو اشتہار کو نہ چلانے کی ہدایات جاری کی ہے۔سینیٹر محمد علی سیف نے کہا کہ اگر پیمرا کچھ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو اس پر اتنا پیسہ کیوں خرچ کیا جارہا ہے،ایک نجی چینل پر ایک تجزیہ کار نے پختونوں سے متعلق توہین آمیز ریمارکس دیئے، نہ اس پروگرام کی اینکر نے روکا نہ ہی چینل کے حکام نے، وہ پروگرام تین دفعہ چلی مگر پیمرانے نوٹس تک نہ لیا،چینل کی اینکر، تجزیہ کار اور مالک کو کمیٹی میں بلایا جائے، ان کے اپنے ادارے کے لوگ چیف جسٹس سے فریاد کررہے تھے کہ تنخواہ نہیں ملی، ہمارے لیے جج بننے بیٹھے ہیں۔

سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ کسی بھی قوم کے بارے میںبھی توہین آمیز بیانات کی ہرگز قبول نہیں،پاکستان کی تمام قومیں،تمام نسلوں، تمام زبانوں کے لوگ ہمارے لیے قابل احترام ہیں،اس سارے عمل کو پنجاب اور پنجابیوں سے نہیں جوڑنا چاہیے،میری اہلیہ بنوں سے ہیں،میری دونوں بیٹیاں گھر میں پشتو بولتی ہیں، پختونخوں کے ساتھ ہمارا محبت کا رشتہ ہیں۔

سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ سرکاری میڈیا میں پختونوں کی تضحیک کی جاتی ہے،محرم کے دنوں میں متنازعہ اشتہار چلایا گیا،پختون وفا درار ہیں۔سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ پختون علم میں کسی سے کم نہیں،ان کو بیوقوف کا تاثر ایک دن کا پیدا کردہ نہیں،مذاق قابل برداشت ہیں مگر دہشتگرد قرار دینا ہرگز برداشت نہیں۔سینیٹر خوش بخت شجاعت نے کہا کہ مالی کرپشن کے ساتھ ساتھ اخلاقی کرپشن کو بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے،تاریخ میں لکھے گی کہ میڈیا نے پاکستان کی آنے والی نسل کو تباہ کیا۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ میڈیا کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے، ایک اشتہار میں وزیراعظم کی نقل اتاری جارہی ہے،اس کی کیا قانون میں اجازات ہے، عوامی تفریح کی غرض سے سیاستدانوں کی نقل اتارنے کی اجازت ہے، اگر اشتہار میں اس کی اجازت نہیں تو قانون کے مطابق اس اشتہاری کمپنی کے خلاف کاروائی کی جائے۔ فیصل جاوید نے کہا کہ وزارت اطلاعات کیا کررہی ہے اس بارے میں علم ہونا لازمی ہے،قانون تو موجود ہیں مگر عملد درآمد نہیں ہو رہا۔

سیکرٹری وزارت اطلاعات و نشریات نے کمیٹی کو بتایا کہ پی ٹی وی پر چلنی والے اشتہار پر پی ٹی وی کے دو متعلقہ لوگوں کو معطل کیا گیا ہے، حکومت نے کنٹنڈ (Content) کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے، یہ کمیٹی آئندہ اشتہارات کو چلنے سے پہلے مواد کو چیک کریگی، کمیٹی کی تصدیق کے بعد پی ٹی وی پر چلایا جائے گا،کمیٹی کا سربراہ وفاقی وزیر اطلاعات کے ہوںگے۔دریں اثناء سینیٹر عثمان کاکڑ اور سینیٹر محمد علی سیف وفاقی وزیر اطلاعات اور حکام کی جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں