اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریں سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاﺅئنٹس کیس کی سماعت ‘سندھ حکومت تعاون ..

سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاﺅئنٹس کیس کی سماعت ‘سندھ حکومت تعاون نہیں کر رہی. سربراہ جے آئی ٹی

با اثرملزم صبح جیل حکام کے کمرے اور رات کو گھر ہوتے ہیں‘انورمجید کو اڈیالہ منتقل کردیتے ہیں ہر وقت ڈاکٹرکی سہولت دستیاب رہے گی. چیف جسٹس کے ریمارکس

اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 22 اکتوبر۔2018ء) سپریم کورٹ میں جعلی بینک اکاﺅئنٹس کیس کی سماعت کے دوران جے آئی ٹی نے دوسری پیش رفت رپورٹ پیش کی، جس پر چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کیا تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں؟سربراہ جے آئی ٹی احسان صادق نے چیف جسٹس کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں، معاملہ جعلی اکاﺅئنٹس سے زیادہ پیچیدہ ہے. چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ چورمرجائیں گے ایک پیسہ نہیں دیں گے‘ کیا آپ معاملہ کی تہہ تک پہنچ جائیں گے؟سربراہ جے آئی ٹی نے جواب دیا معاملہ کی حقیقت کا پتہ چلائیں گے، سندھ حکومت ہمارے ساتھ تعاون نہیں کر رہی ہے.

(خبر جاری ہے)

احسان صادق نے کہا دومردوں کے بھی بینک اکاﺅنٹس کھولے گئے، اب تک کی تحقیقات کے مطابق بہت بڑا فراڈ ہوا‘ 47 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز جعلی اکاﺅنٹس سے سامنے آئیں، 36 بے نامی کمپنیوں سے مزید 54 ارب روپے منتقل ہوئے.سربراہ جے آئی ٹی نے بتایا اومنی گروپ کی متعدد کمپنیاں کیس سے منسلک ہیں‘جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کیا رقوم اب بھی اکاﺅنٹس میں موجود ہیں؟جواب میں احسان صادق نے بتایا کہ رقوم نکلوا کر اکاﺅنٹس بند کردیئے جاتے تھے.احسان صادق نے بنچ کو بتایا کہ سیکرٹری توانائی ہمارے ساتھ تعاون نہیں کررہے.چیف جسٹس نے کہا سنا ہے ملزمان ہسپتال منتقل ہو گئے ہیں.سربراہ جے آئی ٹی نے بتایا انورمجید کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے ، انور مجید نے دل کی تکلیف کی شکایت کی تھی.چیف جسٹس نے کہا سندھ کے ڈاکٹرز کی رپورٹس پر اعتبار نہیں‘عدالت نے سی ایم ایچ کراچی کو ملزم کی رپورٹس کا جائزہ لینے کی ہدایت کی.چیف جسٹس نے کہا کہ با اثرملزم صبح جیل حکام کے کمرے اور رات کو گھر ہوتے ہیں‘سپریم کورٹ نے 26 اکتوبرکو آئی جی سندھ کو بھی طلب کرلیا جبکہ اومنی گروپ کے وکیل کی جے آئی ٹی رپورٹ فراہم کرنے کی استدعا بھی مسترد کردی گئی.چیف جسٹس نے کہا انور مجید کو کراچی سے یہاں لانے کا سوچ رہا ہوں، انورمجید کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیتے ہیں‘24 گھنٹے انہیں ڈاکٹرکی سہولت میسرہوگی، زیادہ مسئلہ ہوا تو آر آئی سی یا پمز لایا جا سکتا ہے.عدالت نے سندھ حکومت کو ریکارڈ فراہم کرنے کیلئے 4 ماہ کا وقت دینے کی استدعا بھی مسترد کردی. چیف جسٹس نے کہا 4 ماہ کا وقت نہیں دے سکتے، کارسرکارمیں مداخلت ہو گی تو کارروائی ہوگی.جعلی بنک اکاﺅنٹس کیس کی سماعت 26 اکتوبر تک ملتوی کردی، آئندہ سماعت کراچی میں ہوگی.


اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں