اُردو پوائنٹ پاکستان اسلام آباداسلام آباد کی خبریںجنگ کا خطرہ یا کچھ اور بھارت نے پاکستان کے بارڈر کے قریب خطرناک ہتھیار ..

جنگ کا خطرہ یا کچھ اور

بھارت نے پاکستان کے بارڈر کے قریب خطرناک ہتھیار نصب کر دئے

بھارت (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 23 اکتوبر 2018ء): بھارت پاکستان کے لیے ہمیشہ سے ہی اپنی روایتی ہٹ دھرمی دکھاتا آیا ہے۔ بھارت میں کوئی بھی کارروائی یا کوئی بھی واقعہ ، بھارت کے لیے پاکستان کو ہی مورد الزام ٹھہراتا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بھارت نے پاکستان کے بارڈر کے ساتھ خطرناک ہتھیار نصب کر دئے ہیں ، اب اسے بھارت کا خوف کہیں یا جنگ کا خطرہ۔

پاکستان نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے لائن آف کنٹرول پر بھارت نے بھارتی ہتھیاروں کی منتقلی اور سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے چئیرمین کو خط لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ گذشتہ ہفتے بھارت نےلائن آف کنٹرول کو نشانہ بنانے کے لیے کشمیر میں بڑے ہتھیار لانچ کیے۔

(خبر جاری ہے)

13 سال میں اس طرح کے ہتھیاروں کا استعمال پہلی مرتبہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن و سلامتی کو کمزور کرنے کے حوالے سے بھارتی ارادے کا یہ واضح اشارہ ہے۔ ملیحہ لودھی نے کہا کہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں سے علاقائی امن و سلامتی کو حقیقی خطرہ لاحق ہے۔ لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا مقصد بھارت کی جانب سے کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے بین الاقوامی توجہ ہٹانا ہے۔

ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری اور سلامتی کونسل کے چئیرمین سے مطالبہ کیا کہ بھارت کی جانب سے کی جانے والی سیز فائر معاہدے کی خلاورزیوں کا نوٹس لیا جائے۔واضح رہے کہ بھارت لائن آف کنٹرول پر پاکستانی آبادی کو نشانہ بناتا اور سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کرتا آیا ہے ، یہی نہیں بلکہ بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم بھی کسی سے ڈھکے چھُپے نہیں ہیں تاہم اب بھارت کا پاکستانی بارڈر کے قریب ہتھیار نصب کرنا بھارت کے جنگی جنون کی واضح نشانی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں -

اسلام آباد شہر کی مزید خبریں