ریاست مدینہ کا تصور درحقیقت عدل و انصاف، احکام خداوندی کی ترویج اور غیر مسلموں کے تحفظ پر مبنی ہے،نور الحق قادری

صوفیاء کرام کے افکار سے رجوع نہ کرنے تک ہماری نجات ممکن نہیں ، استقامت کا مرتبہ کرامت سے بالاتر ہے، اولیائے کرام کے روشن و اعتدال پر مبنی افکار کو روشن کرانا متعارف کرانا وقت کا اہم تقاضا ہے، وفاقی وزیر مذہبی امور کا افکار اولیا کانفرنس سے خطاب

منگل نومبر 20:00

ریاست مدینہ کا تصور درحقیقت عدل و انصاف، احکام خداوندی کی ترویج اور ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 نومبر2018ء) وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ ریاست مدینہ کا تصور درحقیقت عدل و انصاف، احکام خداوندی کی ترویج اور غیر مسلموں کے تحفظ پر مبنی ہے،صوفیاء کرام کے افکار سے رجوع نہ کرنے تک ہماری نجات ممکن نہیں ، استقامت کا مرتبہ کرامت سے بالاتر ہے، اولیائے کرام کے روشن و اعتدال پر مبنی افکار کو روشن کرانا متعارف کرانا وقت کا اہم تقاضا ہے۔

منگل کو افکار اولیاء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موضوع کے اعتبار سے یہ کانفرنس انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے حضرت مجدد الف ثانی کے حوالہ سے کہا کہ تحریک پاکستان کی بنیاد مجدد الف ثانی کے افکار ہیں۔ جب تک ہم صوفیاء کرام کے افکار سے رجوع نہیں کریں گے ہماری نجات ممکن نہیں ہو گی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ صوفیاء اور ہمارے بزرگوں نے جس پاکستان کیلئے کوششیں کیں وہ درحقیقت ریاست مدینہ کا تصور تھا کیونکہ مدینہ ریاست کا تصور عدل و انصاف اور احکام خداوندی کی ترویج اور غیر مسلموں کے تحفظ کا تصور تھا۔

انہوں نے حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے لنگر خانہ میں سکھ، ہندو، عیسائی اور مسلمانوں سمیت ہر مذہب اور ہر قبیلہ کے لوگ بیٹھتے، اس کا اثر یہ ہوا کہ پہلے وہ ذکر و اذکار سنتے اور بعد میں وہ اسلام میں داخل ہو جاتے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے تقریریں کم تھیں اور کام زیادہ ہوتا تھا، ان کا اٹھنا، بیٹھنا، اوڑھنا اور بچھونا دین اور شریعت محمدی کے مطابق ہوتا تھا، سرکار دو عالمؐ کی ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حضور اکرمؐ نے سب سے پہلے اپنا کردار لوگوں کے سامنے پیش کیا اور بعد میں انہیں دین کی دعوت دی۔

ڈاکٹر نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ تصوف یا طریقت دنیا کو چھوڑنے کا نام نہیں ہے، دنیا کے مشاغل کو ترک کرنا رہبانیت ہے، اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا، صوفی کا طریقہ تو یہ ہے کہ ہاتھ کام کی طرف اور دل اپنے رب کی طرف متوجہ رہتا ہے، استقامت کا مرتبہ کرامت سے بالاتر ہے۔ انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ وقت کے ایک صوفی نے حضرت رابعہ بصری کی طرف پیغام بھیجا کہ آج تک کسی عورت کو نبوت کا منصب نہیں ملا جس پر حضرت رابعہ بصریؒ نے جواب بھجوایا کہ کسی عورت نے بھی آج تک خدائی کا دعویٰ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی مسلمان کے دل کی دنیا کو خوش رکھنا ہی اولیاء کا کام ہے، صوفیاء کے روشن اور اعتدال کے افکار کو متعارف کرانا ہی وقت کا اہم تقاضا ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments