سپریم کورٹ، پاکپتن دربار اور دوکانوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کیس کی سماعت

نواز شریف کے وکیل کی طرف سے جمع کر ایا گیا جواب مسترد ،نواز شریف کو 4 دسمبر کو ذاتی حیثیت طلب کرلیا گیا

منگل نومبر 22:01

سپریم کورٹ، پاکپتن دربار اور دوکانوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کیس کی سماعت
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 نومبر2018ء) سپریم کورٹ میں پاکپتن دربار اور دوکانوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ ‘ عدالت نے میاں نواز شریف کے وکیل کی طرف سے جمع کرائے گئے جواب کو مسترد قرار دیتے ہوئے نواز شریف کو 4 دسمبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی۔

اس موقع پر نواز شریف کے وکیل میاں منور اقبال نے عدالت میںجواب جمع کرایا تو چیف جسٹس نے سوال کیا کہ آپ نے اس جواب میں لکھا ہے کہ میاں نواز شریف نے ایسا کوئی آرڈر پاس ہی نہیں کیا۔ کیا آپ نواز شریف سے ملے ہیں۔ وکیل منور اقبال نے کہا کہ انہوں نے یہ جواب میاں نواز شریف کی ہی ہدایت پر جمع کرایا ہے۔ چیف جسٹس بولے کہ میں جانتا ہوں اس شریف آدمی کو پتہ بھی نہیں ہوگا کہ یہ مقدمہ کیا ہے۔

(جاری ہے)

اگر نواز شریف نے نوٹیفکیشن کی منسوخی کا حکم نہیں دیا تو اس کے ساتھ تو دھوکہ فراڈ ہوگیا ہے۔ پھر یہ مقدمہ ریفرنس کا بنتا ہے۔ چیف جسٹس نے میاں نواز شریف کے وکیل سے سوال کیا کہ کیا آپ یہ جواب جمع کراتے وقت اپنے ہوش و حواس میں تھے۔ وکیل منور اقبال نے کہا کہ میں عدالت کی معاونت کرنا چاہتا ہوں ۔ عدالت نے کہا کہ ہم نواز شریف کو خود بلا لیتے ہیں۔ وہ خود آکر بتائیں کہ حقیقت کیا ہے۔ عدالت نے میاں نواز شریف کو 4 دسمبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس کی سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کردی۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments