العزیزیہ ریفرنس کی سماعت ؛نوازشریف کا بیان ریکارڈ‘ حسین نواز کے جمع ٹیکس سے متعلق جواب دینے کا میں مجاز نہیں. سابق وزیراعظم

عدالت کے50میں سے45سوالوں کا جواب دیا باقی5سوالوں کے جواب قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد جمع کروائیں گے. احتساب عدالت میں بیان

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ نومبر 12:16

العزیزیہ ریفرنس کی سماعت ؛نوازشریف کا بیان ریکارڈ‘ حسین نواز کے جمع ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔14 نومبر۔2018ء) العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنا بیان قلمبند کروا یا انہوں نے 45سوالات کے جواب دیئے جبکہ 5سوالوں کے جواب کے لیے وقت مانگ لیا ہے . تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کیس کی سماعت جاری ہے‘ کیس سماعت احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کر رہے ہیں.

نواز شریف بیان ریکارڈ کرانے روسٹرم پر آئے تو جج ارشد ملک نے پوچھا کہ کیا آپ نے استغاثہ کے شواہد کو دیکھ، سن اور سمجھ لیا ہے جس پر نواز شریف نے کہا کہ جی میں نے شواہد دیکھ لے ہیں. سابق وزیر اعظم نواز شریف عدالت میں پیش ہو کر اپنا بیان قلمبند کروایا. سماعت کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے کئی راہنما نواز شریف کے ساتھ روسٹرم کے قریب موجود رہے .

بیان سے قبل نواز شریف کے وکیل زبیر خالد نے چند سوالوں میں درستگی کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ تین تین سوالوں کو ملا کر ایک سوال بنایا گیا ہے، جس پر جج نے کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں، ایک ایک کرتے تو 200 سوال بن جاتے. نواز شریف نے 342 کے تحت بیان قلمبند کرواتے ہوئے کہا کہ یہ درست ہے وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ، وزیر خزانہ اور اپوزیشن لیڈر رہا۔

(جاری ہے)

پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 1999 کو مارشل لا لگایا، مارشل لا کے دوران کوئی عوامی عہدہ نہیں رکھتا تھا.

عدالت نے استفسار کیا کہ آپ عوامی عہدوں پر رہنے کے باعث شریف خاندان کے سب سے با اثر شخص تھے‘ نواز شریف نے کہا کہ تفتیش کی رائے تھی کہ میں شریف خاندان کا سب سے بااثر شخص تھا، والد بھی آخری سانس تک ہمارے خاندان کے سب سے بااثر شخص تھے. انہوں نے کہا کہ درست ہے عدالت میں پیش دستاویزات میں نے ہی جمع کروائے تھے، ٹیکس ریٹرنز، ویلتھ اسٹیٹمنٹ اور ویلتھ ٹیکس ریٹرن جمع کروائے تھے‘2001سے 2008 تک میں جلا وطن تھا.

حسین نواز کے جمع ٹیکس سے متعلق جواب دینے کا میں مجاز نہیں. بیان کے دوران معاون وکیل نے استدعا کی کہ میاں صاحب بیٹھ جائیں ہم جواب تحریر کروا دیتے ہیں، جج نے نواز شریف سے کہا کہ اپنے جواب کی کاپی مجھے دیں میں پڑھ لیتا ہوں‘ کاپی لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس جواب میں کوئی بات سمجھ نہیں آئی تو میں پوچھ لوں گا. آج کی سماعت میں نواز شریف نے دیے گئے 50 سوالات میں سے 45 کے جوابات قلمبند کروادیے.

انہوں نے استدعا کی کہ مزید جوابات خواجہ حارث سے مشاورت کے بعد دوں گا، کچھ سوالات پیچیدہ ہیں، ریکارڈ دیکھنا پڑے گا. یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے احتساب عدالت کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کا ٹرائل مکمل کرنے کے لیے 17 نومبر تک کی مہلت دے رکھی ہے.

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments