لاہور کے شہری غضب ناک چیلوں کا شکار ہونے لگے

چیلیں شکار کی تلاش میں شہریوں کو نشانہ بنانے لگیں

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس بدھ نومبر 22:58

لاہور کے شہری غضب ناک چیلوں کا شکار ہونے لگے
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-14 نومبر 2018ء) :لاہور کے شہری فضا میں موجود غضبناک چیلوں کا شکار بننے لگے،چیلیں شہریوں کو نشانہ بنانے لگیں۔تفصیلات کے مطابق آج کل لاہور کی فضاوں میں چیلوں کی بھرمار ہوچکی ہے اور گزرتے دن کے ساتھ چیلوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔اس حوالے سے جنگلی حیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے یہ چیلیں بیابانوں میں رہتی تھیں اور وہاں شکار کرکے گزر بسر کرتی تھیں،تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ چیلیں شہروں کا رخ کرنے لگیں اور آسان شکار مل جانے کے باعث انکی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔

یہی صورتحال اب لاہور شہر کے ساتھ ہورہی ہے۔جہاں شہر کے مختلف حصوں میں چیلوں کی تعداد میں خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے بالخصوص بابو صابو انتڑچینج کے علاقے میں مذبحہ خانوں کے باعث اور دریائے راوی کے ارد گرد ان کی تعداد خاصی بڑھ چکی ہے۔

(جاری ہے)

تاہم اس حوالے سے تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ چیلیں اب انسانوں پر حملہ آور ہونے لگی ہیں۔لاہور کے متعدد شہری اب تک ان چلیوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ یہ چیلیں شکار کی تلاش میں لوگوں پر حملہ آور ہوتی ہیں اور چھوٹوں کے ساتھ ساتھ بڑوں کو بھی نشانے بنانے لگیں۔بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق چیلوں کے حملے کے حوالے سے عام لوگوں میں متفرق خیالات پائے جاتے ہیں۔ مگر عام لوگ چیلوں کے اس خاص رویے کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ دراصل چیلیں حملے کیوں کرتی ہیں۔ محکمہ جنگلی حیات کے ڈائریکٹر حماد نقی خان کے مطابق چیلوں کے شہریوں پر حملے کی وجہ لاہور کے مضافات بالخصوص دریائے راوی میں پھینکا جانے والا صدقے کا گوشت ہے۔

راوی کے دونوں پلوں کے ساتھ ساتھ بنے فٹ پاتھ پر آپ کو درجنوں ایسے مرد اور خواتین کھڑے دکھائی دیتے ہیں جن کے ہاتھ میں ایسی ڈھیروں تھیلیاں ہوتی ہیں جن میں تین سے چار بوٹیاں موجود ہوتی ہیں۔ پل سے گزرنے والے لوگ یہاں رک کر یہ گوشت خرید کر بطور صدقہ دریا میں پھینک دیتے ہیں۔ پل کے ارد گرد بجلی کے مختلف کھمبوں پر چیلوں نے اپنے آشیانے بنا رکھے ہیں۔ جہاں سے ان کی تیز نظر راہگیروں کی ہر نقل و حرکت پر ہوتی ہے۔ جونھی کوئی موٹر سائیکل یا گاڑی گوشت پھینکنے کے لیے رکتی ہے، چیلیں اڑتی ہوئی اس کی جانب لپکتی ہیں اور پھر فضا میں پھینکے جانے والے گوشت کو اچکنا شروع کر دیتی ہیں۔

متعلقہ عنوان :

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments