آئی ایم ایف کا توانائی سیکٹر کےبعد ایف بی آرمیں اصلاحات کا مطالبہ

پاکستان ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرے، نجکاری پروگرام پرمئوثرطریقے سے عملدرآمد کیا جائے، نقصان میں چلنے والے قومی اداروں کی نجکاری یا ان میں اصلاحات کی جائیں۔ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات نومبر 19:56

آئی ایم ایف کا توانائی سیکٹر کےبعد ایف بی آرمیں اصلاحات کا مطالبہ
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔15 نومبر 2018ء) آئی ایم ایف نے توانائی سیکٹر کے بعد فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) میں اصلاحات کا مطالبہ کردیا۔ آئی ایم ایف حکام نے کہا کہ پاکستان ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرے، نجکاری پروگرام پرمئوثر طریقے سے عملدرآمد کیا جائے، نقصان میں چلنے والے قومی اداروں کی نجکاری یا ان میں اصلاحات کی جائیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پالیسی مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔

وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کی ٹیم آج براہ راست مذاکرات کررہی ہے۔ آئی ایم ایف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں اصلاحات کا مطالبہ کردیا۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مذاکراتی ٹیم نے کہا کہ پاکستان ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرے۔ پاکستان میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف بڑھانے کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

نجکاری پروگرام پرمئوثر طریقے سے عملدرآمد کیا جائے۔ آئی ایم ایف نے کہا کہ نقصان میں چلنے والے قومی اداروں کی نجکاری یا ان میں اصلاحات کی جائیں۔

آئی ایم ایف نے توانائی سیکٹرمیں بھی اصلاحات کا مطالبہ کردیا ہے۔ پاکستان کو توانائی کے شعبے میں اصلاحات لانی چاہئیں۔ بجلی کی تقسیم و ترسیل کے نظام کو بہتر کیا جائے۔ نیپرا کیطرف سے کیے جانے والے فیصلوں پر فوری عملدرآمد کیا جائے۔ پاکستان مالی خسارہ کم کرنے کیلئے اقدامات کرے۔ پاکستان کو تجارتی خسارے پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے۔

واضح رہے پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات 22 نومبر کومکمل ہوجائیں گے۔ پاکستان کی طرف سے آئی ایم ایف کو 6 سے 7 ارب ڈالر قرضے کی درخواست کیے جانے کا امکان ہے۔ اسی طرح آئی ایم ایف کے وفد کی چیئرمین نیپرا طارق سدوزئی سے بھی ملاقات کی۔ جس میں آئی ایم ایف نے نیپرا سے پاور سیکٹر پر غیرجانبدارانہ رائے مانگی۔ چیئرمین نیپرا نے بتایا کہ پاور سیکٹر میں بجلی جنریشن پر کافی کام ہوا۔

ملاقات میں چیئرمین نیپرا نے بجلی کی پیداوار، لائن لاسز، وصولیوں اور نیپرا کی کارکردگی بارے رپورٹ آئی ایم ایف حکام کے حوالے کی۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔ جس میں ملک کی سیاسی و اقتصادی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں 12نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیرخزانہ اسد عمر نے آئی ایم ایف کے ساتھ شرائط پر کابینہ کو بریفنگ دی۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ای سی سی کے 7نومبر کے فیصلوں کی توثیق بھی کی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس میں حکومت کے 100روزہ پروگرام پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا جبکہ پروگرام میں پیشرفت رپورٹ کو ایجنڈے میں شامل کیا گیا۔100روزہ پلان پر عملدرآمد کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے گا۔اجلاس میں افغانستان میں قدرتی آفات اور روانڈا میں صحت کے شعبے میں تعاون کے پروگرام کی منظوری بھی دی گئی۔ اجلاس میں کابینہ نے مختلف ممالک کے معاہدوں کی منظوری بھی دی۔ کابینہ کو سکیورٹی صورتحال پر بھی بریفنگ دی گئی اور عمران خان نے ایس پی طاہر ڈاوڑ کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا اور کے پی حکومت کو اسلام آباد پولیس کی انکوائری میں تعاون کی ہدایت بھی کی ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments