ڈمی صدر بننے کے بجائے قانون سازی میں بھرپور کرادار ادا کرنا چاہتا ہوں،عارف علوی

پروٹوکول کی خواہش نہیں ایوان صدر عوام کے لئے کھولنے کی ہدایت کی ہے اپنے خلاف کسی مقدمے میں صدارتی استثنیٰ نہیںلوں گا ، تحریک انصاف کو حکومت چلانے کی کوشش کرنی چاہئے تا ہم کرپشن کیسز پر مک مکا نہیںہونا چاہئے خواتین کا وارثت میںحصہ ، تعلیم ، پینے کا صاف پانی زیادہ سے زیادہ درخت لگانا اور صفائی اپنا کر بیماریوں سے بچاؤ ریاستی ترجیحات ہونی چاہئیں، ناموس رسالتؐ پر جان دینے کو تیار ہیں، صدر مملکت کا انٹر ویو

جمعرات نومبر 23:56

ڈمی صدر بننے کے بجائے قانون سازی میں بھرپور کرادار ادا کرنا چاہتا ہوں،عارف ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2018ء) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ صرف دستخط کرنے کی حدتک ڈمی صدر بننے کے بجائے قانون سازی میں بھرپور کرادار ادا کرنا چاہتا ہوں ،پروٹوکول کی خواہش نہیں ایوان صدر عوام کے لئے کھولنے کی ہدایت کی ہے ، اپنے خلاف کسی مقدمے میں صدارتی استثنیٰ نہیںلوں گا ،تحریک انصاف کو حکومت چلانے کی کوشش کرنی چاہئے تا ہم کرپشن کیسز پر مک مکا نہیںہونا چاہئے خواتین کا وارثت میںحصہ ، تعلیم ، پینے کا صاف پانی زیادہ سے زیادہ درخت لگانا اور صفائی اپنا کر بیماریوں سے بچاؤ ریاستی ترجیحات ہونی چاہئیں۔

جمعرات کے روز نجی ٹی وی کو انٹر ویو دیتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ ناموس رسالتؐ پر جان دینے کو تیار ہیں، یہ ہر مسلمان کا مسئلہ ہے لیکن سپریم کورٹ کے فیصلوں پر قانون کے مطابق علمدرآمد ضروری ہے تا ہم غریب عوام کے املاک کو نقصان پہنچانا سنت رسول کی بھی خلاف ورزی ہے اسلام بہت خوبصورت مذہب ہے صفائی نصف ایمان ہے اور میر ا ماننا ہیکہ احتیاط پر خرچ ہونے والا ایک روپیہ بیماری کے علاج پر خرچ ہونے والے سو روپے سے بچا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ میں بطور صدر کسی استثنیٰ کا خواہش مند نہیں اپنے وکیل کے ذریعے عدالت کو آگاہ کر دیا ہے کہ میرا مقدمہ منطقی انجام تک پہنچایاجائے کیونکہ مجھ پر دہشت گردی کے مقدمات بنائے گئے تھے اور دھرنے والوں کو بندوقیں سپلائی کرنے کاالزام ہے۔

(جاری ہے)

صدر مملکت نے کہا کہ پروٹوکول کم سے کم رکھنے کی ہدایت کرتا رہتا ہوں لیکن سیکیورٹی ادارے احتیاطی تدابیر کے طور پر ضروری اقدامات کرتے ہیں میں تو رکشے میںبھی سفر کرتا رہا ہوں ایوان صدر کو عوام کے لئے کھول کر عوام سے رشتہ بحال رکھنا چاہتا ہوں خواہش ہے کہ جس طرح وائٹ ہاؤس میںعوام آتے ہیں ایوان صدر میں بھی اسی طرح عوام کا آناجانا آسان ہو انہوں نے کہا کہ مصروف مصور صارفین کے نایا ب فن پاروںکی نمائش سے ایوان صدر میں عوامی آمدو رفت کا آغاز کرنے کی کوشش کریں گے جبکہ ایوان صدر کے اخراجات بھی کافی کم کر لئے ہیں ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ آئین کے تحت تمام پاکستانیوں کا صدر ہو ں حلف کی پاسداری کروں گا خواہس ہے کہ ہفتہ میں ایک دن پارلیمنٹ جا کر لوگوں سے ملاقاتیں کروں زیر التوا قانون سازی پر کام کرنے کا ہمیشہ خواہش مند رہا ہوں چاہتا ہوں کہ بل اسمبلی میں پیش ہونے سے پہلے میرے پاس آئے تا کہ خامیوں کی نشاندہی ہو سکے ابھی تک میرے پاس دستخط کے لئے کوئی بل نہیں آیا بلوچستان کی عوام کا مقدمہ خود لڑ کران کا احساس محرومی دور کرنے کی خواہش ہے صدر مملکت نے کہا کہ مذہبی لگاؤ پیچیدہ معاملہ ہے ٹھنڈے دماغ سے حل کرنا ضروری ہوتاہے۔

حکومت کو دھرنے اور احتجاج والوں سے مذاکرات کرنے کا مشورہ اس لئے دیا کہ لال مسجد جیسا کوئی واقعہ نہ دہرایا جا سکے کیونکہ لوگوں کو مارنا ریاست کی رٹ نہیں ہے جبکہ لاپتہ افراد کے معاملے پر گفتگو ہوتی رہتی ہے اس مسئلے کو جلد از جلد حل ہونا چاہئے ۔ ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے ہر سطح پر آواز اٹھاؤ ں گا جس سطح پر بھی امریکیوں سے ملاقات ہو گی قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کی بات ضرور کروں گا انہوں نے کہا کہ اسلامی قوانین کے مطابق عورتوں کو وراثت میں حصہ ملنا چاہئے۔

خواتین کو حصہ نہ دینا اسلامی احکامات کی خلاف ورزی ہے خواہش ہے کہ قرآن سنت کے مطابق قانون سازی کی جائے اس سلسلے میں اسلامی نظر یاتی کونسل کو فعال کرنے کی ضرورت ہے ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ موجو دہ اپوزیشن جماعتیں طویل عرصہ حکومت میں رہیں اس لئے ان کا حساب ہو رہا ہے جب موجودہ حکومت کا اقتدار کا عرصہ مکمل ہو گا تو ان کے احتساب کی باری آئے گی لیکن حکومت پر احتساب کاالزام لگانا درست نہیں احتساب تو نیب کر رہی ہے حکومت تو اپنا کام کر رہی ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments