طاہر داوڑ کے بعد اسلام آباد سے ایک اور سرکاری افسر غائب

ایاز خان سے گذشتہ رات سے رابطہ نہیں ہو پا رہا، ایاز خان کا موبائل فون بھی بند ہے۔ اہل خانہ کا موقف

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ نومبر 12:58

طاہر داوڑ کے بعد اسلام آباد سے ایک اور سرکاری افسر غائب
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 16 نومبر 2018ء) : ایس پی طاہر داوڑ کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے ایک اور سرکاری افسر غائب ہو گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سی ڈی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان تھانہ آبپارہ سے لا پتہ ہو گئے۔ سی ڈی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان ایچ آر ڈی میں تعینات تھے۔ ایاز خان کے اہل خانہ نے کہا کہ گذشتہ رات سے ان سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ، ایاز خان کا موبائل بھی بند جا رہا ہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر سی ڈی اے ایاز خان کے پی اے نے پولیس کو ان کی گمشدگی کی اطلاع دی۔ پی اے کے مطابق ایاز خان کل ڈھائی بجے تھانہ آبپارہ سے نکلے جس کے بعد سے اب تک لا پتہ ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ایاز خان کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیا ہے۔ان کی لوکیشن معلوم کرنے کے لیے سی ڈی آر نکلوا رہے ہیں۔

(جاری ہے)

دوسری جانب ایاز خان کی اہلیہ اور برادر نسبتی حسن نے ان کی گمشدگی کے حوالے سے تھانہ آبپارہ میں تحریری درخواست بھی جمع کروا دی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ماہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایس پی رورل پشاور طاہرخان داوڑ لاپتا ہوگئے تھے۔ طاہرخان ایف 10 مرکز میں ٹریک سوٹ میں واک کررہے تھے کہ لاپتہ ہو گئے۔ ایس پی طاہرخان کی گزشتہ شام 7 بج کر45 منٹ پرآخری لوکیشن ایف 10 مرکزتھی۔طاہر خان داوڑ کے لاپتہ ہونے کا مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ اضا میں درج تھا۔ ایس پی طاہر خان کی رہائش تھانہ رمنا کی حدود جی 10 فور میں تھی۔

جس کے بعد پولیس نے ان طاہر داوڑ کی تلاش شروع کر دی۔ پولیس کی جانب سے کوشش کے باوجود بھی طاہر داوڑ کا سُراغ نہیں لگایا جا سکا۔پولیس نے تحقیقات کا دائرہ پھیلاتے ہوئے اس کیس کے تمام پہلووں کو مدنظر رکھتے ہوئے تفتیش کی لیکن طاہر داوڑ کا سُراغ لگانے میں ناکام رہی۔رواں ماہ اطلاع موصول ہوئی کہ ایس ایس پی رورل طاہر خان خٹک کو قتل کر دیا گیا ۔

ذرائع نے بتایا کہ ایس ایس پی طاہر خان درواڑ کو افغانستان میں قتل کیا گیا۔ طاہر داوڑ کو اغوا کر کے افغانستان لے جایا گیا تھا جہاں ان کو صوبے ننگرہار میں قتل کردیا گیا۔ گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے ایس پی طاہر خان داوڑ کے قتل کا نوٹس لیا اور واقعہ سے متعلق وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کر لی۔وزیراعظم عمران خان نے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کو واقعہ کی فوری تحقیقات کی ہدایت کی اور خیبرپختونخوا پولیس کو ہدایت کی کہ اسلام آباد پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

وزیراعظم عمران خان نے شہریار آفریدی کو تحقیقات کی نگرانی کا حکم دیا اور کہا کہ شہریار آفریدی فوری تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کریں۔ افغان حکام نے پاک افغان بارڈر پر طاہر داوڑ کی میت کو افغان حکام کے حوالے کرنے سے پہلے تو انکار کیا لیکن بعد ازاں حکومتی وفد کی جانب سے افغان حکام سے مذاکرات کے بعد ایس پی طاہر داوڑ کا جسد خاکی پاکستانی حکام کے حوالے کردیا گیا۔

خیبرپختونخوا کے افسر طاہر خان داوڑ کا جسد خاکی پاکستانی حکام کے حوالے کرنے کے لیے افغانستان کے شہر جلال آباد سے طورخم بارڈر لایا گیا جہاں جسد خاکی وصول کرنے کے لیے وزیرمملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی، صوبائی وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی اور صوبائی ترجمان اجمل وزیر موجود تھے۔شہید ایس پی طاہرداوڑکی نمازجنازہ پولیس لائن پشاورمیں اداکی گئی۔

اس موقع خیبرپختونخوا پولیس کے خصوصی دستے نے شہید ایس پی طاہر داوڑ کے جسد خاکی کوسلامی پیش کی۔ شہیدکی میت پورے سرکاری اعزازکے ساتھ پولیس لائن لائی گئی جبکہ شہید طاہر داوڑ کی نمازجنازہ میںگورنرخیبر پختونخواشاہ فرمان ،کورکمانڈر پشاورلیفٹیننٹ جنرل شاہین مظہرمحمود، کمانڈنٹ فرنٹیئرکانسٹیبلری معظم انصاری،وزیراعلیٰ محمودخان، وزیرمملکت برائے داخلہ شہریارآفریدی،صوبائی وزیراطلاعات شوکت یوسفزئی، ترجمان خیبرپختونخواحکومت اجمل وزیر،آئی جی خیبرپختونخواصلاح الدین خا ن محسود،صوبائی وزیربلدیات شہرام خان ترکئی،ایم پی اے فضل الہی کے علاوہ عسکری ،سول و پولیس حکام سمیت شہید کے قریبی رشتہ داروں نے شرکت کی جس کے بعد انہیں سپرد خاک کر دیا گیا۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments