ذہنی اورنفسیاتی امراض میں مبتلاء افراد کے علاج کیلئے جدید تحقیق اورطریقہ ہائے کارکو اپنانے کی ضرورت ہے،

نفسیاتی امراض اورمسائل کے شکار افراد کے علاج معالجے میں مامرین نفسیات کے مشفقانہ رویہ کے ساتھ ساتھ مریض کے رشتہ داروں اورعزیزواقارب کا تعاون بھی اہمیت کا حامل ہوتا ہے صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی کا پاکستان سائیکاٹرسٹ سوسائٹی کے زیراہتمام بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب

جمعہ نومبر 20:09

ذہنی اورنفسیاتی امراض میں مبتلاء افراد کے علاج کیلئے جدید تحقیق اورطریقہ ..
اسلام آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2018ء) صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے ذہنی اورنفسیاتی امراض میں مبتلاء افراد کے علاج کیلئے جدید تحقیق اورطریقہ ہائے کارکو اپنانے کی ضرورت پرزوردیتے ہوئے کہاہے کہ نفسیاتی امراض اورمسائل کے شکار افراد کے علاج معالجے میں مامرین نفسیات کے مشفقانہ رویہ کے ساتھ ساتھ مریض کے رشتہ داروں اورعزیزواقارب کا تعاون بھی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔

ان خیالات کا اظہارانہوںنے جمعہ کو لاہورمیں پاکستان سائیکاٹرسٹ سوسائٹی کے زیراہتمام منعقدہ 22 ویں بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ صدرمملکت نے اپنے خطاب میں کہاکہ بدقسمتی سے پاکستان میں ذہنی اورنفسیاتی امراض کے حوالے سے لگے بندھے منفی تصورات موجود ہیں جن کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے کیونکہ ان بیماریوں اورمسائل کا موثر علاج موجود ہوتا ہے ۔

(جاری ہے)

صدر مملکت نے کہاکہ انسانی ذہن فوبیازکاشکارہوتا رہتا ہے، نفسیاتی امراض اورمسائل انہی فوبیاز کی پیدا کردہ ہوتی ہیں۔ صدر نے کہاکہ طب کے شعبے سے وابستہ رہنے کے ناطے انہیں اچھی طرح سے معلوم ہے کہ ذہنی اورنفسیاتی امراض اورمریضوں کو ماہر نفسیات اورسائیکاٹریسٹس کے پاس بھیجنے میں کتنے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے،ان مسائل کے شکارافراد کوعلاج پر راضی کرنا ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔

صدر نے کہاکہ ان بیماریوں اورمسائل کے علاج کیلئے جہاں ماہرین نفسیات اورسائیکاٹریسٹ کے مشفقانہ طرز عمل کی ضرورت ہوتی ہے وہاں مریض کے عزیزواقارب اورسماج کا تعاون بھی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 2 کروڑ لوگ ذہنی اورنفسیاتی امراض اورمسائل کاشکارہیں جو بہت بڑی تعداد ہے اوراس سلسلے میں معاشرے کے تمام طبقات کو اپنا کرداراداکرنا ہوگا اوراس کے ساتھ ساتھ ذہنی اورنفسیاتی امراض ومسائل کے علاج کیلئے ہمیں جدید تحقیق اورطریقہ ہائے کارکو بھی اپنانا ہوگا ، بیشترنفسیاتی امراض اورمسائل دماغ میں بائیوکیمیکل تبدیلیوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں جن کے علاج کیلئے ادویات کے ساتھ ساتھ مریض کے ساتھ استدلال پرمبنی گفتگوکے ذریعے ان کے مسائل کی کھوج اوران کے حل پر توجہ دینا چاہئیے۔

صدر نے کہاکہ سائیکاٹری میں ہمیں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے، ہمارے معاشرے کا یہ المیہ رہا ہے کہ یہاں پر اس طرح کی بیماریوں اورعلامات کو چھپایا جاتا ہے اورمناسب طریقہ علاج پر توجہ نہیں دی جاتی، یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے، ذہنی اورنفسیاتی امراض ومسائل سے جڑے منفی معاشرتی رویوں کے باعث بسا اوقات لوگ پیروں، فقیروں اورتوہمات کی طرف رجوع کرلیتے ہیں ۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ اس حوالے سے شہریوں میں شعور اورآگاہی پیدا کی جائے۔

متعلقہ عنوان :

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments