جماعت الدعوۃ کے سرگرم رہنما مولانا امیر حمزہ کے آرمی چیف بارے انکشافات

جنرل قمر جاوید باجوہ ایسے آرمی چیف ہیں جنہوں نے عمر بھر ایک بھارتی گانا نہیں سنا۔ یہ وہ جرنیل ہیں جن لے دادااحمد حسینن بھی فوج میں تھے اور انکے والد کرنل (ر) محمد اقبال باجوہ بھی 65 کی جنگ میں وطن عزیز کے لیے بے جگری سے لڑچکے ہیں

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس اتوار نومبر 16:46

جماعت الدعوۃ کے سرگرم رہنما مولانا امیر حمزہ کے آرمی چیف بارے انکشافات
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-18 نومبر 2018ء) :جماعت الدعوۃ کے سرگرم رہنما مولانا امیر حمزہ کے آرمی چیف بارے انکشافات ہوئے بتایا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ ایسے آرمی چیف ہیں جنہوں نے عمر بھر ایک بھارتی گانا نہیں سنا۔ یہ وہ جرنیل ہیں جن لے دادااحمد حسینن بھی فوج میں تھے اور انکے والد کرنل (ر) محمد اقبال باجوہ بھی 65 کی جنگ میں وطن عزیز کے لیے بے جگری سے لڑچکے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان عوام کو اپنی مسلح افواج سے جو خصوصی محبت اور عقیدت ہے اسکی مثال نہیں ملتی۔یہی وجہ ہے کہ پاک فوج کے سربراہ کو عوام میں ایک خاص مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔ایسی مقبولیت جو شائد کسی سیاستدان یا کسی بھی اور عہدیدار کو نصیب نہیں ہوتی ۔عوام ہر وقت جاننا چاہتی ہے کہ انکی فوج کے سربراہ اور انکے محافظوں کے سربراہ اعلیٰ کیا کر رہے ہیں اور کیا کرنے جا رہے ہیں ۔

(جاری ہے)

یہی وجہ ہے کہ آرمی چیف کی جانب سے اٹھائے جانے والے چھوٹے چھوٹے اقدامات کو بھی عوام کی جانب سے خوب سراہا جاتا ہے۔دوسری طرف انکی ذاتی زندگی کی مصروفیات بھی شہہ سرخیوں کی زینت بنتی ہیں۔یہانتک آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیٹے کی شادی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔اس کے علاوہ آرمی چیف کی حب الوطنی ، ایمان پسندی اور مذہب سے انکا لگاو بھی زبان زد عام ہے۔

ختم نبوت کے مسئلے پر آرمی چیف کو نشانہ بنایا گیا۔جس پر متعدد مذہبی شخصیات بھی آرمی چیف کے حق میں نکل آئیں۔جماعت الدعوۃ کے حرمت رسول کمیٹی کے سربراہ مولانا امیر حمزہ کا کہنا تھا کہ آرمی چیف سچے عاشق رسول ہیں۔وہ نمازی اور تہجد گزار ہیں ۔وہ ایسے آرمی چیف ہیں جنہوں نے عمر بھر ایک بھارتی گانا نہیں سنا۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہ جرنیل ہیں جن لے دادااحمد حسینن بھی فوج میں تھے اور انکے والد کرنل (ر) محمد اقبال باجوہ بھی 65 کی جنگ میں وطن عزیز کے لیے بے جگری سے لڑچکے ہیں۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments