ملک کے سیاحتی علاقوں میں منصوبوں کی تکمیل کے عمل میں ماحولیات اور ثقافت کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،

تمام صوبوں و علاقوں سے سرکاری و نجی شعبہ کے متعلقہ اداروں کے ساتھ مشاورت سے ایک جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے تاکہ ملک میں سیاحت کے فروغ کے لئے ہم آہنگ اور مربوط میکنزم کا نفاذ یقینی بنایا جا سکے وزیراعظم عمران خان کا سیاحت سے متعلق قومی ٹاسک فورس کے اجلاس سے خطاب

پیر نومبر 23:52

ملک کے سیاحتی علاقوں میں منصوبوں کی تکمیل کے عمل میں ماحولیات اور ثقافت ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 نومبر2018ء) وزیراعظم عمران خان نے ملک میں سیاحت کے فروغ کے لئے تمام صوبوں و علاقوں سے سرکاری و نجی شعبہ کے متعلقہ اداروں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ایک جامع لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے سیاحتی علاقوں میں منصوبوں کی تکمیل کے عمل میں ماحولیات اور ثقافت کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

وہ پیر کو یہاں وزیراعظم آفس میں سیاحت سے متعلق قومی ٹاسک فورس کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ وزیراعظم کے سیکرٹری اعظم خان نے سیاحت کے بارے میں قومی ٹاسک فورس کی سفارشات کے بارے میں اجلاس کو بریفنگ دی۔ اجلاس میں اٹھارویں ترمیم کے بعد پاکستان میں سیاحت کے شعبہ میں بہتری لانے اور صوبوں و علاقوں کے مابین ہم آہنگی پیدا کرنے کے سلسلے میں تمام سرکاری و نجی شراکت داروں پر مبنی نیشنل ٹورازم کو آرڈینیشن بورڈ تشکیل دینے کی تجویز پیش کی گئی تاکہ سیاحت کے حوالے سے ہونے والی کوششوں کو یکجا کیا جا سکے اور قومی و بین الاقوامی اداروں کے ساتھ موثر رابطے کے علاوہ سیاحت کے شعبہ میں ریگولیٹری فریم ورک کی تیاری میں صوبوں کو سہولت ہو سکے۔

(جاری ہے)

اجلاس کے شرکاء کو سیاحت کے شعبہ کو درپیش مسائل و مشکلات کے بارے میں بتایا گیا اور وفاقی، صوبائی و مقامی حکومتوں کی سطح پر مختلف اداروں کے معینہ کردار کے ذریعے ان مسائل و مشکلات کے ممکنہ حل سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں خصوصی، مذہبی، ایڈونچر و سپورٹس، ایکو، ٹورازم اور متعلقہ علاقوں اور متوقع مارکیٹ کے ہمراہ سیاحت کی دیگر اقسام کا بھی تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

علاوہ ازیں حکومت کے سو روزہ ایجنڈے کی تکمیل کے سلسلے میں ملک کے مختلف حصوں میں سیاحت و تفریحی سرگرمیوں کے لئے نئے سیاحتی مقامات کو بھی اجاگر کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت کا شعبہ انتہائی صلاحیت کا حامل ہے اور گزشتہ تین سالوں میں اس شعبہ نے شاندار ترقی کی ہے، ملک میں سیاحت کے فروغ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے سیاحت کی صنعت کو سہولیات اور مراعات دینے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ملک کے سیاحتی علاقوں میں سیاحت سے متعلق منصوبوں کی تکمیل کے عمل میں ماحولیات اور ثقافت کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترقیاتی عمل میں سیاحت کو مرکزی حیثیت دی جائے، سیاحت سے متعلق منصوبوں میں مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو ترغیب دینے کے سلسلے میں سرکاری و نجی شراکت داری کے لئے فریم ورک تشکیل دیا جائے۔

وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ سیاحت کے متعلقہ محکمے اپنی سیاحتی پالیسیاں اور منصوبے پائیدار سیاحت کے بین الاقوامی سطح پر رائج بہترین طریقوں کے مطابق ترتیب دیں تاکہ ماحولیات، مقامی معیشت اور ثقافتی اقدار کی پائیداریت کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیراعظم نے سیاحت پر قومی ٹاسک فورس کی سفارشات سے اتفاق کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام صوبوں و علاقوں سے سرکاری و نجی شعبہ کے متعلقہ اداروں کے ساتھ مشاورت سے ایک جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے تاکہ ملک میں سیاحت کے فروغ کے لئے ہم آہنگ اور مربوط میکنزم کا نفاذ یقینی بنایا جا سکے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments