ہمارا آئیڈیل نبی کریمؐ کی شخصیت ہے،

ان کے بتائے ہوئے راستے پرچلتے ہوئے ترقی و کامیابی کا سفر طے کریں گے، نبی کریمؐ کی حیات طیبہ کا مطالعہ ہر مسلمان کیلئے اشد ضروری ہے، رحمت اللعالمین ﷺ نے دنیا کو پہلی فلاحی ریاست کا تصور دیا، مدینہ کی ریاست رحمدلی کی بنیاد پر قائم ہوئی تھی، مذہب کے ٹھیکیداراسلام کا غلط تصورپیش کررہے ہیں، اپنے کردار کی بلندی سے اپنے ملک کو بلند کریں گے یہاں پر سٹیوجابز اور بل گیٹس کی کامیابیوں پر کتابیں لکھی جاتی ہیں، ہمیں نبی کریمؐ کی زندگی کو پڑھنا چاہئے جنہوں نے حقیقی معنوں میں ایک انقلاب برپا کیا وزیراعظم عمران خان کا بین الاقوامی سیرت کانفرنس سے خطاب

منگل نومبر 17:32

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 نومبر2018ء) وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ اپنے کردار کی بلندی سے ہم اپنے ملک کو بلند کریں گے، ہمارا آئیڈیل نبی کریمؐ کی شخصیت ہے اور ہم ان کے بتائے ہوئے راستے پرچلتے ہوئے ترقی و کامیابی کا سفر طے کریں گے، نبی کریمؐ کی حیات طیبہ کا مطالعہ ہر مسلمان کیلئے اشد ضروری ہے، رحمت اللعالمین ؐ نے دنیا کو پہلی فلاحی ریاست کا تصور دیا۔

مدینہ کی ریاست رحمدلی کی بنیاد پر قائم ہوئی تھی، مذہب کے ٹھیکیداراسلام کا غلط تصورپیش کررہے ہیں، ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تین یونیورسٹیوں میں نبی کریمؐ کی زندگی اور اسوہ حسنہ پر تحقیق کے لئے چیئرز قائم کرنے کیلئے کہا گیا ہے، توہین مذاہب کے انسداد کے لئے بین الاقوامی کنونشن کے ضمن میں احمر بلال صوفی کو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

(جاری ہے)

منگل کو بین الاقوامی سیرت کانفرنس سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری، سیکرٹری مذہبی امورمیاں مشتاق اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور انہیں مبارکباد دی۔

بین الاقوامی سیرت کانفرنس میں وفاقی وزراء، اراکین پارلیمان ، صوبائی وزراء، اسلامی ممالک کے سفیر، اسلامی ممالک کے سکالرز اورملک کے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے عللمائے کرام ومشائخ عظام کے علاوہ سکولوں، کالجوں اوردینی مدارس کے طلباء کی ایک بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم عمران خان نے کانفرنس میں آنے والے بین الاقوامی سکالرز کا بھی خیرمقدم کیا۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کی اس محفل میں بڑے بڑے سکالرز، علماء کرام اور مشائخ عظام موجود ہیں لیکن وہ ایک طالب علم کی حیثیت سے اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کرکٹ کے آخری دنوں میں صوفی میاں بشیر کی صحبت اور ان کی رہنمائی کی وجہ سے دین کی طرف آئے۔ اس سے پہلے وہ صرف نام کے مسلمان تھے اور جمعہ اور عیدین پڑھتے تھے۔

ان کی رہنمائی کی وجہ سے الله نے سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق اور ہمت عطاء کی اور یہ تب ہوتا ہے جب آپ کو الله پر یقین ہوتا ہے۔ اس دن کے بعد سے آپ کی زندگی تبدیل ہو جاتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب آپ اچھائی کی طرف جاتے ہیں تو راستے آسان ہو جاتے ہیں لیکن یہ سفر آسان نہیں ہوتا، یہ جدوجہد کی شروعات ہوتی ہے۔ سیدھا راستہ ہمیں تب ملتا ہے جب ہم نبی کریمؐ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نبی کریمؐ کی حیات طیبہ کا مطالعہ ہر مسلمان کیلئے اشد ضروری ہے۔ وہ رحمت اللعالمینؐ تھے، انہوں نے دنیا کو پہلی فلاحی ریاست کا تصور دیا۔ مدینہ کی ریاست رحمدلی کی بنیاد پر قائم ہوئی تھی۔ نبی کریمؐ اور ان کے صحابہ کرامؓ کے پاس وسائل نہیں تھے لیکن ان کے پاس رحمدلی اور احساس ذمہ داری موجود تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے وسائل کو آڑے لائے بغیر فلاحی ریاست کی تعمیر اور قیام کو ممکن بنایا۔

وزیراعظم نے کہا کہ نبی کریمؐ کی ساری زندگی تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تین یونیورسٹیوں میں نبی کریمؐ کی زندگی اور اسوہ حسنہ پر تحقیق کے لئے چیئرز قائم کرنے کیلئے کہا گیا ہے تاکہ یہاں پر اس عظیم ہستیؐ کی زندگی کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کیا جائے۔ جس طرح کی زندگی آپؐ نے گذاری وہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔

اس بات کی تحقیق ہونی چاہئے کہ آپؐ نے 625ء میں جنگ بدر میں 313 صحابہ کے ساتھ حصہ لیا اور اس کے ٹھیک 11 برس بعد 636ء میں اس وقت کے بڑی طاقت سلطنت روما کو شکست فاش ہوئی جن میں خالد بن ولیدؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ کا کردار ہمارے سامنے ہے۔ 638ء میں جنگ قادسیہ میں فارس کو شکست ہوئی۔ دنیا کے اس عظیم انسانؐ نے صرف 11 برسوں میں اپنے ساتھیوں کی زندگیوں میں انقلابی تبدیلیاں برپا کیں۔

میری خواہش ہے کہ ہماری یونیورسٹیاں اس بات کی تحقیق کریں کہ یہ کامیابیاں کس طرح ملیں۔ نبی کریمؐ کو نبوت عطا ہونے کے صرف30 سال کے بعد اسلام نے ہندوستان، وسطی ایشیاء اور مراکش تک فروغ حاصل کیا۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سب پڑھانا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ نبی کریمؐ نے جس ریاست اور جس معاشرے کی بنیاد رکھی اس میں چھوٹے انسانوں کو بڑا انسان بنایا گیا، لوگوں کے خوف دور کئے گئے۔

دنیا میں آج تک ایسا لیڈر نہیں گذرا جن کی تعلیمات نے طویل عرصہ تک لوگوں کو متاثر کیا ہو اور مستقبل میں بھی کرتی رہیں گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ مغرب نے فلاحی ریاست کا تصور سپین میں مسلمانوں کے تصور ریاست سے حاصل کیا ہے۔ یہاں پر سٹیوجابز اور بل گیٹس کی کامیابیوں پر کتابیں لکھی جاتی ہیں، ہمیں نبی کریمؐ کی زندگی کو پڑھنا چاہئے جنہوں نے حقیقی معنوں میں ایک انقلاب برپا کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے پیارے نبیؐ رحمت اللعالمین تھے، اسلام کے ٹھیکیداروں کو یہ بات سمجھانے کی ضرورت ہے کہ آپؐ تمام جہانوں کے لئے رحمت کا باعث تھے۔ ہمارے پیارے نبیؐ کے نام پر اسلام کے ٹھیکیدار جو کچھ کر رہے ہیں، اس سے ہمارا مذہب بدنام ہو رہا ہے۔ ہمارے مذہبی سکالروں کو اس حوالے سے کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے بچوں کو اسلام کا حقیقی پیغام پہنچایا جا سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سیرت کے موضوع پر زیادہ کتابیں لکھنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ تبدیلی انسان کے اندر سے آتی ہے، پاکستان انشاء الله ایک عظیم ملک بنے گا اور یہ ملک تب عظیم ملک بنے گا جب ہم اپنے آپ کو تبدیل کریں گے۔ انسان کا کردار اسے بڑا انسان بناتا ہے۔ انڈونیشیا اور ملائیشیا میں اسلام فوج کشی کے ذریعے نہیں بلکہ مسلمان تاجروں کے کردار کی وجہ سے پھیلا ہے۔

اسی طرح برصغیر کے اولیاء کرام کے مزارات آج بھی مرجع خلائق ہیں۔ صوفیاء کرام کی تعلیمات کی وجہ سے لوگ اسلام کی طرف مائل ہوئے۔ صوفیائے کرام نے اسلام کا حقیقی پیغام لوگوں تک پہنچایا اور یہی وجہ ہے کہ ان صوفیا کے مزارات پر آج بھی دیگر مذاہب کے لوگ حاضری کے لئے آتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اپنے کردار کی بلندی سے ہم اپنے ملک کو بلند کریں گے۔

ہمارا آئیڈیل نبی کریمؐ کی شخصیت ہے۔ ہم ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلیں گے اور انشاء الله ترقی و کامیابی کا سفر طے کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے کچھ عرصہ کے بعد کسی نہ کسی مغربی ملک سے پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی اور توہین آمیز خاکے کی اشاعت کا اشتعال انگیز اقدام سامنے آتا ہے جس کے ردعمل میں ہمارے لوگ احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔

اسی توڑ پھوڑ کو اسلام کے دشمن پروپیگنڈے کے طور پر ابھارتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب ہالینڈ میں توہین آمیز خاکوں کا معاملہ اٹھایا گیا تو پاکستان کی حکومت نے ہالینڈ کے وزیر خارجہ اور سفیر سے بات چیت کی۔ ہمارے کہنے پر یہ مقابلہ ختم کیا گیا۔ بعد میں ہم نے یہ معاملہ اسلامی تعاون کی تنظیم کے پلیٹ فارم سے اٹھایا جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ میں بھی اس معاملہ پر بات کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ یورپی یونین نے پاکستان اور او آئی سی کی کوششوں سے آزادی اظہار کی آڑ میں اسلام اور پیغمبر اسلام کی توہین پر پابندی لگا دی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ توہین مذاہب کے انسداد کے لئے بین الاقوامی کنونشن کے ضمن میں انہوں نے احمر بلال صوفی کو ذمہ داری سونپی ہے۔ وہ اس حوالے سے مختلف ممالک کا دورہ کریں گے اور مذاہب اور مقدس شخصیات کی توہین پر پابندی کے بین الاقوامی کنونشن پر ملاقاتیں کریں گے۔

بعد ازاں وزیراعظم نے سیرت کے موضوع پر بہترین کتب کے مصنفین میں انعامات تقسیم کئے۔ وزیراعظم نے ڈاکٹر حبیب الله چشتی، تفسیر عباس، مولانا محمد اسلم زاہد، ڈاکٹر زیبی افتخار، ڈاکٹر ساجدہ حسن، ڈاکٹر سعدیہ گلزار اور ڈاکٹر ادیبہ صدیق کو ایوارڈز جبکہ نور سلم شاہ اور اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز کو سوینئرز دیئے ۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments