چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس

وزارت انسانی حقوق آئین میں موجود قوانین کے تحت ملک میں بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے ساتھ نئے قوانین بنانے پر بھی کام کر رہی ہے‘ کمیٹی کو بریفنگ

جمعہ اپریل 00:18

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 اپریل2019ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بتایا گیا کہ وزارت انسانی حقوق آئین میں موجود قوانین کے تحت ملک میں بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے ساتھ نئے قوانین بنانے پر بھی کام کر رہی ہے۔ جمعرات کو کمیٹی کا اجلاس چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں وزارت انسانی حقوق نے کارکردگی رپورٹ پیش کی۔ سیکرٹری رابعہ جویری آغا نے بتایا کہ اسلام آباد میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کا قانون لاگو ہو چکا ہے اور وزارت انسانی حقوق کے زیر انتظام بچوں کی حفاظت کیلئے سنٹر کام کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ وزارت انسانی حقوق صوبائی سطح پر اپنے دفاتر کی کوآرڈینشن کرکے بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کیلئے کام کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

وزارت انسانی حقوق آئین میں موجو د قوانین کے تحت ملک میں بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے ساتھ نئے قوانین بنانے پر بھی کام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین کے قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں پر عمل کرتے ہوئے خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے کام کر رہی ہے۔ اجلاس کے دوران کمیٹی کے ارکان نے وزارت انسانی حقوق کو تجویز پیش کی کہ نچلی سطح پر شہریوں کے حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے صوبائی اداروں کے ساتھ مل کر کام کریں۔

وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کمیٹی کو بتایا کہ وزارت انسانی حقوق نے گزشتہ عرصہ کے دوران مسیحی میرج اور طلاق بل پر کام کر رہی ہے جو جلد ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ معذور افراد سے متعلق بل بھی جلد قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ رکن کمیٹی شازیہ مری نے وزیر انسانی حقوق کو تجویز پیش کی کہ معذور افراد سے متعلق بل کے معاملہ میں جلد بازی نہ کی جائے، اس میں بعض الفاظ کو صحیح کرنے کی ضرورت ہے۔ رکن کمیٹی عالیہ کامرا ن کی جانب سے بل پیش کیا گیا بل پر وزیر انسانی حقوق نے کہا کہ اس بل کو سپورٹ کرتے ہیں۔ کمیٹی میں بلوچستان دھماکہ کے شہداء کیلئے ایصال ثواب کیلئے دعا کی گئی۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments