سپریم کورٹ نے متاثرہ فریق سے معافی ملنے کے باوجود تیزاب گردی کیس میں ملوث ملزم کی بریت

درخواست مسترد کردی تیزاب گردی ریاست کیخلاف بڑاجرم ہے ،جو قتل سے بھی زیادہ سنگین ہے،قانون تیزاب سے چہرہ جلانے والے کو معاف نہیں کر سکتا، چیف جسٹس

جمعرات جولائی 21:00

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 جولائی2019ء) سپریم کورٹ نے متاثرہ فریق سے معافی ملنے کے باوجود تیزاب گردی کیس میں ملوث ملزم کی بریت درخواست مسترد کردی جبکہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دئیے ہیں کہ تیزاب گردی ریاست کیخلاف بڑاجرم ہے ،جو قتل سے بھی زیادہ سنگین ہے،قانون تیزاب سے چہرہ جلانے والے کو معاف نہیں کر سکتا۔

جمعرات کو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔

(جاری ہے)

ملزم کے وکیل نے دلائل دئیے کہ متاثرہ خاتون نے ان کے موکل کومعاف کر دیا ہے،چیف جسٹس آصف سیعد کھوسہ نے ریمارکس دئیے کہ تیزاب گردی کے مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں،متاثرہ خاتون بے شک معاف کرے ،قانون تیزاب گردی کے ملزم کو معاف نہیں کر سکتا۔انہوںنے کہاکہ تیزاب گردی کے کیس میں کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا،تیزاب گردی سے متعلق قانون انتہائی سخت ہے،کسی کوتیزاب سے جلانا قتل سے بھی بڑا ظلم ہے۔

انہوںنے کہاکہ کسی پرتیزاب پھینکنے کی سزا عمر قید ہے ،تیزاب گردی ریاست کیخلاف جرم ہے۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ہو سکتا ہے متاثرہ خاتون کو دھمکا کر بیان دینے سپریم کورٹ بھیجا گیا ہو،قانون تیزاب سے چہرہ جلانے والے کو معاف نہیں کر سکتا ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments