پی آئی اے کی ایک اور بڑی کامیابی، پاکستان میں ہی طیارہ مرمت کر کے اڑان کے لیے تیار کر لیا

پی آئی اے کا ایک اور ائر بس اے تھری ٹوئنٹی طیارہ ایک سال سے زائد عرصہ گراؤنڈ رہنے کے بعد اڑان کے قابل ہو گیا

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ جمعرات جولائی 20:17

پی آئی اے کی ایک اور بڑی کامیابی، پاکستان میں ہی طیارہ مرمت کر کے اڑان ..
اسلام آباد (اردواپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 18جوالائی 2019ء) پاکستان انٹر نیشنل ائر لائنز کا ایک اورطیارہ ائر بس اے تھری ٹوئنٹی( A320) طیارہ ایک سال سے زائد عرصہ گراؤنڈ رہنے کے بعد اڑان کے قابل ہو گیاہے۔ پی آئی اے ذرائع کے مطابق طیارہ کسی دوسرے طیارے سے پرزہ جات نکالے بغیر مکمل طور پر مقامی وسائل سے قابل استعمال حالت میں لایا گیاہے۔ترجمان پی آئی نے کہا ہے کہ طیارہ گزشتہ سال مئی سے ناکارہ حالت میں بے توجہی کا شکار تھا۔

سی ای او ائیر مارشل ارشد ملک نے گزشتہ سال نومبر میں پی آئی اے کا چارج سنبھالنے کے بعد تمام گراؤنڈڈ طیاروں کو قابل اڑان بنانے کے احکامات جاری کئے تھے۔واضح رہے کہ اس سے قبل ایک بوئنگ 777 طیارہ بھی ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ گراؤنڈ رہنے کے بعد گزشتہ ماہ درست حالت میں کر دیا گیاتھا۔

(جاری ہے)

پی آئی اے نے اس سلسلے میں حکومت سے مالی مدد کی درخواست بھی کی تھی جس پر حکومت کی جانب سے کوئی خاطر خواہ عملدرآمد نہیں کیا گیا اور مشکل حالات کے باوجود پی آئی اے نے اپنے وسائل کا موثر استعمال کیا۔

دو طیاروں کی بروقت بحالی کے بعد پی آئی اے کے حج آپریشن میں مزید آسانی ہو گئی ہے۔حج آپریشن بغیر کسی کرائے کے طیارے کے مکمل طور پر پی آئی اے کے اپنے طیاروں سے کیا جا رہا ہے۔ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ سی ای او ائر مارشل ارشد ملک نے طیارے کی بحالی ممکن بنانے پر پی آئی اے کے کارکنوں کو مبارکباد دیتے ہوئے اور بالخصوص انجینئرنگ ، فلائٹ آپریشن، فنانس اور سپلائی چین مینجمنٹ کے شعبوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انکے لئے تعریفی اسناد دینے کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلامسرور خان نے کہاہے کہ غیر ملکی ایئر لائنز کے آنے سے پاکستان انٹر نیشنل ائر لائنز کا خسارہ 426 ارب روپے ہوگیا ہے۔اہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ حکومتوں نے گلف ،اتحاد ،امارات اور ترکش ائر لائینز کو پاکستان میں لینڈنگ کے حقوق دیئے جس کی وجہ سے پی آئی اےسنبھل نہیں پائی۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں غلام سرورخان نے کہا ہے کہ سابقہ حکومت نے ائیر سروسز کے 97معاہدے کئے، بہت سی غئر ملکی ائیر لائنز کو پاکستان آنے کی اجازت دی گئی اور انہیں اچھی فریکوینسی دی گئی جس سے پی آئی اے کا نقصان ہوا، تاہم اب حکومت نے 97 معاہدوں کااز سر نو جائزہ لینے کا مینڈیٹ دیا ہے ،غلام سرور خان نے کہا کہ انہوں نے جب پی آئی اے کا چارج سنبھالا تھا تو پی آئی اے کے فلیٹ میں صرف31 طیارے رہ گئے تھے جن میں سے 4 طیارے گراؤنڈڈ تھے۔

بزنس پلان میں پی آئی اے کی بحالی اہم ہے اس کے لیے انتظامی سطح پر اقدامات کئے گئے ہیں۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments