اسپیکر اسد قیصر سے انیل مسرت کی سربراہی میں کاروباری شخصیات کی ملاقات

ہفتہ جولائی 23:32

اسپیکر اسد قیصر سے انیل مسرت کی سربراہی میں کاروباری شخصیات کی ملاقات
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 جولائی2019ء) اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے انیل مسرت کی سربراہی میں برطانیہ میں مقیم پاکستانی کاروباری شخصیات نے ہفتہ کو پارلیمنٹ ہاوس میں ملاقات کی۔ملاقات میں وزیراعظم کے مشیر صاحبزادہ جہانگیر نے بھی شرکت کی۔ ملاقات میں سابق ایئر چیف سہیل امان نے بھی شرکت کی اور راشد آباد میموریل ٹرسٹ کی جانب سے فلاحی کاموں پر تبادلہ خیال کیا۔

اسپیکر نے پاکستان ویلفیئر ٹاون کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ عالم آباد صوابی میں جدید نوعیت کاماڈل ویلفیئر ٹائون قائم کیا جارہا ہے جس میں یتیموں، خصوصی افراد، اسٹریٹ چلڈرن بیوائوں کے لیے رہائش ، تعلیم ، علاج سمیت تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

(جاری ہے)

منصوبہ حکومت اور رفائی اداروں کے مشترکہ تعاون سے مکمل کیا جائے گا۔

انہوں نے ملک کے لیے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے ہمیشہ فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بے سہارا اور یتیم بچوں کے لیے ویلفیئر ٹاون کا قیام میری زندگی کا مشن ہے۔انہوں کہا کہ ملک کے کمزور طبقات کی فلاح و بہبود موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے بھرپور اقدامات اٹھا جا رہے ہیں جس کے لیے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے شروع کیا جانے والا اساس پروگرام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے کمزور طبقات کی فلاح وبہبود کی لیے کچھ کرنا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے انسانیت کی خدمت ضروری ہے۔وفد نے اسپیکر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے فلاحی کاموں میں دلچسپی اور ملک میں کمزور طبقات سمیت انسانیت کی خدمت کے جذبے سے سرشار پاکستان ویلفیئر ٹائون کی ٹیم کے کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ انسانیت کی خدمت ایک اہم فریضہ ہے اس مقصد پر کام کرنے والا انسان اپنی زندگی میں کامیاب انسان کہلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی فلاحی کاموں کے حصول کے لیے اپنا ہر ممکن کردار ادا کرتے رہیں گے۔وفد نے پاکستان ویلفیئر ٹائون کی تعمیر کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کا بھی یقین دلایا۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments