سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی غیرملکی شہریت لینے کی تردید

میرا جینا مرنا پاکستان کیلئے ہے، غیرملکی شہریت لینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثارکا بیان

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار اگست 18:43

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی غیرملکی شہریت لینے کی تردید
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔18 اگست 2019ء) سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار نے غیرملکی شہریت لینے کی تردید کردی ہے،انہوں نے کہا کہ میرا جینا مرنا پاکستان کیلئے ہے، غیرملکی شہریت لینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں غیرملکی شہریت لینے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میری غیرملکی شہریت سے متعلق خبریں من گھڑت ہیں۔ میرا جینا مرنا پاکستان کیلئے ہے، غیرملکی شہریت لینے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ڈیم کا مرحلہ وار کام ہورہا ہے، ڈیم کی تعمیر میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ نومبر میں ڈیم کی تعمیر کا کام شروع ہوجائے گا۔ ڈیم کی تعمیر کیلئے دیا گیا عوام کا پیسا سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں محفوظ ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں وفاقی حکومت نے پاکستان میںپانی جیسی قدرتی نعمت کو محفوظ بنانے اوراسکا مئوثراستعمال یقینی بنانے کے لئے نیشنل واٹرپالیسی پر عملدرآمد کے لئے صوبوں سے مشاورت اورتجاویزطلب کرلی گئی ہیں۔

(جاری ہے)

تاکہ پانی کو انسانی ضروریات کے ساتھ ساتھ زراعت ولائیوسٹاک کے شعبوں اوربجلی پیدا کرنے کے لئے موثرطورپر استعمال میں لاکرآئندہ نسلوں کے لئے اسکی بقاء ممکن بنائی جاسکے۔اس سلسلے میں عالمی بینک کے تعاون سے دیگرصوبوں کی طرح خیبرپختونخوامیں بھی نیشنل واٹرپالیسی پر عملدرآمد کے سلسلے میں مشاورتی مزاکرے کا اہتمام کیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی سیکرٹری محمد اشرف اورجائنٹ سیکرٹری مہرعلی نے قومی آبی پالیسی کے مقاصداورمقررہ اہداف کے بارے میں مقررین کو آگاہ کیا اورصوبوں کی مشاورت کوپالیسی کا حصہ بنانے پر زوردیا۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری شہزادبنگش نے کہا کہ گزراہواوقت کبھی واپس نہیں آتااس سلئے پانی بھی واپس نہیں آتا،آج ہم پانی کو ضائع کررہے ہیں جوکہ ایک بڑی نعمت ہے،انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے سابق فاٹاسمیت صوبے بھر میں کئی منصوبو ں پر کام شروع کررکھا ہے جن میں دیامربھاشا، کرم تنگی ڈیم وغیرہ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام سٹیک ہولڈرز کوقومی مفاد میں ٹیم کے طورپر کام کرناہوگا۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments