ایل این جی کیس: شاہدخاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کے ریمانڈ میں 26 ستمبر تک توسیع

سارے سیاسی کیس ہیں، مجھے خدشہ ہے یہ مجھ پرمزید جعلی کیس بنادیں گے. سابق وزیراعظم

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات ستمبر 11:25

ایل این جی کیس: شاہدخاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کے ریمانڈ میں 26 ستمبر ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔12 ستمبر۔2019ء) احتساب عدالت نے ایل این جی کیس میں سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کے جسمانی ریمانڈ میں 26 ستمبر تک توسیع کردی ہے. تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں ایل این جی کیس کی سماعت ہوئی ، نیب کی جانب سے سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کو جج محمد بشیر کی عدالت میں پیش کیا گیا.

(جاری ہے)

دوران سماعت نیب کی جانب سے شاہد خاقان عباسی کے مزید14روزہ ریمانڈ کی استدعا کی گئی ، شاہد خاقان عباسی خود روسٹرم پر آئے اور کہا کل جو چیف جسٹس نے کہابات ساری وہی ہے، یہ سارے سیاسی کیس ہیں، مجھے خدشہ ہے یہ مجھ پرجعلی کیس بنادیں گے، ان کو بےشک ایک ہی بار 90دن کا ریمانڈ دےدیں، بات وہی ہے جومیں نے پہلے دن کردی تھی. عدالت نے شاہد خاقان عباسی کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ کرلیا‘ایل این جی کیس میں سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور سابق ایم ڈی پی ایس او شیخ عمران الحق کو بھی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے رو برو پیش کیا گیا اور دونوں ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی استدعا کی گئی.

نیب پراسیکیوٹر نے کہا مزید تفتیش کرنی ہے جسمانی ریمانڈ می توسیع کی جائے ، جس پر وکیل صفائی نے کہا کہ ہمارا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے، مفتاح اسماعیل کو23 گھنٹے اکیلے رکھا جاتاہے، کم از کم انہیں کھانا تو خاقان عباسی کے ساتھ کھانے دیا جائے. وکیل صفائی کی جانب سے نیب کے جسمانی ریمانڈ میں استدعا کی مخالفت کی گئی. عدالت نے مفتاح اسماعیل اور شیخ عمران الحق کے مزیدجسمانی ریمانڈکی استدعا پربھی فیصلہ محفوظ کرلیا، ایل این جی کیس کے تفتیشی افسر ملک زبیر نے عدالت میں بیان میں کہا میں کراچی گیاتھا سارا ریکاڑد خود لیکر آیا ہوں ریکارڈ، شواہد کی روشنی میں مزید تفتیش کرنا چاہتا ہوں.

بعد ازاں عدالت نے تینوں ملزموں کے جسمانی ریمانڈ میں 26 ستمبر تک توسیع کرتے ہوئے مزید 14دن کے لئے نیب کے حوالے کردیا، ملزمان میں شاہدخاقان عباسی ،مفتاح اسماعیل ،شیخ عمران الحق شامل ہیں.

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments