وفاق کا کراچی کے انتظامی کنٹرول کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان

پیپلز پارٹی نے کراچی سمیت پو رے سندھ کو تباہ و برباد کردیا ہے. وفاقی وزیرقانون

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعرات ستمبر 11:45

وفاق کا کراچی کے انتظامی کنٹرول کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔12 ستمبر۔2019ء) وفاقی وزیرقانون فروغ نسیم نے کہا ہے کہ کراچی پر وفاق کے کنٹرول کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے. فروغ نسیم نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کراچی سمیت پو رے سندھ کو تباہ و برباد کردیا ہے. فروغ نسیم نے کہا کہ آرٹیکل 149 (4)کے تحت وفاق کی جانب سے کراچی کو کنٹرول کرنے کے لیے سندھ حکومت سے درخواست کریں گے اگر سندھ حکومت نہیں مانتی توپھر سپر یم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا.

(جاری ہے)

کراچی کو بہتر کرنے کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے، اب کراچی کے حوالے سے مداخلت کرنا ضروری ہوگیا ہے، قانو نی طور پر ایک مسودہ تیا ر کر رہے ہیں جو ہفتے کو وزیراعظم کے سامنے پیش کریں گے کیو نکہ کر اچی میں کچرا اٹھ رہا ہے، پبلک ٹرانسپورٹ اور نہ ہی انفرااسٹرکچرمو جود ہے. نجی ٹی وی سے گفتگو کر تے ہوئے بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ 11 سال میں پیپلزپارٹی کی حکومت نے کراچی، لاڑکا نہ، کنڈیارو سمیت تمام شہروں دیہات کو تباہ و برباد کردیا ہے اب ضر وری ہوگیا ہے کہ وفاق اس میں مداخلت کرے ہم تمام آئینی اور قانونی راستے اختیار کریں گے وزیر اعظم کو کراچی کے حالا ت پر تشویش ہے اس لیے انہوں نے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کیا تھا جس میں فیصلے کے مطابق کراچی کے حالات بہتر کر نے کے لیے ایک اسٹرٹیجک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کا مجھ کو سر براہ بنا یا گیا ہے.

وفا قی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم ہفتے کو کر اچی کا دورہ کریں گے اس سلسلے ایک ڈرافٹ تیار کیا جارہاہے جو وزیراعظم کے سامنے پیش کیا جائے گا جس میں آرٹیکل 149(4)کے تحت سندھ حکومت سے درخو است کی جائے گی کہ شہر کے حالات خراب ہیں اور ہم اس کا کنٹرول چا ہتے ہیں یہ مسودہ وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد پیش کیا جائے گا اگر سندھ حکومت ایسا کرنے نہیں دیتی تو پھر آرٹیکل 141 کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا.

وزیر قانون فروغ نسیم نے کہاکہ اگر کراچی اور بلکہ پورے سندھ کو ٹھیک کرنا ہے تو اس طرح نہیں چلے گا کیونکہ یہ حکومت ہے اس کے کام کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے‘ کراچی پورے سندھ میں کتنا ریونیو دیتا اور کراچی پر خرچ کتنا ہوتا ہے اس کی تناسب متوازن نہیں ہے اگر 11 سال میں کچھ خرچ نہیں ہو یا ترقی کے لیے خرچ نہیں ہورہا ہو اور مردم شماری بھی غلط ہو اور ایک کروڑ 60 لاکھ کے حساب سے بھی اس پر خرچ نہیں کیا گیا تو 18 ویں ترمیم کے بعد کیا آئینی ترکیب ہو اس کے لیے وزیراعظم نے فروغ نسیم کو کمیٹی میں شامل کیا ہے.

انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں 6 اراکین پاکستان تحریک انصاف اور 6 اراکین متحدہ قومی موومنٹ سے ہیں اور ایف ڈبلیو او سے بھی ہیں‘کمیٹی میں مجھے ڈالنے کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ مختصردورانیے، درمیانی اور طویل دورانیے کی حکمت عملی کیا ہو کہ کراچی میں اور مقامی حکومت پر کیسے خرچ ہواس کا حل نکالنا ہے. میئر کراچی کے اختیارات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ میئر اور منتخب اراکین سے اختیارات کی منتقلی 140 اے اور آرٹیکل 17 سے متصادم ہے اور اب اس کے اندر سپریم کورٹ کا کردار ہونا ہے اور سپریم کورٹ نے وضاحت دینی ہے اس حوالے سے مقدمہ عدالت میں زیرالتوا ہے.

انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سپریم کورٹ کو فیصلہ دینا ہے اور ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کا بھی اس میں پارٹی بننے کا پورا موڈ ہے اس کے علاوہ 184 ون ہے جس کے تحت اگر صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان کوئی تنازع ہو تو سپریم کورٹ کی حدود میں براہ راست شامل ہے اور سپریم کورٹ کو رہنمائی کرنا ہے. فروغ نسیم نے کہا کہ چاہے واٹر بورڈ، ایم ڈی اے، لیاری ڈیولپمنٹ ‘کے ڈی اے، سولڈ ویسٹ مینجمنٹ کی اکائی حکومت سندھ نے اپنے پاس رکھی ہے اور اس کا آئیڈیا ہے کہ صرف کرپشن کی جائے.

انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت 149 فور پہلے دن استعمال کرتی تو پھر اس پر یہ الزام آتا ہے کہ صوبائی خودمختاری پر آگئے ہیں اور اب یہ صحیح وقت ہے اس سے پہلے ہوتا تو اس پر سیاست کی جاتی اور میں اس کی کھلی حمایت کرتا ہوں.

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments