وزیر خارجہ نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو پاکستان کی فتح قرار دے دیا

بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے سے پاکستانی موقف مہر لگ گئی، بھارتی حکومت عالمی قوانین کو پامال کر رہی ہے،غلام نبی آزاد کے ساتھ میڈیا وفد کو بھی ساتھ لے جانے کی اجازت ہونی چاہئیے۔ شاہ محمود قریشی

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان پیر ستمبر 12:37

وزیر خارجہ نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو پاکستان کی فتح قرار دے دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 16 ستمبر 2019ء) اسلام آباد بھارتی سپریم کورٹ نے مودی سرکار کو مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول پر لانے کا حکم دے دیا ہے۔اس پر اب پاکستان کا بھی ردِعمل سامنے آ گیا ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے سے پاکستانی موقف مہر لگ گئی ہے۔انہوں نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کو پاکستان کی فتح قرار دے دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی حکومت عالمی قوانین کو پامال کر رہی ہے۔غلام نبی آزاد کے ساتھ میڈیا وفد کو بھی ساتھ لے جانے کی اجازت ہونی چاہئیے۔بھارتی سریم کورٹ کے فیصلے پاکستانی موقف پر مہر لگ گئی ہے۔حقائق سامنے رکھے جاتے تو مقبوضہ کشمیر میں آج بلیک آؤٹ نہ ہوتا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا غلام نبی آزاد کو مقبوضہ کشمیر جا کر مودی سرکار کو آئینہ دکھایا جائے۔

خیال رہے 5 اگست کو بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے 5اگست کو بھارتی آئین میں کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی شق کے خاتمے کے اعلان کے ساتھ اسے مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔جب کہ دوسری جانب بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول پر لانے کا حکم دے دیا ہے۔اس حوالے سے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ میں آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

عدالت نے مرکزی حکومت کو مقبوچضہ کشمیر میں حالات معمول پر لانے کا حکم دیا ہے۔بھارتی عدالت نے کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد کو بھی مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت دی ہے اور نہیں مقبوضہ کشمیر کے حالات سے متعلق رپورٹ جمع کروانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔عدالت نے انہیں یہ بھی ہدایت کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے دورے کے دوران نہ تو وہ کوئی تقریر کریں گے اور نہ ہی کوئی ریلی نکالیں گے۔چیف جسٹس بھارتی سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو میں خود بھی مقبوضہ کشمیر کا دورہ کروں گا۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments