وزیر خارجہ سے ملتان سے تعلق ر کھنے والے ارکین صوبائی و قومی اسمبلی کی ملاقات،مختلف امور پر غور

جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ پر کام ترجیحی بنیادوں پر جاری ہے جسے بہت جلد مکمل کر لیا جائے گا ،شاہ محمود قریشی

بدھ ستمبر 00:14

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 ستمبر2019ء) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ پر کام ترجیحی بنیادوں پر جاری ہے جسے بہت جلد مکمل کر لیا جائے گا ، منگل کو ملتان سے تعلق رکھنے والے معزز اراکین صوبائی و قومی اسمبلی نے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی ۔وفد میں چیف وہپ قومی اسمبلی ملک عامر ڈوگر ، پارلیمانی سیکرٹری خزانہ مخدوم زین قریشی ممبران قومی اسمبلی محمد ابراہیم خان، رانا قاسم نون، احمد حسین ڈیہڑ و صوبائی وزیر ڈاکٹر اختر ملک ممبران صوبائی اسمبلی جاوید اختر انصاری، محمد ندیم قریشی، ملک واصف مظہر، نوابزادہ وسیم خان بدوزء، سلیم اختر میاں طارق عبداللہ قاسم عباس خان اور ظہیر الدین علیز شامل تھے ۔

ملاقات میں جنوبی پنجاب سیکریٹیریٹ کے حوالے سے اب تک ہونیوالی پیش رفت، ملتان ریجن کے ترقیاتی منصوبوں سمیت دیگر اہم علاقائی و سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

(جاری ہے)

وزیر خارجہ نے کہاکہ گذشتہ حکومتوں کی عدم توجہ اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث جنوبی پنجاب کے لوگوں میں احساس محرومی بڑھتا رہا جن کا ازالہ اب پی ٹی آئی کی حکومت ’’جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ‘‘کے قیام کے ذریعے کر رہی ہے ۔

مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ملتان کے پارلیمنٹرینز کے وفد نے صحت عامہ کی بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے نشتر ٹو منصوبے کے اجراء پر وزیر خارجہ کا خصوصی شکریہ ادا کیا ۔وزیر خارجہ نے کہاکہ جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ پر کام ترجیحی بنیادوں پر جاری ہے جسے بہت جلد مکمل کر لیا جائے گا ۔ملتان میں جاری بالخصوص اور جنوبی پنجاب میں بالعموم جاری ترقیاتی منصوبوں پر جاری کام کی پیش رفت پر بھی گفتگو ہوئی - وزیر خارجہ نے اراکین اسمبلی کو تمام جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کی یقین دہانی کرائی ۔

دوران ملاقات، ملتان میں آئندہ ہونیوالے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بھی تفصیلی مشاورت کی گئی اور اس مشاورتی سلسلے کو آئندہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ۔وزیر خارجہ نے ملتان سے تعلق رکھنے والے معزز اراکین اسمبلی کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments