کام نہ کرنے والوں کو عہدے سے ہٹا دیا جائے گا: عمران خان

عوامی فلاح کے لیے کام نہ کرنے والوں کو عہدے سے ہٹا دیا جائے گا، قصور واقعے پر سب کا احتساب ہو گا: وزیراعظم کا ٹویٹ

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ بدھ ستمبر 21:46

کام نہ کرنے والوں کو عہدے سے ہٹا دیا جائے گا: عمران خان
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 ستمبر2019ء) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کام نہ کرنے والوں کو عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ عوامی فلاح کے لیے کام نہ کرنے والوں کو عہدے سے ہٹا دیا جائے گا، قصور واقعے پر سب کا احتساب ہو گا۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ ’’قصور واقعے پر سب کا محاسبہ ہوگا۔ جنہوں نے عوام کے مفادات کے تحفظ کیلئے کام نہیں کیا ان سے باز پرس کی جائے گی۔

پنجاب پولیس اور صوبائی حکومت کی جانب سے اب تک درج ذیل اقدامات اٹھائے جاچکے ہیں:
1. ڈی پی او قصور کو ہٹایا جارہا ہے
2. ایس پی انوسٹیگیشن قصور خود کو قانون کے حوالے کرچکے ہیں اور چارج شیٹ کے بعد انکے خلاف کارروائی جاری ہے۔
3. ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو معطل کیا جاچکا ہے۔

(جاری ہے)

4. قصور پولیس کی از سرِنو صف بندی کی جارہی ہے۔

5. ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں تحقیقات کیلئے احکامات دیے جاچکے ہیں‘‘۔


یاد رہے کہ قصور کے علاقے چونیاں انڈسٹریل اسٹیٹ سی3 بچوں کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں، جنہیں مبینہ طور پر اغوا کرکے قتل کیا گیا ،اس واقعے نے علاقے میں کہرام برپا کر دیا تھا۔ 8 سال محمد فیضان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی سامنے آ گئی ہے جس میں بچے سے زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق 8 سالہ محمد فیضان کو گلا دبا کر قتل کیا۔ بچے کے جسم پر تشدد کے نشانات بھی موجود ہیں۔بچے کو قتل کرنے کے بعد اونچائی سے پھینکا گیا۔کمیٹی نے جائے وقعہ پر پہنچ کر مختلف نموانہ حاصل کیے ہیں جب کہ کمیٹی حراست میں لیے گئے 9 افراد مشکوک افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ آج کروائے گی۔ پولیس حکام کا کہنا تھا کہ تین میں سے ایک 8 سالہ بچے کی شناخت سفیان کے نام سے ہوئی ۔ جو چونیاں شہر کے رہائشی رمضان کا بیٹا تھا جب کہ 2 بچوں کی لاشیں پرانی ہونے کیوجہ ناقابل شناخت ہیں۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments