تحریک انصاف کے تنظیمی ڈھانچے کو تحلیل کرنے کے حوالے سے اطلاعات کی سختی سے تردید کر دی گئی

پارٹی آئین کی روشنی میں ملک گیر تنظیموں کا اعلان کر چکی ہے، مجموعی طور پر آئینی سکیم پر نظرثانی کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں: مرکزی سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی احمد جواد

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ اتوار ستمبر 00:16

تحریک انصاف کے تنظیمی ڈھانچے کو تحلیل کرنے کے حوالے سے اطلاعات کی سختی ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 ستمبر2019ء) تحریک انصاف کے تنظیمی ڈھانچے کو تحلیل کرنے کے حوالے سے اطلاعات کی سختی سے تردید کر دی گئی ہے۔ مرکزی سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی احمد جواد نے کہا ہے کہ پارٹی آئین کی روشنی میں ملک گیر تنظیموں کا اعلان کر چکی ہے، مجموعی طور پر آئینی سکیم پر نظرثانی کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔ مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے جاری وضاحتی بیان میں احمد جواد نے کہا ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے محض ریجنز کی تشکیل پر اصولی اتفاق ہوا ہے اور اس سلسلے میں مرکزی مجلس عاملہ سے مشاورت حتمی مراحل میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی سطح کی تنظیم تحلیل کرنے کے حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی سطح کے تنظیمی ڈھانچے کو تحلیل کرنے کے حوالے سے تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا چنانچہ ہر سطح کا تنظیمی ڈھانچہ بدستور موجود اور فعال ہے۔

(جاری ہے)

احمد جواد نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ کسی بھی فیصلے کی صورت میں باضابطہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا غیر مصدقہ اور حقائق کے منافی خبروں کی تشہیر سے گریز کرے کیونکہ بلاتصدیق اطلاعات کی ترویج و اشاعت پیشہ وارانہ بددیانتی اور غیر قانونی اقدام ہے۔ کارکنان کے نام پیغام میں مرکزی سیکرٹری اطلاعات احمد جواد کا کہنا تھا کہ کارکنان غیر مصدقہ اطلاعات پر کان دھرنے کی بجائے تحریک انصاف شعبہ اطلاعات کی جانب سے جاری کی جانے والی خبروں پر ہی انحصار کریں۔

واضح رہے کہ اس قبل خبریں آئی تھیں کہ پاکستان تحریک انصاف نے ملک بھر کے تمام پارٹی عہدے تحلیل کر دیئے ہیں۔ ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل ارشد داد خان کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق صرف چند پارٹی عہدے بحال رکھے گئے ہیں اور باقی تمام پارٹی عہدے ختم کر دیے گئے ہیں۔ اب ان سب خبروں کی تردید ہو گئی ہے۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments