ملک میں 2 ماہ کے دوران ڈیڑھ ارب ڈالر کے بیرونی قرضے لیے گئے

حکومت نے سال میں13 ارب ڈالر قرضہ لینے کا منصوبہ بنا لیا

Usman Khadim Kamboh عثمان خادم کمبوہ اتوار ستمبر 14:27

ملک میں 2 ماہ کے دوران ڈیڑھ ارب ڈالر کے بیرونی قرضے لیے گئے
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔22ستمبر2019ء) حکومت نے رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں ڈیڑھ ارب ڈالر کے بیرونی قرضے لیے ہیں جو گزشتہ سال اسی عرصہ کے دوران لیے گئے قرضوں کے مقابلے میں 108 فیصد زیادہ ہیں۔ذرائع کے مطابق غیرملکی قرضوں میں یہ اضافہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہونے کے بعد سے شروع ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے تحت تین سال میں پاکستان کیلیے 38ارب ڈالر کی غیرملکی فنڈنگ کا تخمینہ ہے۔

وزارت خزانہ کے اعدادوشمار کے مطابق اس سال جولائی اور اگست میں غیرملکی کمرشل بینکوں اور مختلف قرض دہندگان نے پاکستان کو1.49ارب ڈالر دیے ہیں جبکہ 2018کے انھی دو ماہ میں صرف 71.4کروڑ ڈالر قرضہ لیا گیا تھا۔ ڈیڑھ ارب ڈالر کے ان قرضوں کے علاوہ برطانیہ، امریکا اور جاپان سے غیرملکی گرانٹس کی شکل میں 4132.3ملین ڈالر بھی وصول کیے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

اعدادوشمار کت مطابق اس سال جولائی اور اگست میں ڈیڑھ ارب ڈالر کے قرضوں میں 321.5ملین ڈالر کے کمرشل قرضے اور 500ملین ڈالر ایشیائی ترقیاتی بینک کی پہلی امدادی قسط شامل ہے۔

دوطرفہ قرض دہندگان کی طرف سے 272ملین ڈالر وصول ہوئے ہیں جو کہ کل قرضوں کا 18فیصد ہے۔سعودی عرب نے 108ملین ڈالر پاکستان کو دیے ہیں جبکہ چین نے پراجیکٹ فنانسنگ کی مد میں 158.3ملین ڈالر دیے ہیں جو گذشتہ سال کے اسی عرصہ کے مقابلے میں47فیصد کم ہے۔ ذرائع کے مطابق سی پیک کی بہت سے اسکیمیں مکمل ہونے کے باعث چینی فنانسنگ میں کمی آئی ہے۔چین نے حویلیاں تھاکوٹ روڈ کیلیے 27.2ملین ڈالر اور سکھر ملتان موٹروے کیلیے 68.2ملین ڈالر دیے ہیں اور یہ دونوں منصوبے مکمل ہو چکے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کی طرف سے افتتاح کے منتظر ہیں۔

حکومت نے رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی ضروریات کیلیے 13ارب ڈالر کے قرضے لینے کا ہدف رکھا ہے اور یہ ڈیڑھ ارب ڈالر مجموعی ہدف کا 11.5فیصد ہیں۔ حکومت نے اپنے پہلے سال کے دوران 16ارب ڈالر کے بیرونی قرضے لیے تھے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اگرچہ کم ہو رہا ہے تاہم رواں مالی سال کے دوران یہ خسارہ پورا کرنے کے لیے تقریباً 8ارب ڈالر درکار ہیں۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments