وفاقی وزیرانسانی حقوق شیریں مزاری کی نیدرلینڈ کے سفیر سے ملاقات

ملاقات کے دوران انسانی حقوق باا لخصوص خواتین، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے مختلف امور امور پر تبادلہ خیال،مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی انسانی حقوق کی صورتحال پر تشویش کا اظہار

پیر ستمبر 23:52

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 23 ستمبر2019ء) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شریں مزاری سے پیر کے روز اسلام آباد میں نیدرلینڈ کے سفیر ولن ووٹر پلومپ نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران انسانی حقوق باا لخصوص خوانین، بچوں اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے مختلف امور سمیت خواتین کو با اختیار بنانے کے حوالے سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ انسانی حقوق کے تحفظ کیلیے مل کر کام کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

وفاقی وزیر نے سفیر کو بتایا کہ خواتین، بچوں اور اقلیتیوں کے حقوق کا تحفظ موجودہ حکومت کی ترجیح ہے اور اسکے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ نیدرلینڈ کے سفیر نے وزیر کو بتایا کے نیدرلینڈ کے انسانی حقوق کے وزیرکا جلد پاکستان کے دورے کا ارادہ ہے ۔

(جاری ہے)

شیریں مزاری نے کہا کہ انسانی حقوق کا تحفظ ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے اور موجودہ حکومت اوروزارت برائے انسانی حقوق پاکستانی آئین اور بین الاقوامی قرارداوں کے مطابق ہر فرد کو بنیادی حقوق دینے کے لیے کوشاں ہے۔

ڈاکٹر شریں مزاری نے مقبوضہ کشمیر میں بگڑتی ہوئی انسانی حقوق کی صورتحال اور بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا ۔ڈاکٹر شیریں مزاری نے ملاقات میں مزید کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو انکے اپنے اپنے قوانین فراہم کیے جارہے ہیں۔ ہندو میرج ایکٹ پر عمل در آمد جاری ہے جبکہ مسیحی برادری کا طلاق کا قانون بھی جلد لایا جا رہا ہے، انھوں نے بتایا کہ خواجہ سرائوں کے حقوق کے تحفظ کیلیے قانون پر عمل در آمد جاری ہے جبکہ اسلام آباد میں پمز ہسپتال میں انکے لیے علیحدہ سے وارڈ کا قیام بھی لایا جا چکا ہے، اور انھیں مفت طبعی سہولیات بھی فراہم کی جارہی ہیں۔

وزارت انسانی حقوق نہ صرف موجود ہ قوانین پر عمل درآمد ممکن بنا رہی ہے بلکہ نئے قوانین بھی متعارف کروا رہی ہے۔شیریں مزاری نے کہا کہ اپنے شہریوں کو بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہیں، ہم جامع ایجنڈا پر عمل پیرا ہیں، ہم نے موجودہ قوانین پر عملدرآمد اور نئی قانونی سازی پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں۔

۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس حوالہ سے نئے قوانین سازی پر کام کر رہے ہیں جس میں تشدد کی روک تھام اور دوران حراست اموات، معذور افراد کے حقوق کا بل اور مسیحی طلاق کابل بھی شامل ہ۔، انہوں نے سفیر کو مزید بتایا کہ بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی روکنے اور ان کا تحفظ یقینی بنانے کیلئے ڈومیسٹک ورکرز کیلئے بھی نئی قانون سازی پر کام کیا جارہا ہے۔ وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ وزارت انسانی حقوق لوگوں میں بنیادی حقوق کے حوالے سے آگاہی مہم بھی چلا رہی ہے۔

خواتین کو وراثتی حقو ق کی فراہمی اور انکی قانونی معاونت کے لیے آگاہی مہم چلائی جا چکی ہے جبکہ بچوں ے زیادتی اور جنسی تشدد کی روک تھام کیلیے بھی آگاہی مہم جاری ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔سفیر نے وزات انسانی حقوق کی جانب سے انسانی حقوق کے تحفظ اور اسکی فراہمی کو ی یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا اور ہر ممکن تعاون کا اعادہ کیا۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments