مخلص قیادت، دستیاب وسائل کے مدبرانہ استعمال اور محنت سے قومی ترقی اور بلند مقام حاصل کیا جا سکتا ہے، موجودہ حکومت کے موثر اقدامات کے باعث معیشت میں بہتری آئی ہے،

بھارت کی فسطائی قیادت اقلیتوں پر مظالم ڈھا رہی ہے، بھارت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کا گلا نہیں گھونٹ سکتا صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا 111 ویں نیشنل مینجمنٹ کورس کے شرکاء سے خطاب

پیر ستمبر 23:56

مخلص قیادت، دستیاب وسائل کے مدبرانہ استعمال اور محنت سے قومی ترقی اور ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 23 ستمبر2019ء) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ مخلص قیادت اور تمام دستیاب وسائل کے مدبرانہ استعمال اور محنت کے ذریعے قومی ترقی اور بلند مقام حاصل کیا جا سکتا ہے، یہ عوامل اس وقت کارگر ہوتے ہیں جب سرکاری ملازمین ایمانداری کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بہترین انداز میں اپنے فرائض سر انجام دیں، موجودہ حکومت کے موثر اقدامات کے باعث معیشت میں بہتری آئی ہے، بھارت کی فسطائی قیادت اقلیتوں پر مظالم ڈھا رہی ہے، بھارت کشمیریوں کی اپنی جدوجہد آزادی کا گلا نہیں گھونٹ سکتا۔

ان خیالات کا اظہار پیر کو ایوان صدر میں ایگزیکٹو ڈویلپمنٹ انسٹی ٹیوٹ اور نیشنل سکول آف پبلک پالیسی (این ایس پی پی) کے تربیت کے 111 ویں نیشنل مینجمنٹ کورس اور سری لنکا کے سول افسران/شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

صدر مملکت نے کہا کہ موثر اور غیر جانبدار سول سروس نظم و نسق کے فعال نظام کا مرکزی نکتہ ہے۔ سینئر سول سرونٹس کا بطور لیڈر اور ریاست کے کسٹوڈین کی حیثیت سے کردار خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ اپنے ذہن میں لوگوں کی بہتری کو جگہ دیں اور انہیں ہر وقت عوامی خدمات کی بہتری کے لئے کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں تاخیر سے احساس محرومی پیدا ہوتا ہے اس لئے عوامی مسائل کے حل میں قواعد و ضوابط کی ضروریات کو رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ سری لنکا کے سول افسران سے خطاب کرتے ہوئے صدر نے امید ظاہر کی کہ ٹریننگ کورس سے ان کی استعداد کار میں اضافہ ہو گا اور انہیں ذمہ داریوں کو بہترین انداز میں نمٹانے کے لئے مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس قسم کے کورسز اور ٹریننگ اپنی معلومات کو دوسروں کو فراہم کرنے اور ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا شاندار موقع ہے۔ انہوں نے ان کے پاکستان میں قیام کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال پر سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ بھارت کی فسطائی قیادت اقلیتوں پر مظالم ڈھا رہی ہے اور بھارت میں ہندوازم کو فروغ دے رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں اقلیتیں مسلسل خوف کا شکار ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ طاقت کے ذریعے عوام کی خواہشات کو نہیں دبایا جا سکتا اور بھارت کشمیریوں کی اپنی جدوجہد آزادی کا گلا نہیں گھونٹ سکتا۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر پیلٹ گنز کا استعمال اور خونریزی بند کرے، کرفیو اٹھائے، محاصرہ اور مواصلاتی بلیک آئوٹ ختم کرے، بنیادی آزادیاں بحال کرے، سیاسی قیدیوں کو رہا کرے، انسانی حقوق کے کارکنوں کو نشانہ بنانا بند کرے اور انسانی حقوق سے متعلق ذمہ داریاں عالمی قوانین کے مطابق پوری کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی حق خود ارادیت کی حقیقت کو عالمی برادری تک پہنچانے کے لئے اپنا کام کر رہی ہے کیونکہ انہیں بھارت کی فاشسٹ حکومت کے ہاتھوں مشکلات کا سامنا ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کے بٹن تک رسائی ہونے کے باعث اس انتہا پسند حکومت نے عالمی اور علاقائی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ معاشی مسائل سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کو متعدد معاشی چیلنجز کا سامنا ہے تاہم حکومت ان مسائل کے حل کے لئے ٹھوس اقدامات کئے ہیں جس کے نتیجہ میں تجارتی خسارے میں کمی آئی ہے۔

گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس سے ملک کی معیشت کو دستاویزی شکل دینے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمگلنگ اور بدعنوانی کسی بھی ملک کی معیشت کو تباہ کر دیتے ہیں اس لئے ان برائیوں کے خاتمہ کے لئے سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ کراچی میں شہری سہولیات کے بحران کے حوالے سوال پر صدر مملکت نے پینے کے صاف پانی اور ٹرانسپورٹ کی بہتر سہولیات کی فراہمی، صفائی اور کوڑا کرکٹ کو مناسب انداز میں ٹھکانے لگانے کے لئے مقامی اور صوبائی سطح پر مضبوط باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔

قبل ازیں ریکٹر این ایس پی پی عظمت علی رانجھا نے اپنے افتتاحی کلمات میں اپنے ادارے کی کامیابیوں کو اجاگر کیا اور بہترین انداز میں عوامی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے سینئر سول سرونٹس کو جدید تکنیک سے مربوط کرنے کے حوالے سے کورس ماڈیول سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ’’کثیر جہتی احتساب کے تناظر میں بیورو کریسی کی فیصلہ سازی‘‘ سے متعلق پالیسی پیپر بھی پیش کیا۔

این ایس پی پی کو 15 مارچ 2005ء کو این ایس پی پی آرڈیننس 2002ء کے تحت قائم کیا گیا جس کا مقصد پبلک پالیسی، مینجمنٹ، اس سے متعلقہ ریسرچ، تجزیہ کے لئے سنٹر آف ایکسیلینس کو فروغ دینا ہے اور اچھے نظم و نسق کو موثر عملدرآمد کے ذریعے فیصلہ سازی کے معیار میں بہتری لانا تھا۔ صدر مملکت این ایس پی پی کے بورڈ آف گورنرز کے سربراہ ہیں۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments