ں* جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل ،مرکزی ملزم ناصر بٹ کا ڈی جی ایف آئی اے کے نام خط

_ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ بابر بخت قریشی ، شیخ اعجاز اور محمد عظمت خان کا ماضی کرپشن کی وجہ سے داغدار ہے ، پیسے نہ دینے کی وجہ سے کیس میں دہشتگردی کی دفعات ڈالنا چاہتے ہیں uویڈیو سکینڈل کیس کی تحقیقاتی ٹیم تبدیل کی جائے ،خط کا متن

اتوار اکتوبر 19:16

س& اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 13 اکتوبر2019ء) جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کے مرکزی ملزم ناصر بٹ نے ڈی جی ایف آئی اے کے نام خط لکھا ہے جس میں ناصر بٹ نے ویڈیو اسکینڈل کیس کی تحقیقاتی ٹیم پر سنگین لیکن انتہائی مدلل الزام لگاتے ہوئے استدعا کی ہے کہ تحقیقاتی ٹیم کو فوراً تبدیل کیا جائے ناصر بٹ نے خط میں لکھا کہ اتنے ہائی پروفائل کیس میں ایسے کرپٹ افسران کی تحقیقات پر ایک سوالیہ نشان جبکہ یہ کرپٹ افسران میری فیملی سے پیسوں کی ڈیمانڈ کرچکے ہیںجبکہ یہ افسران میری فیملی کو بلیک میل کرنے کے ساتھ ساتھ دہشتگردی کی دفعات شامل کرکے میری ساری فیملی کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں ناصر بٹ نے ڈی جی ایف آئی اے کو لکھے گئے خط میں اس خوف کا اظہار کیا ہے کہ اگر تحقیقاتی ٹیم بھاری رشوت نہ دی گئی تو یہ میرا کیس صاف شفاف تحقیقات کے ساتھ ڈیل نہیں کرینگے جبکہ یہ سارا کیس مجھ سے پیسے ہتھیانے کے علاوہ کچھ نہیں ہے ناصر بٹ نے ڈی جی ایف آئی اے سے درخواست کے ذریعے استدعا کی کہ میرے کیس سے ان کرپٹ افسران کو الگ کیا جائے جبکہ میرے کیس میں ایسے ایماندار اور اچھی شہرت کے حامل افسران کو دی جائے جو میرٹ پر بغیر کسی دبائو یہ صاف و شفاف تحقیقات کرسکیں ۔

(جاری ہے)

ناصر بٹ نے تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اور ڈائریکٹر انسداد دہشتگردی ونگ بابر بخت قریشی کے حوالے سے موقف اختیار کیا کہ بابر بخت قریشی کو انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب نے بری شہرت اور قبضہ مافیا کی مدد کرنے کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن واپس بھیجا تھا جبکہ ناصر بٹ نے آگے چل کر مزید بتایا کہ بابر بخت کی گھر کے فرد نے پاکستان مسلم لیگ نواز کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا لیکن اس کے بعد مسلم لیگ نواز کے ساتھ کچھ اختلافات پیدا ہوئے جس کے بعد بابر بخت قریشی کی فیملی نے اختلافات کی بنیاد پر مسلم لیگ نواز کو چھوڑ دیا ناصر بٹ نے مزید لکھا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بابر بخت قریشی اور ان کا خاندان پاکستان مسلم لیگ نواز کے ساتھ ذاتی عناد رکھتا ہے جس کی وجہ سے شفاف تحقیقات نہیں کی جاسکتیں لہذا ان کو ارشد ملک ویڈیو کیس سے الگ کیا جائے اس کے بعد ناصر بٹ نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شیخ اعجاز کے بارے میں لکھا کہ ایف آئی اے کے سپیشل انوسٹی گیشن یونٹ نے انہیں گرفتار کیا جس کی وجہ سے وہ ایک ماہ تک جیل میں رہے جبکہ اسپیشل انوسٹی گیشن سیل نے ان کے خلاف جو کیس بنایا تھا ان میں سیکشن 161-165-193-109PPCR/wجیسی سنگین دفعات شامل تھے اعجاز شیخ ایک ماہ تک جیل میں رہے اور اس کے بعد ان کی ضمانت ہوئی جبکہ ان کا کیس اس وقت سپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں چل رہا ہے جبکہ اعجاز شیخ کے خلاف ایک کیس اینٹی کرپشن سرکل لاہور میں بھی چل رہا ہے ۔

اس کے بعد انہوں نے تحقیقاتی ٹیم کے ممبر محمد عظمت خان کے بارے میں لکھا کہ عظمت خان لیبیا کیلئے انسانی سمگلنگ میں ملوث تھے تحقیقات کے دوران انہوں نے اپنا جرم تسلیم کیا اور انہی کے ساتھ انسپکٹر کیخلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے تھے جبکہ عظمت خان انسانی سمگلنگ کے کیس میں گرفتار بھی کئے گئے تھے جو عظمت خان کے حوالے سے جب ہم ان کے ساتھیوں اور دو ہزار سولہ میں عظمت خان کے سینئر افسران نے ان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے عظمت خان کے بارے میں ناصر بٹ کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات کی مکمل طور پر یہ تصدیق کی اور نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واقعی انسپکٹر محمد عظمت خان نے لیبیا کیلئے انسانی سمگلنگ کا اعتراف کیا تھا اور اس کے بعد ان کیخلاف ایک مقدمہ دائر کیا گیا تھا جس میں محمد عظمت خان اپنے ساتھی کیخلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے تھے جبکہ یہ باقاعدہ طور پر گرفتار بھی کئے گئے تھے اس حوالے سے محمد عظمت خان سے ان کا اس حوالے سے موقف جاننے کی بار بار کوشش کی جاتی رہی جبکہ ان کا موقف جاننے کے لئے ان کو سوال لکھ کر بھی بھیجا گیا لیکن کوئی جواب عظمت خان نے نہیں دیا اس کے بعد ویڈیو سکینڈل کے دوسرے تحقیقاتی افسر اعجاز شیخ کے حوالے سے تحقیقات کی گئی جن سے یہ واضح ہوا کہ واقعی ان کے خلاف ایف آئی اے کے سپیشل تحقیقاتی سیل نے مقدمہ درج کیا تھا جس کے بعد اعجاز شیخ کو گرفتار کیا گیا اعجاز شیخ ایک ماہ جیل رہنے کے بعد ضمانت پر جیل سے باہر آئے اور اس کے بعد انہوں نے اپنا مقدمہ خود لڑا جبکہ اعجاز شیخ اس وقت انتہائی اہمیت کے حامل کائونٹر ٹیررزم ونگ میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر کام کررہے ہیں جبکہ ویڈیو سکنڈل کے تحقیقاتی افسر بھی ہیں ،اعجاز شیخ سے ہم نے بار بار ان کا موقف جاننے کی کوشش کی لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا اس کے بعد ہم ڈائریکٹر کائونٹر ٹیرزم ونگ اور ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ بابر بخت قریشی کے بارے میں جاننے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ بابر بخت قریشی کو واقعی آئی جی پنجاب نے ان کی بری شہرت اور لینڈ مافیا کو سپورٹ کرنے اور کچھ دوسرے عوامل کی بنیاد پر پنجاب پولیس سے واپس اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بھیجا تھا ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ ایک ایسا افسر جس کی بری شہرت اور قبضہ مافیا کو سپورٹ کرنے کی وجہ سے واپس اسٹیبلشمنٹ ڈویژن بھیجا گیا تھا اسے کائونٹر ٹیرازم ونگ کے سربراہ جیسی اہم سیٹ کیوں دی گئی ۔

بابر بخت قریشی سے ان الزامات کے حوالے سے بات کرنے کی کوشش بار بار کی گئی لیکن انہوں نے میرے سوالات کا جوابات دینے کی بجائے مجھ سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ یہ ناصر بٹ کی طرف سے لکھا جانے والا خط ان کا کہاں سے اور کیسے چلا لیکن انہوں نے اپنے بارے لگائے گئے سنگین الزامات کا کوئی کواب نہیں دیا اس وقت کے قائم مقام ڈائریکٹرجنرل ایف آئی اے ڈاکٹر مجیب الرحمان سے اس خط کے حوالے سے اور بابر بخت قریشی کی تعیناتی کے حوالے سے پوچھا گیا لیکن انہوں نے اس معاملے پر بات کرنے سے معذرت کرلی۔۔شہزاد ملک

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments