حکومت نواز شریف کی صحت پر سیاست نہیں کرنا چاہتی، حکومت دعا گو ہے کہ نواز شریف صحت یاب ہوں

نواز شریف نے ہسپتال منتقلی کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر کی بات بھی نہیں مانی، وہ ہسپتال کے باہر پارٹی کارکنوں کے اکٹھے ہونے، ٹائر جلانے سمیت دیگر لوازمات پورے ہونے کے بعد ہسپتال منتقل ہوئے وزیراعظم عمران خان دنیا میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں مصروف ہیں ،پاکستانی وفد ایف اے ٹی ایف میں ملک کا کیس لڑ رہا ہے ، ایسے میں 27 اکتوبر کے یوم سیاہ پر قومی کاز کو نقصان پہنچانے کی سازش کی جا رہی ہے 27 اکتوبر کو حکومت یوم سیاہ منانے کا اعلان کر چکی ہے، اس کے بعد اس تاریخ کا مقرر کرنا سوچی سمجھی سازش ہے معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی کابینہ اجلاس کے بعد وزیر قانون کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ

منگل اکتوبر 23:55

حکومت نواز شریف کی صحت پر سیاست نہیں کرنا چاہتی، حکومت دعا گو ہے کہ ..
اسلام آباد ۔ 22 اکتوبر (اے پی پی) وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ میاں محمد نواز شریف نے ہسپتال منتقلی کے حوالے سے اپنے ڈاکٹر کی بات بھی نہیں مانی، وہ ہسپتال کے باہر پارٹی کارکنوں کے اکٹھے ہونے، ٹائر جلانے سمیت دیگر لوازمات پورے ہونے کے بعد ہسپتال منتقل ہوئے ، یہ بات سمجھ سے بالا ہے کہ ڈینگی ٹیسٹ نیگیٹو آنے کے باوجود بھی اتنے پلیٹ لیٹس کس طرح گر گئے، وزیراعظم عمران خان دنیا میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں مصروف ہیں اور دوسری جانب پاکستانی وفد ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کا کیس لڑ رہا ہے ، ایسے میں 27 اکتوبر کے یوم سیاہ پر قومی کاز کو نقصان پہنچانے کی سازش کی جا رہی ہے، ملک کو کمزور کرنے کی ہر کوشش کو 22 کروڑ عوام کی طاقت سے روکیں گے، حکومت نواز شریف کی صحت پر سیاست نہیں کر رہی، ان کی اپنی جماعت ہی ان کی صحت کی آڑ میں بھرپور سیاست کر رہی ہے، طے شدہ طریقہ علاج کی پیروی کی جا رہی ہے، حکومت نے علاج کے لئے سہولیات فراہم کر دی ہیں، علاج کا طریقہ کار ان کے ذاتی معالج نے ہی طے کرنا ہے۔

(جاری ہے)

منگل کو وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر قانون و انصاف کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ رات 12 بجے نواز شریف کو جب ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تو اس کے متوازی یہ خبر چل رہی ہے کہ نواز شریف کو زہر دینے کی کوشش کی گئی اور اس کے ساتھ ہی اچانک پارٹی کے کارکنان جھنڈوں کے ہمراہ ہسپتال کے باہر پہنچتے ہیں اور ٹائروں کو آگ لگا کر احتجاج کرتے ہیں، آج بغض عمران پریس کانفرنس میں جو باتیں کی گئیں اس کی مذمت کرتے ہیں، ہمارا اب بھی وہی موقف ہے کہ ایک مریض کو جان بچانے کی فکر ہوتی ہے، اسے پارٹی کارکنوں، جھنڈوں اور ٹائر جلانے سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر یہ پتہ چلا ہے کہ نہاری اور ہڑیسہ کھانے کے بعد طبعیت کو کیا ہوجا تا ہے اور اس کے بعد خون پتلا کرنے والی لوپرین کی دو گولیاں کیوں لی جاتی ہیں،61 سال کی عمر میں ایسی دوائیں نہیں چلتیں جس سے خون کے پلیٹ لیٹس کائونٹ گر جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ پر یقین کی بجائے اپنے ڈاکٹر عدنان پر بہت یقین ہے، نواز شریف انہی کی ایڈوائس پر ہسپتال منتقل ہوئے ہیں، حکومت کے خلاف غیر ذمہ دارانہ بیانات اور سیاست ان کے اپنے بیانیے کی نفی کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے لئے کرپشن ہی بڑا زہر ہے جس کا وہ سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک اور وی وی آئی پی قیدی جیل سے ہسپتال پہنچ گیا ہے، ان کے بیٹے کی جانب سے بار بار نئے انتخابات کی بات کرنا حیرت کی بات ہے، وہ تو اپنے مسکن میں ہی نشان عبرت بن گئے ہیں، تازہ ضمنی نتائج نے ان کی آنکھیں نہیں کھولیں، موجودہ حکومت اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرے گی، پارلیمنٹ کو چلانے کے لئے اپوزیشن آئینی کردار ادا کرنے سے راہ فرار اختیار کرتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک عدالت کے جج کی نامزدگی کے بعد صحت کی خرابی کے باعث جوائن نہ کرنے کی بات کے پیچھے اصل حقیقت یہ ہے کہ جس مافیا کے خلاف ٹرائل ہو رہا ہے اس کا سامنا کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے، جب مافیا سامنے ہو تو بہت سی بیماریاں سامنے آ جاتی ہیں، عمران خان واحد لیڈر ہیں جو اس مافیا کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نواز شریف کی صحت پر سیاست نہیں کرنا چاہتی، حکومت دعا گو ہے کہ نواز شریف صحت یاب ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کرشمے اور معجزے اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہیں، میڈیکل زبان میں جس شخص کا ڈینگی ٹیسٹ نیگیٹو ہو اس کے پلیٹ لیٹس اتنی جلدی نہیں گرتے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کا مارچ اور دھرنے کی تاریخ 27 اکتوبر رکھنا سمجھ سے بالاتر ہے، 27 اکتوبر کو حکومت یوم سیاہ منانے کا اعلان کر چکی ہے اس کے بعد اس تاریخ کا مقرر کرنا ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔

وفاقی وزیر قانون و انصاف ڈاکٹر فروغ نسیم نے رانا ثناء اللہ کے کیس کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ایک اچھی شہرت کے حامل جج کو انسداد منشیات عدالت کے لئے نامزد کیا لیکن بعد ازاں رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے بتایا گیا کہ مذکورہ جج نے صحت کی وجہ سے چارج نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، دوسرے جج کی نامزدگی چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے بھجوا دی ہے، وہ عمل ابھی جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے آدمی کی زندگی کو بہتر بنانے اور تیز رفتار انصاف کے لئے مختلف آرڈیننس جاری کئے ہیں اس میں ایک آرڈیننس یہ بھی ہے کہ جس شخص کے خلاف پانچ کروڑ سے زائد کرپشن کا کیس ہو گا اسے جیل میں سی کلاس دی جائے گی، یہ آرڈیننس فوری طور پر نافذ العمل ہو گا، جو مقدمات چل رہے ہیں یا زیر سماعت ہیں یا نئے داخل ہونے والے ہیں ان سب پر یہ لاگو ہو گا۔

انصاف کی فراہمی کے لئے لیگل اینڈ جسٹس اتھارٹی کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عنقریب نادرا کو اپنا ڈیٹا شماریات سمیت دیگر اداروںکے ساتھ لنک کرنا ہو گا جس سے ڈومیسائل کی ضرورت اور کرائم پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ شفافیت بھی آئے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیب اصلاحات ختم نہیں ہوئیں بلکہ ان پر اسی طرح بھرپور انداز میں کام جاری ہے، جلد نیب اصلاحات سامنے لائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کے حوالے سے ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے جو کاروباری شخصیات پر کیسز کو دیکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے انصاف کی فوری رسائی کے لئے مختلف آرڈیننس کی طرح کریمنل قوانین میں بھی ترامیم لانے کی ہدایات دی ہیں، چیف جسٹس سپریم کورٹ آصف سیعد کھوسہ کی قیادت میں مختلف سفارشات سامنے آئی ہیں، یہ معاملہ پیچیدہ ہے لیکن انشاء اللہ اس کو بھی حل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی تعداد چھ سے بڑھا کر نو کرنے کے لئے چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف جسٹس ہائی کورٹ سے بھی مشاورت کی، سب نے اس کوشش کو سراہا لیکن جب یہ معاملہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف سے منظوری کے بعد سینیٹ میں گیا تو اپوزیشن ممبران کی تعداد زیادہ ہونے کے باعث یہ قانونی سازی مسترد کر دی گئی۔ اپوزیشن کی جانب سے یہ قدم نا مناسب ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آٹھ آرڈیننس کی مدت مکمل ہونے کے بعد انہیں پارلیمنٹ لانا ہو گا، اگر پارلیمنٹ میں اپوزیشن ایسا ہی رویہ رکھے گی تو ایک مرتبہ پھر اپوزیشن عوام کے سامنے بے نقاب ہو گی۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments