فاٹا، پاٹا ایکٹ آرڈیننس کیس،یہ موجودہ دور کا سب سے بڑا آئینی مقدمہ ہے، سپریم کورٹ

کئی ہزار خاندانوں کا مستقبل اس کیس سے جڑا ہے،امریکہ نے گوانتاناموبے جیل اپنی حدود سے باہر غیر ملکیوں کیلئے بنائی، ہم نے اپنے ملک کے شہریوں کو ہی حقوق سے محروم کردیاہے، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ریمارکس

جمعہ نومبر 00:06

فاٹا، پاٹا ایکٹ آرڈیننس کیس،یہ موجودہ دور کا سب سے بڑا آئینی مقدمہ ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 نومبر2019ء) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاہے کہ فاٹا، پاٹا ایکٹ آرڈیننس کیس موجودہ دور کا اہم ترین اور سب سے بڑا آئینی مقدمہ ہے، کئی ہزار خاندانوں کا مستقبل اس کیس سے جڑا ہے،امریکہ نے گوانتاناموبے جیل اپنی حدود سے باہر غیر ملکیوں کیلئے بنائی، ہم نے اپنے ملک کے شہریوں کو ہی حقوق سے محروم کردیاہے۔

جمعرات کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے فاٹا، پاٹا ایکٹ آرڈیننس سے متعلق کیس کی سماعت کی۔حکومت نے حراستی مراکز سے متعلق سربمہر تفصیلات عدالت میں پیش کیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ موجودہ دور کا اہم ترین اور سب سے بڑا آئینی مقدمہ ہے، کیا معلوم کتنے ہزار لوگ حراست میں ہیں ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ پہلے آرڈیننس کی آئینی حیثیت کا جائزہ لیں گے، زیر حراست افراد کا معاملہ آخر میں دیکھیں گے جبکہ وزارت دفاع کا جواب آنے پر ہی فوج کے مینڈیٹ کا اندازہ ہوگا۔چیف جسٹس کے 2008 میں فوج کو طلب کرنے کے مقصد سے متعلق استفسار پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ فوج کو سول انتظامیہ کی مدد کیلئے بلایا گیاتھا، حراستی مراکز 2011 میں بنے جبکہ جولائی 2015 میں بھی فوج کو طلب کیا گیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کئی ہزار خاندانوں کا مستقبل اس کیس سے جڑا ہے۔اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کروڑوں لوگوں کے تحفظ کیلئے چند افراد کو حراست میں رکھا گیا جبکہ کسی کو حراست میں رکھنا سزا نہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کی اس بات پر حیرت ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ پھر تو عدالتوں سے بری ہونیوالوں کو بھی حراستی مراکزمیں رکھ لیں، ایسا قانون ہے تو ٹرائل کی کیا ضرورت ،کروڑوں لوگوں کے تحفظ کیلئے ایک بھی بلاوجہ گرفتار ہوا تو اس شخص کا ساتھ دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے گوانتاناموبے جیل اپنی حدود سے باہر غیر ملکیوں کیلئے بنائی، ہم نے اپنے ملک کے شہریوں کو ہی حقوق سے محروم کردیا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ جنگی جرائم کا معاملہ بالکل الگ ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا نبی کریم ؐ کے دور میں بھی ایسے قوانین بنائے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام قیدیوں کو بھی تحفظ فراہم کرتاہے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 15 نومبر تک ملتوی کردی۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments