حکومت نے نوازشریف کی صحت پر ہرمرحلے پر آسانی فراہم کی،حکومت نوازشریف کی صحت کا معاملہ کابینہ میں لے کر گئی، افسوس اس بات کا ہے کہ شورٹی بانڈ پر واویلا کیاگیا، وزیراعظم کی کاوشوں سے ملک معاشی استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے، معاشی ٹیم کی محنت اور لگن سے معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا کردیا گیا ہے، نواز شریف کے حوالے سے جو فیصلہ آیا ہے اس میں بھی عدالت نے شورٹی مانگی ہے جو بہت زیادہ آئینی اور قانونی انڈر ٹیکنگ ہے،شریف خاندان نے حکومت کے جذبہ خیر سگالی کی تعریف کی بجائے الزام تراشی شروع کردی، نوازشریف کا انسانی اور قانونی مسئلہ ہے سیاسی نہ بنایا جائے، شریف خاندان نے ہمیشہ اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے،ماضی میں بھی شریف خاندان اپنے کئے گئے معاہدوں کو جھٹلاتا رہا ہے

وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی اٹارنی جنرل انورمنصور خان کے ہمراہ پریس کانفرنس

ہفتہ نومبر 23:48

حکومت نے نوازشریف کی صحت پر ہرمرحلے پر آسانی فراہم کی،حکومت نوازشریف ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 16 نومبر2019ء) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ حکومت نے نوازشریف کی صحت پر ہرمرحلے پر آسانی فراہم کی،حکومت نوازشریف کی صحت کا معاملہ کابینہ میں لے کر گئی، افسوس اس بات کا ہے کہ شورٹی بانڈ پر واویلا کیاگیا، وزیراعظم کی کاوشوں سے ملک معاشی استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے، معاشی ٹیم کی محنت اور لگن سے معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا کردیا گیا ہے، نواز شریف کے حوالے سے جو فیصلہ آیا ہے اس میں بھی عدالت نے شورٹی مانگی ہے جو بہت زیادہ آئینی اور قانونی انڈر ٹیکنگ ہے،شریف خاندان نے حکومت کے جذبہ خیر سگالی کی تعریف کی بجائے الزام تراشی شروع کردی، نوازشریف کا انسانی اور قانونی مسئلہ ہے سیاسی نہ بنایا جائے، شریف خاندان نے ہمیشہ اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے،ماضی میں بھی شریف خاندان اپنے کئے گئے معاہدوں کو جھٹلاتا رہا ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ(پی آئی ڈی ) میںاٹارنی جنرل انورمنصور خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ معاون خصوصی نے کہا کہ محمد نواز شریف کے حوالے سے ایک عدالتی فیصلہ جس پر پوری قوم اور ملک کی نظریں مرکوز تھیں معزز عدالت نے نوازشریف کی درخواست پر فیصلہ ہفتہ کو سنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے خوشدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف نوازشریف کو میڈیکل بورڈ کی سہولت فراہم کی بلکہ حکومت نے اس حوالے سے سفارشات بھی دیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ محمد نواز شریف کا بہتر علاج و معالجہ پاکستان میں کرایا جائے اور اس حوالے سے تمام سہولیات دستیاب ہیں۔ بدقسمتی سے حکومت کی نیت پر بے بنیاد شک کیا گیا اور انتقام پسندی کا تاثر دیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے حکومت کے تمام ترجمانوں کو نوازشریف کی صحت پر بیان دینے سے منع کرتے ہوئے انہیں ہدایت کی کہ نواز شریف کی صحت حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے نوازشریف کی صحت پر ہرمرحلے پر آسانی فراہم کی،حکومت نوازشریف کی صحت کا معاملہ کابینہ میں لے کر گئی، افسوس اس بات کا ہے کہ شورٹی بانڈ پر واویلا کیاگیا۔ مسلم لیگ (ن) ہمیشہ اپنے کئے ہوئے وعدوں سے منکر رہی ہے، حکومت گارنٹی کے طور پر تمام آئینی اور قانونی پہلو میڈیا کے سامنے رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے محمد نواز شریف کے حوالے سے جو اقدام اٹھایا ہے اس کو سراہنے کی بجائے الزام تراشی کی گئی اور وزیراعظم عمران خان کی کردار کشی بھی کی گئی جو انتہائی افسوسناک ہے۔

مسلم لیگ ن نے ہمیشہ اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے،ماضی میں شریف خاندان اپنے کئے گئے معاہدوں کو جھٹلاتا رہا ،معاون خصوصی نے کہا کہ حکومت کا موقف تھا کہ نوازشریف کی صحت دیکھتے ہوئے انہیں فوراً جانے دیا جائے، شریف فیملی نے حکومت کے جذبہ خیر سگالی کی تعریف کی بجائے الزام تراشی شروع کردی۔معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے سیاسی پنجہ آزمائی کرتی ہیں،سیاسی حریفوں کے منفی ردعمل پر افسوس ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نیک انسان ہیں عوام کا دکھ درد رکھتے ہیں،وزیراعظم کی کاوشوں سے ملک معاشی استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے۔وزیراعظم کی معاشی ٹیم کی محنت اور لگن سے معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا کر دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ کروڑوں پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے ساتھ امید لگا کر بیٹھے ہیں کہ وہ ملک کو اندھیروں سے نکال کر معاشی لحاظ سے پاکستان کو مضبوط کریں گے۔

عوام وزیراعظم کو پاکستان کا چراغ سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو پاکستان لانا ہے تاکہ ملک مزید ترقی کرے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عدالت کے اندر پچاس روپے کا اسٹام پیپر ہو یا پچاس کروڑ کا وہ آئینی اور قانونی بانڈز کی حیثیت رکھتا ہے۔ کابینہ نے محمد نواز شریف کو باہر علاج کیلئے چار ہفتے کی اجازت دی تھی تاہم حکومت ان سے گارنٹی یا شورٹی بانڈز کی شکل میں مانگ رہی تھی، اب جو فیصلہ آیا ہے اس میں بھی عدالت نے شورٹی مانگی ہے جو بہت زیادہ آئینی اور قانونی انڈر ٹیکنگ ہے، یہ اگر سیاسی مسئلہ ہوتا تو سیاست دان حل کرتے یہ ایک انسانی مسئلہ تھا اس حوالے سے وزیراعظم نے بہترین لچک دکھائی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کور کمیٹی پارٹی کی ریڑھ کی ہڈی ہے جو قومی اور عالمی چیلنجز ہوتے ہیں وہ اس پر ڈسکس کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا کا بیانیہ قابل افسوس تھا، ان کی تمام تقاریر میں وزیراعظم کی ذات پر الزام تراشی کی گئی، کور کمیٹی نے اس کی مذمت کی ہے اور یہ فیصلہ کیا ہے کہ قانون کے مطابق کس طرح لائحہ عمل تیار کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تحریری فیصلہ آنے کے بعد اٹارنی جنرل اس حوالے سے آئینی اور قانونی نکتہ نظر رکھیں گے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ انسانی ہمدردی کو قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے،نواز شریف کی صحت کے حوالے سے ایک عمل حکومت نے اٹھایا اس کی پذیرائی منفی انداز میں بیان کی گئی وہ قابل افسوس ہے۔وزیراعظم ایک نیک انسان ہیں وہ لوگوں کا دکھ درد دل میں رکھتے ہیں۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا ہے کہ نواز شریف پر ایک فیصلے میں سات ارب روپے ہرجانہ عائد کیا گیا ہے اور انہوں نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہوئی ہے سزا صحیح ہے یا نہیں، یا تو وہ فیصلہ کالعدم ہوگا یا درست تاہم فیصلہ ابھی برقرار ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے نواز شریف کے حوالے سے جو اقدامات اٹھائے ان کی تمام تر تفصیلات سے معاون خصوصی نے آگاہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے ضمانت مانگی تو سوالات اٹھے کہ ضمانت دی جائے یا نہیں کیوں کہ نیب لا کے تحت ملزم کی سزا معطل نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی ضمانت دی جاسکتی ہے تاہم دیگر لاز میں ضمانت ممکن ہے۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ معاملہ عدالت میں آنے پر حکومت نے باہر جانے پر اعتراض نہیں کیا تاہم وہ کوئی نہ کوئی ضمانت چاہتی ہے کیوں کہ پہلے بھی نواز شریف نے دیے گئے بانڈز پر عمل درآمد نہیں کیا، ضمانت کے بعد وہ ہسپتال کے بجائے گھر چلے گئے اور اسے آئی سی یو بنالیا۔

بعد ازاں بیرون ملک جانے کی درخواست فائل کردی جس پر ہم نے اعتراض عائد کیا کہ جس عدالت میں مقدمہ ہو درخواستیں اسی عدالت میں جانی چاہئیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نے آج کے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل فائل نہیں کی ہمیں ان کے باہر جانے پر نہیں بلکہ بغیر بانڈز کے باہر جانے پر اعتراض ہے جس کی ہم نے لاہور ہائی کورٹ میں بھی مخالفت کی تاہم ہائی کورٹ نے انہیں باہر جانے کی اجازت دے دی جو کہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی ہے تاہم سزا و جرمانہ برقرار ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کو انڈر ٹیکنگ دینا معمولی بات نہیں اس کا ذکر فیصلہ میں بھی ہوگا، خلاف ورزی پر نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف 61 (2) بی کی کارروائی ہوسکتی ہے، آج کی درخواست کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد اپنے رائے کابینہ کے سامنے پیش کروں گا فیصلے کے خلاف اپیل کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ کابینہ کی صوابدید پر منحصر ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اٹارنی جنرل نے کہا کہ سب کمیٹی کا مینڈیٹ واضح تھا کہ سب کو اکٹھا کرکے موقف کابینہ کے اندر پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ میں حکومت کے موقف کو رد نہیں کیا گیا ہے‘ اس فیصلہ کے بعد وزارت داخلہ میں نواز شریف کے باہر جانے کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں غریب اور امیر کا معیار یکساں ہونا چاہئے۔

بہت سارے ایسے قیدی ہیں وہ شدید بیمار ہیں اور کینسر اور ٹی بی جیسی بیماریوںمیں مبتلا ہیں۔ نوازشریف اور ان کی فیملی کو زیادہ ریلیف ملتا رہا، سب کو ایک ہی سطح پر لانا چاہئے اور سب کو یکساں انصاف ملے، قانون سب کیلئے برابر ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف کے باہر جانے کے ہم مخالف نہیں۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments