پاکستان میں انرجی سیکٹر میں بیرونی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، مسٹر الرڈ نوئے

حکومت نے پاور سیکٹر میںنجی شعبے کی شراکت کیلئے ساز گار ماحول فراہم کیاہے، شرکاء کانفرنس کا اظہار خیال

اتوار فروری 20:15

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 فروری2020ء) پاکستان میں انرجی سیکٹر میں بیرونی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں، انرجی کے شعبے میں نجی کمپنیاں پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کرکے انفراسٹرکچر ڈیویلپمنٹ میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں اور گھریلو اور کمرشل سطح پر توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوسکتی ہیں۔

یہ بات سی ای او انفراکو ایشیاء مسٹر الرڈنوئے نے اسلام آباد میں انرجی ریفارم سمٹ کے موقع پر انرجی پراجیکٹس کے بارے میں بریفننگ دیتے ہوئے کہی۔ انہوںنے کہاکہ حکومت پاکستان نے سرمایہ کاری کے بہترین مواقع اور سہولیات فراہم کی ہیں جن سے نجی ادارے مستفیدد ہوسکتے ہیں اور انرجی پراجیکٹس کے لئے پاکستان میں سرمایہ کر سکتی ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ وہ ان کا ادارہ رنیوایبل انرجی ، ہائیڈرو پاور اور سالڈ ویسٹ سے بجلی تیار کرنے کے منصوبوںمیں مہارت رکھتا ہے اور اب تک لا تعداد منصوبے مکمل کر چکا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے پاکستان میں پرائم کے نام سے جاری پراجیکٹ میں بجلی کی فراہمی کے منصوبے کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہاکہ دورہ پاکستان کے موقع پر وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان، وزیر مملکت اور چیئرمین انوسٹمنٹ بورڈ اور اعلی حکام سے ہونے والی ملاقاتون کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں بجلی کی قومی ضروریات پوری کرنے کیلئے حکومت نے پاور سیکٹر میںنجی شعبے کی شراکت کیلئے ساز گار ماحول فراہم کیاہے اور حکومت پاکستان کی ان سنجیدہ کاوشوں کی بدولت بیرون ممالک سے نجی ادارے پاور سیکٹر میں سرمایہ کاری کے لئے پاکستان کا رخ کر رہی ہیں۔

مسٹر الرڈ نوئے نے کہاکہ اپنے دورہ پاکستان کے دوران وہ سوات خیبر پختونخواہ میں ہائیڈرو پاور پلیٹ فارم کی فزیبلٹی اور پاکستان میں توانائی کے لئے موزوں مقاما ت پر سرمایہ کاری کے امکانات کا بھی جائزہ لیں گے۔ نرجی ریفارم سمٹ میں رچررڈ کراوڈر، ڈپٹی ہائی کمشنراولیویاکیمپ بیل، ڈپٹی ڈائریکٹر ٹریڈ ، ہالینڈ کے سفیر ، کویت کے سفیر الرڈ مارک نوئے اور سی ای او افریقکو ایشیاء احمد نجیب اور دیگر ماہرین نے بھی شرکت کی۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments