سابق اٹارنی جنرل انور منصور کو ہٹوانے میں بیرسٹر فروغ نسیم اور شہزاد اکبر کا بڑا کردارتھا

وفاقی وزیرقانون اپنا اٹارنی جنرل لانا چاہتے تھے لیکن اس پر وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مخالفت کی گئی اور انور منصور کا عہدہ دیا گیا جس پر انکے آپس میں شدید اختلافات تھے: سینئر صحافی عارف یعقوب خان کا انکشاف

Usama Ch اسامہ چوہدری جمعہ فروری 23:12

سابق اٹارنی جنرل انور منصور کو ہٹوانے میں بیرسٹر فروغ نسیم اور شہزاد ..
اسلام آباد (اردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین 21 فروری 2020) : ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے سینئرصحافی عمران یعقوب نے انکشاف کیا ہے کہ سابق اٹارنی جنرل انور منصور کو ہٹوانے میں بیرسٹر فروغ نسیم اور شہزاد اکبر کا بڑا کردارتھا۔ اںھوں نے کہا کہ وفاقی وزیرقانون اپنا اٹارنی جنرل لانا چاہتے تھے جو کہ کراچی سے تھے انکا نام عابد زبیری ہے، لیکن اس پر وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مخالفت کی گئی اور انور منصور کا عہدہ دیا گیا جس پر انکے آپس میں شدید اختلافات تھے اور اس کے نتیجے میں انورمنصور صاحب سے استعفیٰ دیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل انور منصور نے استعفیٰ دے دیا تھا جس کو آج صدرمملکت نے منظور کرلیا ہے جبکہ حکومت نے خالد جاوید کو نیا اٹارنی جنرل بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

(جاری ہے)

گزشتہ روز استعفیٰ دیتے ہوئے انور منصور نے استعفیٰ صدر مملکت کو بھیج دیا جس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ مجھ سے پاکستان بار کونسل نے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا۔

پاکستان بار کونسل نے اٹارنی جنرل انور منصور اور وزیر قانون فروغ نسیم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے دوران اٹارنی جنرل بیرسٹر انور منصور کے مبینہ متنازع بیان پر پاکستان بار کونسل نے اٹارنی جنرل انور منصور اور وزیر قانون فروغ نسیم کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی۔

اس موقع پر انور منصور نے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا کہ پاکستان بار کونسل نے ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا تھا اس لئے میں نے استعفیٰ دے دیا۔ آج وزیراعظم عمران خان نے خالد جاوید خان کو اٹارنی جنرل بنانے کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد وزارت قانون کو تعیناتی کی سمری تیار کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ عمران خان کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ تعیناتی کی سمری تیار کر کے صدر مملکت کو بھیجی جائے گی اور صدر مملکت کی منظوری کے بعد نوٹیفیکشن جاری کیا جائے گا۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments