آئی ایم ایف مشن نے پاکستان کو45 کروڑڈالرقسط جاری کرنےکی منظوری دےدی

قسط جاری کرنےکی حتمی منظوری آئی ایم ایف کا ایگزیکٹیو بورڈ دےگا، ایگزیکٹیوبورڈ کا اجلاس اپریل کے شروع میں متوقع ہے۔ اعلامیہ آئی ایم ایف

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات فروری 20:00

آئی ایم ایف مشن نے پاکستان کو45 کروڑڈالرقسط جاری کرنےکی منظوری دےدی
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 27 فروری 2020ء) آئی ایم ایف مشن نے پاکستان کو45 کروڑ ڈالرقسط جاری کرنے کی منظوری دے دی، قسط جاری کرنے کی حتمی منظوری آئی ایم ایف کا ایگزیکٹیو بورڈ دے گا، ایگزیکٹیوبورڈ کا اجلاس اپریل کے شروع میں متوقع ہے۔ اعلامیہ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان قرض کی اگلی قسط کے اجراء کیلئے مذاکرات مکمل ہوگئے ہیں۔

آئی ایم ایف مشن نے پاکستان کو45 کروڑ ڈالرقسط جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ پاکستان کو بیل آؤٹ پیکج کی اگلی قسط جاری کرنے کی حتمی منظوری آئی ایم ایف کا ایگزیکٹیو بورڈ دے گا۔ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیوبورڈ کا اجلاس اپریل کے شروع میں متوقع ہے۔ دوسری جانب رواں مالی سال کے دوران پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے منافع جات کی منتقلی میں 3.12 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

(جاری ہے)

سٹیٹ بینک آف پاکستان ( ایس بی پی) کے اعداد وشمار کے مطابق جاری مالی سال کے ابتدائی سات ماہ میں جولائی تا جنوری 2019-20ء کے دوران پاکستان میں کی گئی غیر ملکی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے 946.6 ملین ڈالر کے منافع جات کی بیرون ملک منتقلی کی گئی جبکہ گزشتہ مالی سال میں جولائی تا جنوری 2018-19ء کے دوران غیر ملکی کمپنیوں نے ملک میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے 917.9 ملین ڈالر کے منافع جات اپنے اپنے ملک کو منتقل کئے تھے۔

اس طرح گزشتہ مالی سال کے مقابلہ میں رواں مالی سال کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافع جات کی بیرون ملک منتقلی 28.7 ملین ڈالر یعنی 3 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایس بی پی کے مطابق جنوری 2020ء کے دوران منافع جات کی منتقلی میں 33.63 فیصد کمی ہوئی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 110.3 میلن ڈالر کے منافع جات اپنے اپنے ممالک کو کو بھیجے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جولائی تا جنوری 2019-20ء کے دوران سب سے زیادہ منافع جات کی منتقلی تیل و گیس کی تلاش کے شعبہ سے کی گئی جس کا حجم 181.3 ملین ڈالر تک بڑھ گیا جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران شعبہ سے 129.2 ملین ڈالرز منتقل کئے گئے تھے۔ اسی طرح فنانشل سیکٹر سے حاصل منافع جات کی منتقلی 136.8 ملین ڈالر کے مقابلہ میں 157 ملین ڈالر جبکہ ٹرانسپورٹ کے شعبہ سے 35.9 ملین ڈالر کے مقابلہ میں 139.7 ملین ڈالرز کے منافع جات کی منتقلی کی گئی ہے۔

ایس بی پی کے مطابق جاری مالی سال کے دوران برطانیہ کی سرمایہ کار کمپنیوں نے سب سے زیادہ منافع جات کی منتقلی کی ہے اور برطانوی سرمایہ کار کمپنیوں کی جانب سے منقل کئے گئے منافع جات کا حجم 218.2 ملین ڈالر تک بٖڑ ھ گیا جبکہ گزشتہ مالی سال میں اس عرصہ کے دوران 181.5 ملین ڈالرز کے منافع جات کی برطانیہ منتقلی کی گئی تھی۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments