سپریم کورٹ نے ئی کورٹ کے فیصلے جے خلاف ایف بی آر کی اپیل خارج قرار دے دی

ایف بی آر کے انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ میں عرصہ تیرہ سال سے ایکٹنگ چارج پر کام کرنے والے محمد اسلم خان کومستقل کرنے کی ہدایت ایک ملازم کو اتنے عرصے تک ایکٹنگ چارج پر رکھنا آپ کی غلطی ہے،چیف جسٹس ایف بی آر حکام پر برہم

پیر ستمبر 20:59

سپریم کورٹ نے ئی کورٹ کے فیصلے جے خلاف ایف بی آر کی اپیل خارج قرار دے ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 21 ستمبر2020ء) سپریم کورٹ نے ایف بی آر کے انٹیلی جنس ڈیپارٹمنٹ میں عرصہ تیرہ سال سے ایکٹنگ چارج پر کام کرنے والے محمد اسلم خان کومستقل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے جے خلاف ایف بی آر کی اپیل خارج قرار دے دی ہے۔ معاملہ کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ایف بی آر حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہ ہوئے کہا کہ ایک ملازم کو اتنے عرصے تک ایکٹنگ چارج پر رکھنا آپ کی غلطی ہے آپ زمہ دار ہیں، کلکٹر، ڈپٹی کلکٹر یہ سب آرام سے بیٹھے ہوئے ہیں، ان ساری چیزوں کو نوٹ کریں گے اور فیصلے میں لکھ دیں گے،2007 سے ایک شخص کام کر رہا ہے اور اس کو اب تک ایکٹنگ چارج کی وجہ سے پروموشن نہیں ملی،آپ کے پاس لائ موجود تھا تو اس پر ایکشن کیوں نہیں لیا۔

(جاری ہے)

جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ ایک شخص 13 سال سے ایکٹنگ چارج پر ہے تو کیا یہ انصاف ہے، درخواست گزار محمد اسلم خان منصور سے تو سنئیر تھا۔ ایف بی آر کے وکیل نے اس موقع پر موقف اپنایا کہ لائ موجود تھا اسی وجہ سے انہیں ایکٹنگ چارج پر رکھا گیا،جس ملازم کا یہ زکر کر رہے ہیں وہ دس فیصد کوٹے میں آیا تھا۔ عرصہ تیرہ سال سے ایکٹنگ چارج پر کام کرنے والے ایف بی آر کے ملازم محمد اسلم خان کے وکیل شعیب شاہین نے اس موقع پر دلائل دئیے کہ محمد اسلم خان 2007 میں بھرتی ہوا تاحال انٹیلیجنس ڈیپارٹمنٹ ایف بی آر میں ایکٹنگ چارج پر کام کر رہا ہے،مجھ سے جو جونئیر تھا اسے پروموشن بھی دی گئی۔

عدالت عظمیٰ نے ڈیپارٹمنٹل اپیل خارج کرتے ہوئے ملازم محمد اسلم خان کو ریگولر کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا ہے۔۔۔۔توصیف

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments